امریکہ کی دولت اسلامیہ سے آن لائن لڑائی کی تیاری

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایف بی آئی کے ڈائریکٹر اور اٹارنی جنرل ٹیکنالوجی سربراہان سے ملاقات کے لیے کیلیفورنیا گئے

وائٹ ہاؤس نے خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیموں جیسے گروہوں میں امریکیوں کی بھرتیوں کو روکنے کے لیے بعض نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

شدت پسند گروہوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر کیے جانے والے پراپیگینڈا کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس کا قیام بھی ان اقدامات میں شامل ہے۔

یہ اعلان انتظامی حکام کی سیلیکون ویلی کے سربراہان سے دہشت گردوں کو ٹیکنالوجی کی مدد سے روکنے کے حوالے سے ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔

اس ملاقات کے شرکا میں ایپل، گوگل، فیس بک، مائیکروسافٹ اور ٹوئٹر شامل تھے اور اس کا مقصد شدت پسند گروہوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر دوسروں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرنے اور تشدد کو بڑھاوا دینے کو روکنا ہے۔

امریکہ کی وزارت خارجہ نے ایک نئے ’گلووبل انگیجمینٹ سینٹر‘ کا بھی اعلان کیا ہے جس کا کام غیر ملکیوں کو دولت اسلامیہ حامی پیغامات کو روکنے میں مدد فراہم کرنا ہوگا۔

اس موقع پر وائٹ ہاؤس کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ ’پیرس اور سان برناڈینو میں ہونے والے خطرناک حملوں کے بعد امریکہ اور بین الاقوامی برادری میں ہمارے ساتھیوں اور نجی شعبوں کے لیے دولت اسلامیہ جیسے شدت پسندوں کو روکنا اور ان میں شمولیت کو ناکام بنانا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔‘

خبر رساں ادارے اے پی کو حاصل ہونے والے ایجنڈے کے مطابق سرکاری حکام یہ معلومات فراہم کریں گے کہ دہشت گرد اینکرپٹڈ ایپس اور سروسز کو استعمال کرتے ہیں۔

ایجنڈے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ’دولت اسلامیہ کے پیغامات کو غیر موثر بنانے کے لیے متبادل مواد کیسے بنایا، شائع اور بڑھایا جا سکتا ہے اس پر بحث بھی ہوگی۔‘

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ ’دولت اسلامیہ قاتلوں کا گروہ ہے جس کے پاس اچھا سوشل میڈیا ہے۔‘ خیال رہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اپنے گروہ میں یورپ اور امریکہ سے نئے ارکان کی بھرتیاں انٹرنیٹ کے ذریعے کرتی ہے۔

اسی بارے میں