بلڈ پریشر کی ادویات کا استعمال غور طلب

تصویر کے کاپی رائٹ IC 2030 Courtesy of Dawid De Greeff and Kings College London
Image caption ڈاکٹروں کو سخت اور فشارِ خون کے ’صوابدیدی‘ پیمانوں کے بجائے کسی فرد کے بیماری کے حوالے سے خطرات پر توجہ مرکوز رکھنے کا کہا جارہا ہے

ایک تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر ڈاکٹر دل کی بیماری کے شدید خطرے والے تمام مریضوں کو فشارِ خون یعنی بلڈ پریشر کی ادویات دینا شروع کردیں، چاہے اُن کا بلڈ پریشر متوازن ہی کیوں نہ ہو تو زیادہ جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

مذکورہ تحقیق حالیہ ہدایات سے بالکل الگ ہے جن کے تحت فشارِ خون کی ادویات صرف اُس صورت میں تجویز کی جائیں کہ اگر فشارِ خون ایک خاص حد سے تجاوز کررہا ہو۔

سماجی ترقی سے ہائی بلڈ پریشر دور

پڑھائی بلڈ پریشر کم کرتی ہے

لیکن ماہرین سمجھتے ہیں کہ انسان کی طرزِ زندگی کے عوامل بھی فشارِ خون کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ تحقیق ہفتہ وار طبی جرنل لینسیٹ میں شائع ہوئی۔

بلند فشارِ خون کا دل کی بیماری اور سٹروک کے خطرات سے بہت قریبی تعلق ہے۔

حالیہ ہدایات انگلینڈ کے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔ جن کے مطابق مریضوں کو صرف اس وقت ہی ادویات لینی چاہیں جب اُن کی فشارِ خون کی سطح 140 سے تجاوز کرجائے۔

یہاں تک کہ وہ لوگ جنھیں شدید خطرات لاحق ہیں مثال کے طور پر وہ لوگ جنھیں سٹروک بھی ہوچکا ہے انھیں فشارِ خون کی اس سطح تک بھی گولیاں دینے کے بجائے نگرانی میں رکھنے کی حمایت کی گئی ہے۔

اب ایک ماہرین کی عالمی ٹیم کی جانب سے ڈاکٹروں کو سخت اور فشارِ خون کے ’صوابدیدی‘ پیمانوں کے بجائے کسی فرد کے بیماری کے حوالے سے خطرات پر توجہ مرکوز رکھنے کا کہا جارہا ہے۔

ماہرین نے سنہ 1966 سے 2015 کے درمیان چھ لاکھ افراد پر بڑے پیمانے پر کیے گئے ٹیسٹوں کے سے یہ نتائج اخذ کیے ہیں۔

انھوں نے اس تحقیق میں یہ جانا کہ شدید خطرات سے دوچار مریض، بشمول کولیسٹرول کی بڑھی ہوئی سطح والے تمباکو نوش اور 65 سال سے زائد عمر والے ذیابیطس کے مریضوں کو اس علاج سے بہت فائدہ پہنچے گا اور اُن میں دل کے دورے اور سٹروک کے امکانات کم ہوجائیں گے۔

اس کے علاوہ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایک بار کے علاج سے فشارِ خون کی سطح کو اس وقت زیرِ استعمال اہداف سے بھی مزید کم کیا جاسکتا ہے۔

مطالعے سے اس بات کے بھی مزید شواہد ملے ہیں کہ مریض جن کی فشارِ خون کی بنیادی سطح چاہے جو بھی ہو اسے طرزِ زندگی میں تبدیلیوں اور یا پھر ادویات کے استعمال سے بھی کم کرسکتے ہیں۔

لیکن اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ کسی بھی شخص کا فشارِ خون جتنے کم درجے سے شروع ہوگا اسے گھٹانے سے اُسے اتنا ہی کم فائدہ حاصل ہوگا۔

لندن کے سکول آف ہائی جین اور ٹراپیکل میڈیسن کے پروفیسر لی ایم سمیتھ نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ تحقیق کے یہ نتائج اُن لوگوں کے لیے اہم ہیں جنھیں دل کی بیماری یا سٹروک کے شدید خطرات لاحق ہیں۔

لیکن انھوں نے خبردار کیا ’ایک اہم انتباہ یہ کہ ہر ایک اپنے فشارِ خون کو کم سطح تک گھٹا کر برداشت کرنے کے قابل ہوجائے گا۔ اور ادویات کے ممکنہ مضر اثرات اور فائدوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انگلینڈ کی شیفیلڈ یونیورسٹی میں دل کے ماہر ڈاکٹر ٹِم چیکو کے مطابق ادویات ہی اس مسئلے سے نمٹنے کا واحد حل نہیں ہیں۔

انھوں نے مزید کہا ’ہم سب ہی اپنا فشارِ خون کم کرسکتے ہیں۔ ہم صحت مند خوراک، زیادہ جسمانی مشقت، شراب نوشی میں کمی اور ایک صحت مند وزن برقرار رکھ کر گولیوں کی نسبت محفوظ، سستے اور پُراثر طریقے سے یہ کرسکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں