خواتین کی ای میلز ہیک کرنے پر امریکی اہلکار کو سزا

ایک سابق امریکی اہلکار نے خواتین کی ای میلز ہیک کرنے، ان کا پیچھا کرنے اور ان سے جنسی مواد وصول کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔

لندن میں قائم امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والے مائیکل فورڈ نے سائیبر سٹاکنگ سمیت کمپیوٹر ہیکنگ کے نو طرح کے جرائم کا اعتراف کیا ہے۔

مائیکل فورڈ نے امریکی یونیورسٹیوں میں خواتین کی تنظیموں کے ارکان اور ماڈلز کو شکار بنایا۔

انھوں نے خواتین کی تنظیموں کی ای میلز ہیک کرنے کے بعد ان سے حاصل ہونے والی معلومات کے ذریعے نئے شکار تلاش کیے۔

امریکی ریاست جارجیا سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ فورڈ نے خود کو ایک معروف ای میل کمپنی کا ٹیکنیکل سپورٹ سٹاف کا رکن ظاہر کرتے ہوئے ممکنہ افراد کو ہزاروں پیغامات بھیجے۔

مائیکل فورڈ خود کو فرضی اکاؤنٹ منسوخی ٹیم کا رکن ظاہر کرتے ہوئے لوگوں سے کہتے تھے کہ ان کے اکاؤنٹ اس وقت تک بند نہیں کیے جا سکتے جب تک وہ انھیں اپنے پاس ورڈ نہ بھیجیں۔

اس کے بعد انھوں نے ان افراد کی ذاتی معلومات اور جنسی تصاویر کی تلاش میں ان کے ای میلز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی۔ ان معلومات میں ان افراد کے گھروں اور دفاتر کے پتے، نوکری کی معلومات اور ان کے خاندان کے ارکان کی معلومات شامل تھیں۔

مائیکل فورڈ نے یہ معلومات استعمال کر کے ان افراد سے مزید جنسی مواد کا مطالبہ کیا۔

اگر وہ افراد جب انھیں جنسی مواد فراہم کرنے سے انکار کرتے تو وہ انھیں ’فکر نہ کرو، میں سب جانتا ہوں تم کہاں رہتے ہو‘ جیسی دھمکیاں دیتے۔

امریکی اہلکار ان خواتین کی جنسی تصاویر کو آن لائن پوسٹ کرنے کے بعد انھیں ان کے دوستوں اور خاندان کو بھی بھیجتے تھے۔

مائیکل فورڈ نے لندن میں قائم امریکی سفارت خانے میں کام کرتے ہوئے جنوری سنہ 2013 سے لے کر مئی سنہ 2015 کے دوران کم سے کم 200 افراد کے 400 سے زائد آن لائن اکاؤنٹ ہیک کیے اور 1,300 پیغامات خود کو فارورڈ کیے۔

مائیکل فورڈ کو مئی میں اٹلانٹا ایئر پورٹ پر لندن جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور ان پر اگست میں مقدمہ دائر کیا گیا۔

انھیں 16 فروری سنہ 2016 کو سزا سنائی جائے گی۔

اسی بارے میں