امریکہ: ہم جنس پرستوں کو خون عطیہ کرنے کی مشروط اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہم جنس پرستی کے لیے سرگرمِ عمل کارکنوں نے اس ایک سالہ قانون کو امتیازی سلوک قرار دیا ہے

امریکہ میں خوراک اور ادویات کے ادارے (ایف ڈی اے) کی جانب سے 30 سال کی پابندی کے بعد ہم جنس پرست مردوں کے خون عطیہ کرنے کے حوالے سے قانون میں نرمی کی گئی ہے۔ اب وہ ہم جنس پرست افراد جو ایک سال سے جنسی طور پر سرگرم نہیں ہیں اُنھیں خون عطیہ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

ہم جنس پرستی کے لیے سرگرمِ عمل کارکنوں نے اس ایک سالہ قانون کو امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔ لیکن یہ قانون دیگر ممالک جیسے برطانیہ، آسٹریلیا اور جاپان کی پالیسی سے مماثلت رکھتا ہے۔

یہ پابندی سنہ 1980 میں مہلک مرض ایڈز کے بحران کے آغاز کے موقع پر لگائی گئی تھی۔

وہ گروہ جو خون کے عطیات کے لیے آمادہ کرنے کے لیے کام کرتے ہیں انھوں نے ہم جنس پرست عطیہ کنندگان پر پابندی کو ’طبی طور پر غیر مجاز‘ قرار دیا ہے۔

ایک سرگرم کارکن ڈیوڈ اسٹیسی نے اس فیصلے کو ’درست سمت کی جانب قدم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف ڈی اے کو اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

Image caption ایف ڈی اے کا یہ فیصلہ سنہ 2014 میں دی جانے والی ایک رسمی تجویز کی پیروی کرتا ہے

انسانی حقوق کی مہم کے ترجمان اسٹیسی کے مطابق ’اس سے ہم جنس پرستوں اور خنثوں (دونوں جِنسی خَصُوصیات رَکھنا) کی بدنامی ہوگی۔ محض موجودہ سائنسی تحقیقات اور خون کی جانچ کی جدید ٹیکنالوجی کی روشنی میں اِسے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔‘

ایف ڈی اے کا یہ فیصلہ سنہ 2014 میں دی جانے والی ایک رسمی تجویز کی پیروی کرتا ہے۔ وفاقی ایجنسی نے خون کے عطیات کے لیے قومی معیار ترتیب دیا ہے جس کی جانچ بیماریوں کے لیے کی جارہی ہے۔

اس قانون کی تبدیلی سے قبل امریکہ میں امکانی عطیہ کنندگان جو سنہ 1977 کے بعد سے دوسرے مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کا اعتراف کرتے تھے اُنھیں خون دینے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔

نئی پالیسی ناصرف ہم جنس پرست مردوں بلکہ دیگر انتہائی حساس گروہوں کے لیے بھی یکساں ہے۔ وہ لوگ جو گذشتہ 12 ماہ کے دوران جسم فروشوں کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرچکے ہیں یا نسوں کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والی منشیات استعمال کرچکے ہیں اُن پر بھی خون عطیہ کرنا ممنوع ہے۔

اسی بارے میں