نیپال کے زلزلے میں خدشات سے کم تباہی

تصویر کے کاپی رائٹ IRC Canada

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سال کے آغاز میں نیپال میں آنے والے تباہ کن زلزلوں سے رونما ہونے والے اثرات اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتے تھے۔

’سائنس‘ میگزین میں شائع ہونے والی ایک بین الاقوامی ٹیم کی رپورٹ نے ان زلزلوں کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران برفانی تودوں کے پھسلنے کے واقعات لوگوں کے خدشات کے برعکس نسبتاً کم تھے۔

ٹیم کو اس اہم خدشے کے بارے میں بھی کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس زلزلے کی وجہ سے ہمالیہ کی برفانی جھیلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

نیپال میں زلزلے سے پہلے اور بعد میں

زلزلے سے ثقافتی ورثہ مسمار

نیپال میں تباہ کن زلزلے کا خدشہ تھا

ان نتائج کو سان فرانسسکو میں امریکی جیوفزیکل یونین کے خزاں کے اجلاس میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ اجلاس ارضیاتی سائنس پر ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا اجلاس ہے۔

یونیورسٹی آف ایری زونا سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے رہنما جیفری کرگل کا کہنا ہے کہ ’ہمیں بہت حیران کن نتائج ملے۔‘

انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ان زلزلوں سے پڑنے والے چھوٹے بڑے اثرات کی نوعیت ہماری توقعات کے برعکس تھی۔‘

لیکن اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں کہ اس سال اپریل اور مئی میں آنے والے زلزلوں سے ہونے والے نقصانات تباہ کن تھے۔ ان زلزلوں میں ساڑھے آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

لیکن تحقیق کاروں کو یقین ہے کہ یہ خطرناک اثرات بھی ان سے کہیں کم ہیں جو ان زلزلوں کے نتیجےمیں پہنچ سکتے تھے۔

اس سال 25 اپریل کو ریکٹر سکیل پر 7.8 کی شدت سے آنے والے زلزلے نے زمین کی ہییت بدل کر رکھ دی۔ اس کی وجہ سے ہمالیہ پہاڑوں کی ایک چوڑی پٹی نیچے سرک گئی، جبکہ ملحقہ کھٹمنڈو بیسن کی سطح بھی بلند ہو گئی اور یہ پورا خطہ جنوب کی جانب دو میٹر تک سرک گیا۔

سائنس دانوں کو توقع تھی کہ اس زلزلے کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں تودے گرنے کے واقعات رونما ہوں گے۔ لیکن سیٹلائٹ سے ان تصاویر کو ضائع کرنےکی رضاکارانہ کوششوں کے نتیجےمیں وہ صرف 4312 واقعات شناخت کر پائے۔

اسی طرح سائنس دانوں کا خیال تھا کہ ان تودوں کے پیچھے موجود جھیلوں کا پانی زلزلے کی وجہ سے بہتا ہوا نیپال کی وادیوں میں گھس کر تباہی مچا دے گا، لیکن سیٹیلائٹ سے حاصل کی گئی تصاویر اور علاقے کے معائنے کے بعد ان کو کسی بڑے نقصان کے شواہد نہیں ملے۔

ایسا کیوں ہوا؟ اس بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں لیکن سائنس دانوں کا خیال ہے کہ توقعات کے برعکس کم تباہی ہونے کے پیچھے کئی عوامل کار فرما ہو سکتے ہیں۔

خیال ہے کہ اس کی ایک وجہ زلزلے کے دوران زمین کے ہلنے کا رحجان بھی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زلزلہ طاقتور ہونے کے باوجود نسبتاً ہموار تھا۔ ایک خیال یہ ہے کہ خطےمیں پتھروں کی ساخت کا صحیح اندازہ نہیں لگایا گیا جو نقصان کم کرنے کی اہم وجہ ہو سکتا ہے۔

اس کےعلاوہ خطے میں ایک خاص قسم کے جنگلات نے زمین کو اپنی جگہ مضبوطی سے قائم رکھنے میں کردار ادا کیا۔

لیکن ان میں سے کوئی بھی وجہ اس تباہی کو کم نہیں کر سکی جو اس زلزلے کی نتیجے میں ہوئی۔ ’سائنس‘ جریدے میں شائع ہونے والے اس رپورٹ میں کٹھمنڈو کے شمال میں واقع ٹریکنگ کے لیے مشہور لنگ ٹانگ گاؤں میں ہونے والی تباہی کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

یہاں پہاڑوں کے ساتھ تقریباً 20 لاکھ مکعب میٹر تک ملبہ جمع ہو گیا ہے۔

امریکی جیولوجیکل کے سائنس دان برائن کولنز نے زلزلے کے بعد اس علاقے کا دورہ کیا۔

وہ کہتے ہیں: ’تقریباً 5000 میٹر کی بلندی سے ایک برفانی تودہ لڑھکتا ہوا 1000 میٹر تک نیچے آیا اور پھر 500 میٹر گہرائی میں گرتا ہوا پھٹ گیا، اور اپنے ساتھ بہت سا مواد لے کر سیدھا اس گاؤں پر آ گرا۔‘

سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ جب یہ برفانی تودہ اپنے ساتھ چٹانی پتھروں کی ایک بڑی مقدار کے ساتھ وادی میں گرا تو اس کی قوت ہیروشیما پر گرنے والی ایٹم بم کے نصف جتنی تھی۔ تحقیقق کے سینیئر مصنف جیفری کرگل نے بتایا کہ لنگ ٹانگ کا جو حصہ تودے کی زد میں نہیں آیا وہ ہوائی دھماکے میں تباہ ہو گیا۔

لنگ ٹانگ میں 350 سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

اس اہم تحقیق کے ساتھ سائنس میں ایک اور تجزیہ بھی چھپا ہے جس میں نیپال میں ایک ہزار سال پہلے آنے والے زلزلے کی تفصیلات شامل ہیں۔ اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر آٹھ یا اس سے زیادہ تھی۔

اس زلزلے کے نتیجے میں گرنے والے برفانی تودوں اور ان کا ملبہ جمع ہونے سے خطے کی زمین کا نقشہ ہی تبدیل ہو گیا تھا۔

ٹیم نے معلوم کیا کہ نیپال کا سب سے بڑا شہر پوخارا دراصل 150 مربع میٹر پر پھلے ہوئے اسی تباہ شدہ ملبے کے ڈھیر پر تعمیر کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں