انٹرنیٹ کی کاروباری شخصیت ڈاٹ کام کی امریکہ حوالگی کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈاٹ کام نے عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت میں جائیں گے

نیوزی لینڈ کی ایک عدالت نے انٹرنیٹ کی دنیا کی کاروباری شخصیت اور ہیکر کِم ڈاٹ کام کو ان پر عائد مختلف الزامات کے پیش نظر امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔

ڈاٹ کام پر کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی، غیر قانونی مالی وصولیوں، اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف درخواست دائر کریں گے۔

انھوں نے ایک فائل شیئرنگ ویب سائٹ ’میگا اپ لوڈ‘ بنائی تھی جسے اب کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس ویب سائٹ کے ذریعے لاکھوں افراد فلمیں اور گانے ڈاؤن لوڈ کیا کرتے تھے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ڈاٹ کام اور دیگر افراد کی وجہ سے فلم سازی کرنے والے اداروں، سٹوڈیوز، اور ریکارڈ کمپنیوں کو 50 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

جرمنی کی شہریت کے حامل ڈاٹ کام نیوزی لینڈ کے شہر آک لینڈ میں رہائش پذیر ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وہ اپنی پہچان ’انٹرنیٹ فریڈم فائیٹر‘ (انٹرنیٹ کی آزادی کے سپاہی) کے طور پر کرواتے ہیں۔ مذکورہ کیس میں انھوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ کاپی رائٹ قوانین کی خلاف ورزی کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

39 سالہ کِم، جن کا اصل نام کِم شمٹز ہے، انھوں نے عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے مایوسی ہوئی ہے۔‘

ڈاٹ کام کے ساتھ ویب سائٹ بنانے والے تین دیگر افراد کو بھی ان ہی الزامات کا سامنا ہے اور فیصلے میں ان افراد کو بھی امریکہ کے حوالے کرنے کا کہا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈاٹ کام کا کہنا ہے کہ وہ ہانگ کانگ میں الگ سے عدالتی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں

رواں سال ستمبر میں شروع ہونے والی عدالتی کارروائی کا مقصد ان کے جرم کا تعین کرنا نہیں تھا بلکہ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ کیا انھیں امریکی عدالتوں کاسامنا کرنے کے لیے امریکہ کے حوالے کیا جائے یا نہیں۔

نیوزی لینڈ کے خبر رساں آن لائن ادارے ’سٹف‘ کے مطابق آک لینڈ کی عدالت میں جج نیوِن ڈاؤسن کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس اپنا کیس ثابت کرنے کے لیے ’بہت زیادہ ثبوت ہیں‘ جبکہ ملزم ’اپنے خلاف کیس کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔‘

عدالتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ڈاٹ کام نے ٹوئٹر پر لکھا: ’آپ لوگوں کی حمایت کا شکریہ، لڑائی جاری رہے گی۔ چھٹیوں کے مزے لیجیے، مجھے خوشی ہے کہ میں اپنے بچوں کے ساتھ ہوں۔ کاپی رائٹ سے بڑھ کر بھی دنیا میں چیزیں ہیں۔‘

ڈاٹ کام کی قانونی ٹیم کی رکن آئرا روتھکن ٹوئٹر پر لکھتی ہیں کہ ’@KimDotcom کی ٹیم پُرامید ہے کہ انھیں امریکہ کے حوالے کرنے کی امریکی درخواست جلد ہی ہائی کورٹ میں نظرثانی کے لیے پیش ہوگی۔‘

’ہم سمجھتے ہیں کہ (ضلعی عدالت) کا فیصلہ غلط تھا۔ آج انصاف نہیں ہوا۔‘

روزنامہ نیوزی لینڈ ہیرلڈ کو رواں ہفتے میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے ڈاٹ کام کا کہنا تھا کہ وہ ہانگ کانگ میں الگ سے عدالتی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ویب سائٹ میگا اپ لوڈ کی بنیاد انھوں نے ہانگ کانگ میں رکھی تھی۔

انھوں نے کہا کہ وہ ویب سائٹ بند کرنے کے خلاف ہانگ کانگ کے محکمہ انصاف پر دو ارب امریکی ڈالر سے زائد ہرجانےکا دعویٰ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں ہانگ کانگ کی عدالت نے انھیں چند منجمد اثاثوں تک رسائی دے دی تھی۔

اسی بارے میں