پیرس معاہدہ کرۂ ارض کو بچانے کا بہترین موقع ہے: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکی صدر براک اوباما نے اس معاہدے کو کم کاربن اخراج کا چیلنج قبول کرنے کا ایک اہم موڑ قرار دیا

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ پیرس میں ہونے والا معاہدہ ’کرہِ ارض کو بچانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ دنیا کے لیے ایک ’اہم موڑ‘ ہو سکتا ہے جہاں سے ہم کم کاربن اخراج والے مستقبل کے چیلنج کو قبول کر سکیں۔

پیرس کانفرنس میں عالمی ماحولیاتی معاہدہ طے پا گیا

دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پھیلانے والے ملک چین نے بھی اس معاہدے کو سراہا ہے لیکن ماحولیات کے بعض سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ چین نے اس سیارے کو بچانے کے لیے خاطر خواہ کوشش نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ پیرس معاہدے کے تحت عالمی درجۂ حرارت میں اضافے کو دو ڈگری سنیٹی گریڈ سے کم رکھنا طے پایا ہے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دو ہفتوں تک جاری رہنے والے اس کشیدہ مذاکرات میں تقریبا 200 ممالک نے شرکت کی اور ایسے کسی پہلے معاہدے پر اتفاق کیا گیا ہے جس میں تمام ممالک کاربن کے اخراج میں کمی کرنے پر رضامند ہوئے ہیں۔

یہ معاہدہ جزوی طور پر قانونی ہے اور جزوی طور پر رضاکارانہ ہے اور اس کا اطلاق سنہ 2020 سے ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC CHINESE
Image caption چین کے سربراہ مذاکرات کار شائی ژنہوا نے کہا کہ یہ معاہد مثالی نہیں تاہم یہ ہمیں آگے تاریخی قدم بڑھانے سے باز نہیں رکھتا

اس معاہدے کو ’حوصلہ افزا‘ قرار دیتے ہوئے صدر اوباما نے کہا: ’ہم نے یہ دکھا دیا کہ جب دنیا ایک ساتھ کھڑ ی ہوتی ہے تو ہم مل جل کر کیا کچھ کر سکتے ہیں۔‘

’مختصراً، اس معاہدے کا مطلب کاربن آلودگی میں کمی ہے جو کہ ہمارے کرے کے لیے خطرہ ہے اور کم کاربن اخراج کرنے والے منصوبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کے نتیجے میں معاشی ترقی اور زیادہ روزگار ہے۔‘

بہر حال صدر اوباما نے یہ تسلیم کیا کہ معاہدہ ’کامل‘ نہیں تھا۔

چین کے سربراہ مذاکرات کار شائی ژنہوا اس بات سے متفق نظر آئے اور انھوں نے کہا کہ پیرس معاہدہ ’مثالی نہیں تاہم یہ ہمیں آگے تاریخی قدم بڑھانے سے باز نہیں رکھتا۔‘

اس سے قبل چین نے کہا تھا کہ امیر اور ترقی یافتہ ممالک کو چاہیےکہ وہ ترقی پزیر ممالک کو زیادہ مالی تعاون پیش کریں۔

دنیا کے چند غریب ترین ممالک کی نمائندہ غیزا گیسپر مارٹنس نے کہا: ’نہ صرف سب سے کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے بلکہ دنیا کے تمام باشندوں کے لیے ہم جس چیز کی امید کر سکتے تھے یہ اس کا بہترین نتیجہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نک ڈیئرڈن کا کہنا ہے کہ اس میں دنیا کی کمزور ترین برادری کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گيا ہے

لیکن عالمی ماحولیات کے لیے آواز اٹھانے والے ادارے گلوبل جسٹس ناؤ کے ڈائرکٹر نک ڈيئر ڈن نے کہا: ’ایک ایسے معاہدے جس میں دنیا کی کمزور ترین برادری کے حقوق کا خیال نہیں رکھا گیا ہے اور ایسا کچھ نہیں کیا گیا ہے کہ آنے والی نسل کے لیے ماحول محفوظ اور قابل رہائش ہو اسے کامیاب قرار دینا توہین آمیز ہے۔‘

معاہدے کے تحت عالمی درجہ حرات میں اضافے کو دو ڈگری سے نیچے رکھا جائے گا اور مزید کوششیں کر کہ اس کو 1.5 ڈگری تک محدود کیا جائے گا۔

اس معاہدے کے تحت ہونے والی پیش رفت کا ہر پانچ برس بعد جائزہ لیا جائے گائے گا۔

2020 سے ترقی پذیر ممالک کو ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے سالانہ ایک سو ارب ڈالر کی مالی مدد فراہم کی جائے گی اور اس مستقبل میں اس اضافہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں