’آرائشی روشنیاں وائی فائی کی رفتار پر اثرانداز ہوتی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آف کوم کا کہنا ہے کہ کرسمس کی سجاوٹ کے لیے لگائی جانے والی روشنیاں بھی وائی فائی کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہیں

برطانیہ میں مواصلات پر نظر رکھنے والے ادارے آف کوم نے کہا ہے کہ کرسمس کے پیڑ پر سجاوٹ کے لیے لگائی جانے والی روشنی سے وائی فائی کے سگنل کمزور پڑ سکتے ہیں۔

یہ اعلان ادارے کی جانب سے اس ایپ (ایپلکیشن) کے اجرا کے موقع پر سامنے آیا ہے جو گھروں میں نصب براڈ بینڈ کی رفتار کی جانچ کر سکتا ہے۔

یہ ایپ وائرلیس سگنلز کے نمونے حاصل کر تا ہے تاکہ یہ دیکھ سکے کہ آیا راؤٹر سے فون، ٹیبلیٹ یا کمپیوٹر تک انٹرنیٹ کی رسائی میں کوئی خلل تو نہیں پہنچ رہا ہے۔

اس ایپ کی ریلیز کے ساتھ ایک تحقیق کے نتائج بھی جاری کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ 60 لاکھ گھروں اور دفتروں میں جو وائی فائی نظام نصب ہیں وہ اس قدر تیزی سے کام نہیں کر رہے ہیں جس قدر تیز ہونے چاہییں۔

اس ایپ سے لوگوں کو یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ آخر کون سی چیز ان کے وائی فائی کی رفتار میں مخل ہو رہی ہے۔

آف کام نے ایک بیان میں کہا کہ یہ رخنے یا خلل بےبی مانیٹر، مائکروویو یا فیئری لائٹ جیسی الیکٹرانک چیزوں سے پڑ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINSTOCK
Image caption برطانیہ میں سپرفاسٹ بروڈ بینڈ کے صارفین میں اضافہ ہوا ہے

آف کوم نے کہا ہے کہ برطانیہ میں ٹیلی کام سروسز میں ’بہتری آئی ہے‘ اور رواں سال برطانیہ کے 27 فی صد گھروں میں سپر فاسٹ براڈ بینڈ ہے جو 30 میگابائٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے کام کرتا ہے۔

آف کوم کی سنہ 2015 کی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ جہاں زیادہ رفتار والے براڈ بینڈ ہیں وہاں کام بھی زیادہ ہو رہا ہے۔

زیادہ تیز کنکشن والے لوگ کیچ اپ ٹی وی سرو‎سز، آن لائن فلم رینٹل سروسز اور ویڈیو کالز کی خدمات زیادہ حاصل کر رہے ہیں۔

زیادہ رفتار والے براڈ بینڈ کے روز افزوں استعمال کے باوجود آف کوم کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ’مزید کام کیے جانے کی ضرورت ہے۔‘

بہرحال رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 24 لاکھ گھروں میں ابھی بھی دس میگابائٹ فی سیکنڈ سے زیادہ رفتار والے کنکشن نہیں ہیں اور یہ گھر عام طور پر دیہی علاقوں میں ہیں۔

اسی بارے میں