’انسانیت کو انسان کی اپنی تخلیقات سے خطرات‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پروفیسر ہاکنگ بی بی سی کا رواں سال کا ریتھ لیکچر دے رہے ہیں

مشہور برطانوی سائنس دان پروفیسر سٹیون ہاکنگ کے مطابق انسانیت کو انسان کی اپنی تخلیقات کی وجہ سے خطرات کا سامنا ہے۔

جن خطرات کی انھوں نے نشاندہی کی ہے اُن میں ایٹمی جنگ، ماحولیاتی تپش اور جینیاتی طور پر تخلیق کردہ وائرس شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مزید ترقی سے ’ایسے نئے طریقے ایجاد ہوں گے جس سے چیزیں غلط سمت میں جا سکتی ہیں۔‘

’مصنوعی ذہانت انسانی نسل کا خاتمہ کر دے گی‘

پروفیسر ہاکنگ بی بی سی کا رواں سال کا ریتھ لیکچر دے رہے ہیں، جس میں بلیک ہولز کے بارے میں تحقیق کا جائزہ لیا جائے گا۔ اُن کی یہ تنبیہ سامعین کی جانب سے کیے گئے سوالات کے جواب میں سامنے آئی۔

انھوں نے کہا کہ انسانیت اس صورت میں زندہ رہے گی اگر فرض کر لیا جائے کہ وہ بالآخر دیگر سیاروں پر نوآبادیاں قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

’اگرچہ کسی بھی سال زمین پر تباہی کے امکانات کافی کم ہیں، یہ امکانات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جمع ہوتے رہتے ہیں اور اگلے ہزار یا دس ہزار سالوں میں اس تباہی کے ہونے کے یقینی امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔

’اُس وقت تک ہمیں خلا اور دیگر ستاروں میں پھیل جانا چاہیے۔ اس طرح زمین پر تباہی کا مطلب انسانی نسلوں کا خاتمہ نہیں ہو گا۔

’البتہ ہم کم از کم اگلے سو سالوں تک خلا میں خُود مختار نوآبادیاں قائم نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں اس مدت کے دوران بہت زیادہ ہوشیار رہنا ہو گا۔‘

Image caption ہاکنگ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بارے میں بھی اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں

یہ بات کافی الجھن والی محسوس ہوتی ہے کہ سائنس کے ایک معتبر نام کی جانب سے خود سائنسی ترقی ہی کو نئے خطرات کا اہم باعث قرار دیا جا رہا ہے۔

سٹیون ہاکنگ اس سے پہلے کئی مواقع پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی وجہ سے انسانی نسل کے معدوم ہونے کے ممکنہ خطرات کو اجاگر کر چکے ہیں۔ لیکن انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے طریقے ڈھونڈ لیے جائیں گے۔

’ہم اس سلسلے میں پیش رفت ختم نہیں کر رہے یا اس کا رُخ نہیں بدلنے جا رہے، اس لیے ہمیں اِن خطرات کی شناخت اور اُن پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ میں پُرامید ہوں اور مجھے یقین ہے کہ ہم یہ کر سکتے ہیں۔‘

نوجوان سائنس دانوں کے لیے نصیحت کے سوال پر پروفیسر ہاکنگ نے کہا کہ انھیں ’ہماری وسیع اور پیچیدہ کائنات‘ کے متعلق حیرت کے احساس کو برقرار رکھنا چاہیے۔

’میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ زندہ رہنے اور نظریاتی طبیعیات کے متعلق تحقیق کا شاندار وقت ہے۔ کسی چیز کی دریافت کے لیے اس لمحے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے جس کے متعلق اس سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔‘

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ محققین کی آنے والی نسلوں کو اس بات سے آگاہ ہونا چاہیے کہ سائنسی اور تکنیکی ترقی کس طرح سے دنیا کو تبدیل کر رہی ہے۔

’اس بات کی یقین دہانی ضروری ہے کہ یہ تبدیلیاں مثبت سمت میں جا رہی ہیں۔ ایک جمہوری معاشرے میں اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل کے متعلق باخبر فیصلے کرنے کے لیے ہر ایک کو سائنس کے متعلق بنیادی معلومات ہونا ضروری ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP Zero Gravity Corp
Image caption ہاکنگ کی بیٹی نے بتایا کہ وہ ضدی اور قابلِ رشک حد تک باہمت انسان ہیں

موٹر نیورون ڈیزیز (عصبی بیماری) کی تشخیص کے بعد سے پروفیسر ہاکنگ کے اپنی معذوری کے حوالے سے درپیش ان گنت جسمانی چیلنجوں پر قابو پانے کے عزائم دنیا بھر میں ستائش اور توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

اُن کی بیٹی لُوسی، جو ایک صحافی اور ادیبہ ہیں اور جنھوں نے پروفیسر ہاکنگ کے ہمراہ مل کر بچوں کی سائنس کی کتابیں لکھی ہیں، اُنھیں پروفیسر ہاکنگ کی جدوجہد کو بیان کرنے کے لیے کہا گیا۔

انھوں نے بتایا: ’میرے خیال میں وہ ضدی اور قابلِ رشک حد تک باہمت انسان ہیں اور اپنی مکمل دماغی توجہ اپنے آگے بڑھنے کے مقصد پر صرف کررہے ہیں۔

’لیکن وہ نہ صرف زندہ رہنے کے مقصد کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں بلکہ غیرمعمولی کاموں کے لیے مہارت حاصل کرنے، کتابیں لکھنے، لیکچر دینے، دوسرے لوگوں کو اعصابی انحطاط اور دیگر معذوریوں کے متعلق آگاہ کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں