ویڈیوز جو جنگل کی آگ کی طرح پھیلیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

یہ سال ہم جیسے ان تمام لوگوں کے لیے بہت خوفناک رہا ہے جو انٹرنیٹ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔

سائبر حملے، شدت پسندوں کا پروپیگنڈا، جنسی تعصب، نسلی امتیاز، ٹوئٹر پر حملہ کرنے والے، وغیرہ وغیرہ۔

جب بات سنہ 2015 کی آن لائن سب سے زیادہ وائرل ہونے والی ویڈیوز اور طنز و مزاح والی پوسٹوں کی آئی تو میں نے انھیں دلچسپ رکھنے کے لیے دو اصول وضع کیے ہیں۔

پہلا اصول: ان میں کوئی مایوس کن بات نہیں ہو گی۔

سنہ 2015 کے دوران دنیا ایک خوفزدہ کر دینے والی جگہ تھی۔ لیکن یہ فہرست محفوظ، اچھا محسوس کرنے والی، بالکل جنت جیسی ہے۔

دوسرا اصول: اس فہرست میں شامل کوئی بھی چیز خاص طور پر شہرت کے لیے نہیں کی گئی تھی یا بنائی گئی تھی بلکہ خود ہی وائرل ہو گئی تھی۔

یعنی اشتہارات بنانے والوں کی کوئی کمیٹی نہیں بٹھائی گئی تھی جن کا مقصد ان پوسٹوں کو مشہور کروانا اور ان سے پیسے کمانا ہو۔

ظاہر ہے ہر شخص چاہتا ہے کہ ان کی پوسٹ مقبولیت حاصل کرے لیکن یوں سمجھ لیں کہ اس فہرست میں شامل پوسٹیں اپنے آپ ہی آن لائن اتنی معروف ہو گئی تھیں۔

تو جناب یہ رہی فہرست:

جنوری کی خصوصیت۔۔۔ پالہ مار گیا

تصویر کے کاپی رائٹ UTV

روائیری مکسورلی کی سب سے زبردست بات یہ تھی کہ انھوں نے ٹی وی پر ادا کیے جانے والے اپنے ایک چھوٹے سے جملے سے میڈیا کو اپنا ذریعہ معاش بنالیا۔

شمالی آئرلینڈ کے ٹی وی چینل یو ٹی وی کے رپورٹر گیرتھ ولکنسن کی شمالی آئرلینڈ کی موسمی صورت حال پر پیش کی جانے والی رپورٹ میں اپنے مخصوص اور دلکش لہجے میں بات کر کے مکسورلی دنیا بھر میں سب سے مشہور آئرش شخصیت بن گئے۔

ان کا ’فراسٹ بائٹ‘ سے متعلق چھوٹا سا انٹرویو انھیں مختلف ٹیلی وژن پروگراموں، تقریبات، اور پھر جلد ہی خیراتی مقاصد کے لیے بنائے جانے والے گانے تک لے گیا جسے آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔

فروری کی خصوصیت۔۔۔ بائیں شارک

اگر آپ امریکی فٹبال کے شائق نہیں ہیں، اور اگر ہیں بھی تو سُپر بال کھیل کے نصف حصے کے وقفے کے دوران پیش کیا جانے والا تفریحی پروگرام اس زبردست ترین کھیل کا سب سے دلچسپ حصہ ہوتا ہے۔

جینٹ جیکسن کے لباس میں ’خرابی‘ پیدا ہونے والے واقعے کے بعد سے کسی واقعے کو اس قدر شہرت نہیں ملی۔

گلوکارہ کیٹی پیری کے گانے کے دوران سٹیج پر رقص میں ان کا ساتھ دینے کے لیے دو معاون رقاصوں نے شارک کے کاسٹیومز میں حصہ لیا تھا۔ تاہم گلوکارہ کے بائیں جانب موجود شارک کے کاسٹیوم میں رقاص کو اپنے فن کے مظاہرے میں مسلسل دقت کا سامنا رہا اور وہ اپنے ساتھی رقاص کا ساتھ دینے میں پیچھے رہے۔

بائیں جانب کی شارک کی شہرت پوری دنیا میں پھیل گئی اور ان کو درپیش مشکل کو دنیا کا سامنے کرنے کے لیے ہم سب کو درپیش روزانہ کی جدوجہد سے تشبیہ دی جانے لگی۔

کیٹی پیری کے وکلا کی جانب سے ’بائیں شارک‘ کی اصطلاح کے حقوق محفوظ کروانے کی کوشش بھی کی گئی جو ناکام رہی۔

