بغیر ڈرائیور گاڑیوں میں ’ڈرائیور کی موجودگی ضروری‘

تصویر کے کاپی رائٹ Google
Image caption امریکہ میں متعدد کمپنیاں مثلاً فورڈ، اور اور ٹیزلاا بغیر ڈرائیور گاڑیوں کی تحقیق میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں

امریکی ریاست کیلیورنیا میں بغیر ڈرائیور گاڑیوں کے ضابطہ کاروں نے ایسے مسودہ تجاویز شائع کی ہیں جس سے سٹرکوں پر بغیر ڈرائیور گاڑیاں چلانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

تاہم ڈیپارٹمنٹ آف موٹر ویکلز (ڈی ایم وی) کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت کم از کم ابتدائی طور پر کسی لائسنس یافتہ ڈرائیور کا گاڑی میں ہونا ضروری ہے تاکہ اگر ٹیکنالوجی ناکام ہو جائے تو اس صورت میں گاڑی پر قابو پایا جا سکے۔

واضح رہے کہ کیلیفورنیا ترقی کے لیے سب سے زیادہ آزمائشی میدان رہا ہے اور اس حوالے سے قواعد و ضوابط کو مثالی تصور کیا جاتا ہے۔

بغیر ڈرائیور گاڑیوں کے ممکنہ صارفین کو خصوصی تربیت سے گزرنے کی ضرورت ہو گی اور ایسی گاڑیوں کی نگرانی کے لیے صنعت کاروں کی ضرورت ہو گی۔

ایک سوال کے جواب میں ان گاڑیوں کے ضابطہ کاروں کا کہنا تھا کہ کسی قسم کی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی یا حادثات کی ذمہ داری انسانی ڈرائیور پر ہو گی۔

Image caption ڈی ایم وی کے مطابق از خود ڈرائیونگ کی صلاحیت کے علاوہ گاڑی میں روایتی کنٹرول بھی ہونے چاہییں

امریکہ میں متعدد کمپنیاں مثلاً فورڈ، یوبر اور ٹیزلا بغیر ڈرائیور گاڑیوں کی تحقیق میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

گوگل نے، جو اس تحقیق میں سب سے آگے ہے، ایک ایسی بغیر ڈرائیور گاڑی بنائی ہے جس میں سٹیرنگ ویلز یا پیڈلز کا کنٹرول نہیں ہے۔

لیکن ڈی ایم وی کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کا مطلب یہ ہے کہ یہ گاڑیاں مستقبل قریب میں صارفین کو دستیاب نہیں ہوں گی۔

ڈی ایم وی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ’اس نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک ممکنہ خطرات کو دیکھتے ہوئے ہمیں یقین ہے کہ صنعت کاروں کو ایسی گاڑیاں کو عوام کے لیے دستیاب کرنے سے پہلے ان کی مزید ٹیسٹنگ کرنے کی ضرورت ہے۔‘

ڈی ایم وی کے مطابق از خود ڈرائیونگ کی صلاحیت کے علاوہ گاڑی میں روایتی کنٹرول بھی ہونے چاہییں۔

اسی بارے میں