نجی خلائی کمپنی کے راکٹ کی کامیاب لینڈنگ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکی کی نجی خلائی کمپنی سپیس ایکس کا بغیر خلا باز کے خلا میں بھیجا گیا راکٹ کامیابی کے ساتھ مدار سے زمین پر سیدھا اتر آیا ہے۔

اس سے قبل سپس ایک 11 مصنوعی سیارے مدار میں بھیج چکی ہے۔

فیلکن 9 کرافٹ پیر کی شب فلوریڈا میں جہاں سے اڑا تھا وہاں سے دس کلو میٹر دور کیپ کینیویرل کے مقام پر تقریباً عمودی سفر طے کرنے کے بعد زمین پر اتر آیا۔

خلائی جہاز اڑنے کے فوراً بعد ہی تباہ ہو گیا

تاہم یہ پہلا خلائی جہاز نہیں ہے جو پرواز کے بعد زمین پر سیدھا واپس اترا ہو۔ اس سے پہلے گذشتہ ہفتے ٹیکساس میں نیو شیپرڈ راکٹ نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ البتہ فیلکن 9 کی پرواز اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس نے نیو شیپرڈ کے مقابلے میں دگنا بلندی تک سفر کیا ہے۔

سپیس ایکس کا مشن ہے کہ وہ نجی خلائی سفر کا خرچ آدھا کر دےگا۔ البتہ جون میں اسی کمپنی کا راکٹ فیلکن 9 راکٹ کیپ کینیویرل سے پرواز کے چند منٹ کے اندر اندر شعلوں کی لپیٹ میں آگیا تھا اور اُس کا ملبہ بحرِ اوقیانوس میں جاگرا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل فیلکن 9 نے 18 مسلسل کامیاب پروازیں کی تھیں اور یہ حادثے کے وقت بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک رسد پہنچارہا تھا کہ حادثے کا شکار ہوگیا۔ سپیس ایکس نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک رسد پہنچانے کے لیے ناسا کے ساتھ 1.6 ارب ڈالر کا معاہدہ کررکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سے قبل فیلکن 9 کے پہلے سٹیج کو سمندری پلیٹ فارم تک واپس لانے کی کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں

اس حالیہ تجربے میں 23 منزلہ بلند راکٹ نے کیپ کینیویرل ایئر فورس سٹیشن سے پرواز شروع کی۔

یہ فضا میں تقریباً دو سو کلومیٹر بلندی تک پہنچا اور اس دوران اُس نے دوسری سٹیج میں موجود 11 مواصلاتی مصنوعی سیارے خلا میں چھوڑے ہیں۔

بغیر کسی خرابی کے بغیر کی جانے والی یہ کامیاب پرواز نجی کمپنی سپیس ایکس کے لیے بہت بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔

سپیس ایکس کے ملازمین نے جب 47 میٹر بلند راکٹ کو زمین پر آہستگی سے واپس اُترتے ہوئے دیکھا تو وہ خوشی سے جھوم اُٹھے۔

سپیس ایکس کے مبصرین نے فیلکن 9 کے خلا میں سفر اور واپسی ’ ناقابِل یقین حد تک دلچسپ ’ قرار دیا ہے جس میں پہلی بار مدار میں بھیجے گئے ایک راکٹ نے کامیابی کے ساتھ زمین پر واپسی کا سفر کیا ہے۔

کیپ کینیویرل ایئر فورس سٹیشن کے اعلیٰ اہلکار وین مونٹیتھ نے ایک بیان میں کہا کہ ’میں کیپ کینیویرل ایئر فورس سٹیشن پر موجود سب کی خوشی بیان نہیں کر سکتا جو اس راکٹ کی واپسی کے تاریخی لمحےکا حصہ رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس راکٹ میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جس سے راکٹ کے پروزوں کو بار بار استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے لاگت کم ہو جاتی ہے

سپیس ایکس راکٹ کی صنعت میں انقلاب لانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس راکٹ میں ایسی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جس سے راکٹ کے پروزوں کو بار بار استعمال کیا جا سکتا ہے جس سے لاگت کم ہو جاتی ہے۔

سپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے راکٹ کو مخاطب کرتے ہوئے ٹویٹ کر کے کہا: ’خوش آمدید، بےبی۔‘

اسی بارے میں