فروری میں ہی ایک ایسا زنانہ لباس مشہور ہوا جسے تاریخ ’دی ڈریس‘ کے نام سے یار رکھے گی۔

نکتہ اختلاف کی وجہ فریب نظر، رنگوں کا اندھا پن، عجیب روشنی، یا کچھ اور رہا ہو لیکن ایک لباس کی تصویر اپنی رنگت جو سفید اور سنہری یا پھر نیلی اور سیاہ ہونے کے سوال کے ساتھ انٹرنیٹ پراس سال سب سے زیادہ شیئر کی گئی۔

اور آخر میں ہم سب کا متفقہ فیصلہ تھا کہ اس لباس کی رنگت نیلی اور سیاہ تھی۔ صحیح کہا نا؟ آپ خود ہی اس لنک پر کلک کر کے دیکھ لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

مارچ کی خصوصیت۔۔۔ مفت کی سواری

کیٹی پیری کی شارک اگر ہماری روز مرہ کی زندگی کی جوجہد کی عکاس تھی تو ہُدہُد پر نیولے کی سواری کرتی ہوئی تصویر نے ہمیں یاد دلایا کہ تمام تر اختلافات کے باوجود ہمیں کس طرح ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔

جنگلی حیات کی ماہر لوسی کُک کا کہنا تھا کہ ’نیولے نڈر ہوتے ہیں۔‘

جو ظاہر ہے! دیکھیے اس تصویر کے حوالے سے یہ ویڈیو اس لنک پر

مارچ کے مہینے میں ہی تھائی لینڈ سے ایک چونکا دینے والی ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک مست ہاتھی نہانے کے ٹب میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

کیا میں نے مست کہا؟ میرا مطلب تھا کہ بہت ہی پیارا ہاتھی۔ آپ کا یقیناً دل چاہ رہا ہو گا تصاویر دیکھنے کو تو دیر کس بات کی اس لنک پر کلک کریں۔

اپریل کی خصوصیت۔۔۔ علم ریاضی

سالانہ حس مزاح کا دن یعنی یکم اپریل کے روز مذاق سے بھرپور ویڈیوز کی بھرمار ہو گئی۔

زیادہ تر کامعیار خاصا برا تھا تاہم چند ایسی ویڈیوز بھی تھیں جو بہت ہی دلچسپ بنائی گئی تھیں۔ مثال کے طور پر کیلیفورنیا کے ایک ریاضی کے استاد کا جادو۔ اس ویڈیو سے تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ افراد محظوظ ہوئے۔

اپریل گویا ریاضی کا مہینہ ہی تھا۔ جسے آپ اس یوٹیوب ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Martin LeMay

سنگاپور کے سکول کے طالب علموں کے لیے بنائی گئی دماغی گتھی کو سلجھانے کی کوشش میں دنیا بھر کے لوگ اپنی سر کھجاتے رہ گئے۔ کیا آپ نے یہ معمہ حل کر لیا تھا؟

(جواب وکی پیڈیا پر موجود ہے)

مئی کی خصوصیت۔۔۔ رقص میں مشغول شخص

’چند دن قبل اس عجیب آدمی کو رقص کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا۔ جب انھوں نے ہمیں ہنستے ہوئے دیکھا تو وہ رک گئے۔‘

یہ کلمات تھے فورچیون نامی ویب سائٹ پر ایک صارف کے۔ خیال رہے کہ تکلیف دہ پوسٹوں کے لیے بدنام ویب سائٹ پر لوگ گمنام رہتے ہوئے کوئی بھی شے شیئر کر سکتے ہیں۔ مذکورہ پوسٹ میں لیور پُول کے رہائشی شان اوبرائن ایک موسیقی کی محفل میں رقص کرتے نظر آ رہے تھے۔

لوگوں کی توجہ جب انھیں ’موٹاپے کے باعث شرمندہ کرنے کی کوشش‘ کی جانب گئی تو انٹرنیٹ صارفین یکجا ہو گئے اور اوبرائن کو ڈھونڈ نکالا گیا۔

مئی میں رقص کرنے والی اس شخصیت کے اعزاز میں امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں مونیکا لیونسکی، موبی، اور اینڈریو ڈبلیو کے نے بھی شرکت کی جس کی تصاویر اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔

اوبرائن کا کہنا تھا کہ ’اس سب پر یقین کرنے کے لیے میں اب بھی اپنے چٹکی لے رہا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

دوسری جانب لندن میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بننے والے ’ہِپسٹر پولیس افسر‘ (فیشن ایبل پولیس افسر) تھے۔

لندن کی سڑکوس پر ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران ڈیوٹی پر موجود پیٹر سوئنگر اپنی وضع دار اور فیشن ایبل مونچھوں کے باعث لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بن گئے تھے۔

تاہم برطانوی روزنامے ڈیلی میل کے مطابق تین بچوں کے والد سوئنگر کے قریبی رشتے دار کا کہنا تھا کہ وہ ’یقیناً ہِپسٹر نہیں ہیں۔‘

کیا ہِپسٹر خصوصیت والی بات کہی گئی ہے۔

جون کی خصوصیت۔۔۔ اڑن بلی

جون کے مہینے میں انٹرنیٹ کے صارفین کو عکس بند ہونے والا جہاز کی سب سے بہترین مفت سواری کا احوال دیکھنے کو ملا جس کی ویڈیو یہاں دیکھیں۔

جولائی کی خصوصیت۔۔۔ شارک!!!

سرفنگ چیمپیئن مِک فیننگ نے اس خوفزدہ کر دینے والے واقعے کے بعد واپس سمندر میں جانے کے لیے محض چھ دن انتظار کیا تھا۔

34 سالہ چیمیئن آسٹریلیا میں سرفنگ کے مقابلے میں حصہ لے رہے تھے جب پانی میں ان کے نزدیک دو شارکیں نمودار ہو گئیں۔

فیننگ کے لیے تو گویا یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ ان میں سے ایک کو انھوں نے مکّا مارا اور تیرتے ہوئے ممکنہ موت کو شکست دیتے ہوئے خطرناک صورت حال سے نکل آئے جس کی ویڈیو آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔

اگست کی خصوصیت۔۔۔ بطخوں کی فوج

ناروے کی ایک دکان میں کیون انِنز کو کتوں کی کھلونا بطخوں کا ڈھیر نظر آیا۔ اور پھر انھوں نے انھیں زور سے دبا دیا۔

برطانوی روزنامے دی گارڈین نے اس ویڈیو کو ’انٹرنیٹ پر آج کے دن کی بہترین پوسٹ‘ قرار دیا تھا جس کی یوٹیوب ویڈیو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

میں اسے سال کی بہترین پوسٹ قرار دیتی ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Martin LeMay

اس پوسٹ کو سال کی سب سے بہترین وائرل پوسٹ کیوں کہا گیا؟ اس ویڈیومیں وہ خوبی تھی جس پہ آپ کہہ اٹھتے ہیں ’اوہ مجھے اس وقت وہاں ہونا چاہیے تھا۔‘

اگست کے ماہ میں ہی اس چھوٹے سے بچے کی ویڈیونے سب کے دلوں کو ہی پگھلا دیا جو سکول میں یقیناً اپنی امی کو یاد نہیں کریں گے جس کی ویڈیو آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔

ستمبر کی خصوصیت۔۔۔ رونی پِکرنگ!

اس ویڈیو کا ایک ہی نمایاں ستارہ ہے۔ وہ خاتون جو گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھی ہیں۔ خاموش، بے نیاز، اور تمام صورت حال سے الگ تھلگ۔

ان کے ساتھ والی نسشت پر جبکہ دنیا کی معروف شخصیت رونی پِکرنگ ہیں۔

کون؟ رونی پِکرنگ۔ کون؟ رونی پِکرنگ!

سائیکلسٹ سٹیو مڈلٹن نے پِکرنگ کی سڑک پر انتہائی غصہ آور گفتگو فلمبند کی تھی۔ اور دنیا بھر میں پھیلنے اور مقبول ہونے والی ویڈیو دیکھ کے لوگ پوچھتے ہیں ’رونی پِکرنگ کون ہیں؟‘

اس یوٹیوب ویڈیو کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے تاہم خیال رہے کہ اس میں انتہائی نازیبا الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پِکرنگ کے صاحبزادے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھتے ہیں کہ ان کے والد ایک بہت اچھے انسان ہیں جن کی حس مزاح بھی کمال کی ہے۔ انھیں شک کا فائدہ ملنا چاہیے، ہم سب کے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے جو کوئی دن ہمارے حق میں اچھا نہیں ہوتا۔

ستمبر کے مہینے میں جہاں پِکرنگ مشہور ہو رہے تھے وہیں امریکی شہر نیویارک کے علاقے مین ہیٹن میں ایک ’چوہا‘ سب پر بازی لے گیا۔ آپ خود ہی یہ یوٹیوب ویڈیو دیکھ لیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اکتوبر کی خصوصیت۔۔۔ ڈریک کا رقص

انٹرنیٹ کے دور میں یہ دیکھنا کہ میوزک ویڈیوز اب بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ سکتی ہیں ایک تسلی بخش بات تھی۔

لیکن بات صرف میوزک ویڈیو کو پسند کرنے تک نہیں ہے، بلکہ انھیں ری مکس کرنا بھی ضروری ہے۔

ہِپ ہاپ فنکار اور معروف رقاص ڈریک کی میوزک ویڈیو ’ہاٹ لائن بلنگ‘ اس قدر مقبول ہوئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے سینکڑوں ری مکس سامنے آ گئے۔

آپ کے وقت کی بچت کے لیے سب سے بہترین ری مکس کی ویڈیو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب اکتوبر کے مہینے میں چند دنوں تک تو یوں لگا کہ گویا ہر بلی پالنے والا شخص اپنی بلی کو خوفزدہ کرنے کے لیے کھیرے خرید رہا ہے۔

(یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بعد میں ماہرین کا کہنا تھا کہ ایسا نہ کیا جائے، کیونکہ یہ کوئی اچھی حرکت نہیں ہے)

اس بارے میں کئی آرا پائی جاتی ہیں کہ بلیاں کھیرا دیکھ کے اتنی زیادہ خوفزدہ کیوں ہو جاتی ہیں کہ اک دم ہوا میں اچھل پڑتی ہیں۔ تاہم امریکی ٹیلی وژن چینل اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک ماہر کا کہنا تھا کہ بلیاں ایسا اس لیے کرتی ہیں کہ ان میں یہ جینیاتی خوبی ہوتی ہے کہ وہ سانپ دیکھ کہ ایک دم بھاگ کھڑی ہوں۔ ویڈیو یہاں دیکھیں۔

نومبر کی خصوصیت۔۔۔ اوٹو

سی بی بی سی کے پروگرام ریکارڈ بریکر کے خاتمے کے بعد سے عالمی ریکارڈ توڑنے والوں کو دیکھنے کے شوقین عوام کچھ غیر مطمئن سے تھے۔

ایسے ہی لوگوں کی خاطر اوٹو نامی بُل ڈاگ نسل کے کتے نے 30 افراد کی ٹانگوں کے درمیان سے سکیٹ بورڈ پر سے گزر کر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا جس کی ویڈیو یہاں دیکھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

دسمبر کی خصوصیت۔۔۔ سمندر سے دور رہیں

اس سال ہم نے ایک بات ضرور سیکھی ہے، اور وہ یہ کہ آئرش ہونے کی صورت میں آپ کی ویڈیو وائرل ہونے کے امکانات 100 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔

اس ویڈیو میں شمالی آئر لینڈ میں بالینا کے ساحل کے ساتھ آر ٹی ای ٹیلی وژن کے ناظرین کے لیے رپورٹ کرتے ہوئے ان کی نامہ نگار ٹریسا مینن کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اس دن ڈیسمنڈ نامی طوفان کے ارادے کچھ اور ہی تھے جس نے اپنی تندی سے بیچاری مینن کو صحیح معنوں میں چلا چلا کے بات کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

اپنی براہ راست رپورٹنگ کے دوران ان کا ’سمندر میں مت نہائیں!‘ چیخ کے کہنا تھا اور انٹرنیٹ اپنے کام پہ شروع ہو گیا۔

دسمبر کا مہینے ہوور بورڈ کا مہینے بھی رہا جس میں کرسمس کے دن بہت سے والدین ہوور بورڈ سے گرتے ہوئے نظر آئے۔ یقین نہیں آتا؟ خود ہی کلک کر کے دیکھ لیں۔

یہ تھیں مشہور پوسٹیں جن میں سڑک کا غصہ بھی تھا، آئرش لوگ بھی تھے، ملبوسات، اور شارک کی درندگی بھی تھی۔

اگلے سال ممکنہ طور پر ہمیں انٹرنیٹ پر کچھ اہم تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔

اِنکرپشن اور سینسرشپ پر جاری مباحثے آنے والے دنوں میں ویڈیوز پوسٹ کرنے کی ان ویب سائیٹوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

اس سب کے باوجود بھی ہم امید کرتے ہیں کہ ہم اپنی حس مزاح کو زندہ رکھیں گے اور غیر ضروری سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ جب زندگی آپ کو کھیرا دے تو پھر اس کی ویڈیو تو بننی چاہیے۔

اسی بارے میں