مصر میں فیس بُک کی مفت انٹرنیٹ کی سہولت معطل

Image caption فیس بُک کا کہنا تھا کہ وہ مسئلے کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

مصر میں معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بُک کی اس سکیم کو روک دیا گیا ہے جس کے تحت فیس بُک کے صارفین ترقی پذیر ممالک میں انٹرنیٹ کی سہولت سے مفت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

کچھ ممالک میں صارفین فیس بُک اور انٹرنیٹ کی دیگر بنیادی سہولیات کمپنی کی ’فری بیسکس‘ نامی سکیم کے ذریعے بلاقیمت حاصل کر سکتے ہیں۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ فیس بُک کی یہ سہولت تمام صارفین کو مساوی سہولت فراہم نہیں کرتی کیونکہ صارفین کو انٹرنیٹ کی دنیا میں جانے کے لیے فیس بُک کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

اس کے جواب میں فیس بُک کا کہنا تھا کہ وہ مسئلے کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انٹرنیٹ اور غیر جانبداری

مصر میں مشرق وسطیٰ کی معروف موبائل فون کمپنی ’اتصلات‘ نے اپنے صارفین کو فری بیسکس کی سہولت کا آغاز دو ماہ قبل کیا تھا۔ اس سہولت سے صافرین کو یہ سہولت حاصل ہو گئی کہ وہ ’موبائل ڈیٹا‘ خریدے بغیر فیس بُک اور دیگر ویب سائٹ تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔ دیگر کئی ممالک کی طرح مصر میں بھی موبائل ڈیٹا کی سہولت خاصی مہنگی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption مصر میں ’فری بیسکس‘ اکتوبر میں متعارف کرائی گئی تھی

فیس بُک کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران مصر میں 30 لاکھ سے زائد لوگوں نے ان کی اس سہولت سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا تھا جن میں دس لاکھ صارفین ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ انٹرنیٹ استعمال کر رہے تھے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ مہیا کرنے والی کمپنیوں اور موبائل فون کمپنیوں کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنی مرضی کی چند مخصوص سہولیات بلاقیمت فراہم کرنا شروع کر دیں۔

تعطل

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ جب فیس بُک کی فری بیسکس کی سہولت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دسمبر میں بھارت میں بھی حکومت نے موبائل فون کمپنیوں کو فیس بُک کی اس سکیم کو معطل کرنے کی ہدایت کر دی تھی۔

اس کے جواب میں فیس بُک کے سربراہ مارک زکربرگ نے بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں ایک مضمون میں اپنی کمپنی کی اس سکیم کا دفاع کیا تھا۔

Image caption فیس بُک نے فری بیسکس کو عام کرنے کے لیے مصر اور بھارت میں جا بجا اشتہارات لگائے

مارک زکربرگ کاکہنا تھا کہ ’فری بیسکس کی سہولت کو خوش آمدید کہنے کی بجائے سرکاری ادارہ عام لوگوں کو اس مفت سہولت سے فائدہ اٹھانے سے روک رہا ہے، حالانکہ اس سہولت سے بھارتی کمپنیوں کو بھی نئی نئی ایپلیکیشنز بنانے کی ترغیب ملے گی۔‘

’اس سہولت سے فیس بُک کوئی مالی مفاد حاصل نہیں کرنا چاہتا، حتیٰ کہ فیس بُک اپنی اس سہولت کے ذریعے کسی قسم کی اشتہار بازی بھی نہیں کرتا۔‘

اسی بارے میں