ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس: ’معاہدے کے مسودے کا متن منظور‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں جنھیں حل کرنے کی ضرورت ہے: فرانس

پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اقوامِ متحدہ کی کانفرنس کے شرکا نے ایک تحریری ڈرافت کے متن کی منظوری دی ہے جس کی مدد سے دنیا بھر میں کاربن کے اخراج کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے معاہدے کے مسودے کی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کا کامیابی سے تب ہی مقابلہ کیا جا سکتا ہے جب دنیا اپنے علاقائی مفادات کو شکست دے۔

کوئلے کے منصوبے سے عالمی حدت کا خطرہ

48 صفحات پر مشتمل اس مسودے پر وزارتی اجلاس میں پیر کو بحث کی جائےگی۔ اور کوشش کی جائے گی کہ آئندہ ہفتے کے آخیر تک ایک جامع اتفاق رائے ہو جائے۔

ادھر فرانسیسی وزیر برائے موحولیات نے خبردار کیا ہے کہ اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں جنھیں حل کرنے کی ضرورت ہے۔

فرانس نے 195 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل اس کانفرنس کے لیے سنیچر کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

مشکل فیصلے

Image caption بہت سے ممالک کو جمعے کو منظور ہونے والی دستاویز پر تحفظات ہیں

بہت سے اراکین نے یہ بتایا ہے کہ کم ازکم وہ چار سال کے مذاکرات کے بعد ایک نقطے پر پہنچ گئے ہیں۔

اس مسودے میں وزرا کے لیے بہت سے آپشنز ہیں جن سے پتہ چلےگا کہ طویل المدتی اہداف کیسے ہونے چاہیے۔ یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ کس پیمانے پر اور کس طرح غریب ممالک کے ماحول کے لیے اخراجات بڑھائے جائیں۔

بہت سے مشکل معاملات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شرکا کواختلافات کو بھی دیکھنا ہوگا۔ بہت سے ممالک اپنا راستہ بدلنے سے گریزاں ہیں اور وہ ترقی پزیر اور ترقی یافتہ ممالک میں تقسیم ہو چکے ہیں۔

بہت سے امیر ممالک یہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ وہ کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے اہداف پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور وہ ماحول کے لیے ڈونر کی حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔

130 ترقی پذیر ممالک کی جانب سے رائے دیتے ہوئے نوزیفو مکاتو ڈاسیکو نے کہا کہ پیرس کانفرنس کے نتائج کو قوانین کے مطابق ہونا چاہیے اور اس کے فیصلوں کی نہ تو دوبارہ سے تشریح کی جائے اور نہ ہی انھیں دوبارہ لکھا جائے۔

بتایا گیا ہے کہ مذاکرات کرنے والوں کو امید ہے کہ اگلے ہفتے کے آخر تک وہ بہت آگے پہنچ سکیں گے کیونکہ انھوں نے جن 50 صفحات کے ساتھ آغاز کیا تھا وہ اب 36 تحریری صفحات تک پہنچ گئے ہیں۔

بہت سے ممالک کو جمعے کو منظور ہونے والی دستاویز پر تحفظات ہیں۔

اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اس معاہدے میں بہت مفاہمت کرنی پڑے گی کیونکہ بہت کچھ وزرا پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں