نئی دنیاؤں کی تلاش میں مدد کا ذریعہ

تصویر کے کاپی رائٹ ESOL. CALCADA
Image caption نئے طریقے سے دور دراز واقع ستارے کا بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے

ماہرینِ فلکیات نے کہا ہے کہ زمین سے دور واقع کسی ستارے کی کششِ ثقل کی اب زیادہ درست پیمائش کی جا سکتی ہے جس سے دوسری دنیاؤں پر روشنی پڑے گی۔

نئے طریقے سے دور دراز واقع ستارے کا بھی مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

ایک بڑے سیارچے کا زمین کے قریب سے سفر

زمین سے مماثلت رکھنے والا سیارہ

کینیڈا کی یونیورسٹی برٹش کولمبیا میں پرفیسر جیمی میتھیوز کے بقول ’ہماری تکنیک بتا سکتی ہے کہ دور واقع ستارہ کتنا روشن اور بڑا ہے اور کیا اس کے اردگرد واقع سیارے کا سائز اور درجۂ حرارت صحیح ہے کہ اس پر پانی کے سمندر ہوں یا شاید زندگی ہو؟‘ ۔

’نئی تحقیق ’سائنس ایڈوانسس‘ نامی رسالے میں شائع ہوئی ہیں۔ کسی ستارے کی سطح پر موجود کششِ ثقل، قوت کی اس شدت کو ظاہر کرتی ہے جو ستارے یا جرمِ فلکی کی سطح پر ہر ایک شے کو مرکز کی طرف کھینچتی ہے۔ اس کی پیمائش عام طور پر ستارے کی روشنی یا چکمدار ہونے سے کی جاتی ہے لیکن یہ طریقہ صرف ان ستاروں کے لیے درست ثابت ہوتا ہے جو بہت روشن یا قریب واقع ہوں۔

تھامس کیلنگر کا تعلق جامعۂ ویانا سے ہے اور انھوں نے ایک ٹیم کی قیادت کی جس نے کیپلر نامی خلائی دوربین سے ڈیٹا استعمال کیا۔ یہ دوربین زمین جیسی دیگر دنیاؤں کو تلاش کر رہی ہے۔

ڈیٹا سے پتہ چلا کہ دور واقع ستاروں کی چمک میں فرق سے ان کی سطح پر واقع کششِ ثقل کی بہتر پیمائش ہو سکتی ہے۔

محققین کے مطابق کسی ستارے کی سطح پر ناہمواری اور ارتعاش کا دورانیہ جس کی بنیاد ستارے کی چمک میں ادل بدل پر ہوتی ہے، یہ بتاتا ہے کہ اس کی سطح پر کتنی کششِ ثقل ہے۔ مزید خلائی مشن دور دراز واقع ستاروں کے اردگرد گھومنے والے سیاروں کی تلاش کریں گے جن پر پانی یا شاید زندگی ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر کیلنگر کا کہنا ہے کہ نئے طریقۂ کار کو ان تحقیقات سے حاصل شدہ ڈیٹا پر لاگو کیا جا سکتا ہے تاکہ یہ ہمیں ہمارے سورج جیسے دیگر ستاروں کے بارے میں سمجھنے میں مدد دے اور زمین جیسے دیگر سیاروں کی تلاش میں بھی مدد کرے۔ چونکہ سطح پر واقع کششِ ثقل کا انحصار اس کی کمیت اور قطر پر ہوتا ہے، یہ طریقہ ماہرینِ فلکیات کے لیے دور دراز ستاروں اور ان کے گرد گھومنے والے سیاروں کی کمیت اور سائز جاننے میں بھی مدد گار ہو سکتا ہے۔

کینیڈا میں برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے پرفیسر میتھوز جو اس تحقیق میں شریک ہیں کہتے ہیں ’اگر آپ ستارے سے واقف نہیں تو آپ سیارے کو بھی نہیں جانتے۔ باہر کے سیارے کا سائز اس ستارے کے سائز کی نسبت سے ہوتا ہے جس کے گرد یہ سیارہ گھومتا ہے۔ اگر آپ کو ستارے کے گرد سیارہ گھومتا ملے جو آپ کو سورج جیسا دکھائی دے لیکن سورج سے بہت بڑا ہو تو سمجھ لیجیے کہ غلطی سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ آپ کو زمین جیسی رہنے والی ایک دنیا مل گئی ہے۔‘

اسی بارے میں