ذہنی امراض کے ماہر ڈاکٹر سپٹزر انتقال کرگئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈاکٹر سپٹزر ایک طویل عرصے تک امریکہ کی مشہور کولمبیا یونیورسٹی سے منسلک رہے

ذہنی امراض کے مشہور امریکی ماہر رابرٹ سپٹزر تراسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

رابرٹ سپٹزر کی سب سے بڑی وجۂ شہرت ان کی وہ تحقیق ہے جس میں انھوں نے ذہنی امراض کی جدید فہرست تیار کی تھی جبکہ ذہنی امراض کا شماریاتی جدول بھی ان کے بڑے کاموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ذہنی امراض کے شعبے میں ان کی خدمات میں یہ بھی شامل ہے کہ انھوں نے سنہ 1973 میں ہم جنسی پرستی کو ذہنی امراض کے زمرے سے خارج کرانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔

ڈاکٹر سپٹزر کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کا انتقال جمعے کو ہوا اور وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔

جینٹ ولیمز نہ صرف ڈاکٹر سپٹزر کی اہلیہ ہیں بلکہ وہ خود بھی ذہنی امراض کی ماہر ہیں۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ذہنی امراض کے مشہور کتابچے ’ڈی ایس ایم‘ کے کئی شماروں کی تیاری میں ڈاکٹر سپٹزر نے جو خدمات سرانجام دیں ہیں وہ ذہنی امراض کے شعبے کسی انقلاب سے کم نہیں۔

’اس فہرست بندی کی بدولت ذہنی امراض کے ماہرین کو یہ سہولت حاصل ہوئی ہے کہ وہ مختلف امراض کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھ سکتے ہیں۔‘

ڈاکٹر سپٹزر ایک طویل عرصے تک امریکہ کی مشہور کولمبیا یونیورسٹی سے منسلک رہے جہاں انھوں نے ذہنی امراض کے روایتی نظریے کی جگہ زیادہ سائنسی حمکت عملی اپنائی اور اپنی تحقیق کی بنیاد تجرباتی سائنس کو بنایا۔

ڈاکٹر سپٹزر کے انتقال پر جریدے ’ڈی ایس ایم‘ کے مدیر ڈاکٹر ایلن فرانسز کا کہنا ہے کہ وہ ’بلاشبہ اپنے وقت کے سب سے بڑے ماہرِ تھے۔‘

سنہ 1973 تک زیادہ تر ماہرین ہم جنس پرستی کو ذہنی امراض کی فہرست میں رکھتے تھے، لیکن ڈاکٹر سپٹزر نے اس موضوع پر خاصی تحقیق کی جس کی بنیاد پر ہم جنس پرستی کو ذہنی امراض کی روایتی فہرست سے نکال دیا گیا۔

اسی بارے میں