بے ترتیب دھڑکن خواتین کے لیے زیادہ خطرناک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ایک تجزیے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دل کی غیر مستقل دھڑکن مردوں کے مقابلے عورتوں کی صحت کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔

اس تجزیے میں 30 مطالعے شامل ہیں اور ان مطالعوں میں 40 لاکھ سے زیادہ مریضوں کے کوائف کو سامنے رکھا گیا ہے۔

تجزیے کے مطابق جن خواتین کو ایٹریئل فائبرلیشن (اے ایف) یعنی بغیر ظاہری علامت کے دل کے عضلوں یا پٹھوں میں غیر ہم آہنگی کی بیماری ہو انھیں دل کی مہلک بیماری یا دل کا دورہ پڑنے کا دگنا خطرہ ہے۔

مطلقہ افراد کو ہارٹ اٹیک کا زیادہ امکان

دل کی بیماری: جتنے پست قد، اتنا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption غیر مستقل دھڑکن سے دوچار لوگوں میں خواتین کو دل کے مرض کا زیادہ خطرہ رہتا ہے

ایسی خواتین پر اے ایف دوائیں کم اثر کرتی ہیں یا پھر ان کی تشخیض مردوں کے مقابلے دیر سے ہوتی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے کونر ایمڈن اور ان کے ساتھیوں نے طبی جریدے بی ایم جے کو بتایا: ’اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ بےترتیب دھڑکن والی خواتین کا مردوں کے مقابلے کم علاج ہوتا ہے۔

دریں اثنا ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کو ان تشخیص سے باخبر ہونا چاہیے تاکہ جن اموات کو بچایا سکتا ہے ان کے لیے زیادہ کیا جا سکے۔

برطانیہ میں تقریبا دس لاکھ افراد کو اے ایف ہے اور آپ اسے خود سے اپنی نبض پر 30 سیکنڈ تک انگلی رکھ کر جانچ سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption لگاتار غیر مسلسل دل کی دھڑکن کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں

دھڑکن کے تسلسل میں کبھی کبھی تسلسل کا نہ ہونا جیسے کئی بار دھڑکن کا نہ آنا یا پھر ایک ساتھ دو دھڑکن کا آجانا عام ہے اور پریشانی کی کوئی بات نہیں۔

لیکن اگر آپ کی دھڑکن میں یہ بات متواتر طور پر غیر مسلسل ہے تو پھر آپ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ دھڑکن بہت تیز بھی ہو سکتی ہے۔ آرام کی حالت میں بھی ایک منٹ میں 100 سے زیادہ ہو سکتی ہے جس سے سرچکرانا یا پھر سانس کا مختصر ہونا ہو سکتا ہے۔

دواؤں سے اے ایف کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور دل کا دورہ پڑنے کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption آپ خود سے اپنے دل کی دھڑکن کو جانچ سکتے ہیں

جو اے ایف کے مرض سے دو چار ہیں ان کے دل کے بالائی چیمبر جنھیں ایٹریا کہا جاتا ہے وہ اچانک سکڑجاتے ہیں، بعض اوقات اتنا جلدی کہ دل کے عضلوں کو دو بار سکڑنے کے درمیان ٹھیک سے پرسکون ہونے کا موقع نہیں ملتا۔

برطانوی ہارٹ فاؤنڈیشن کی جون ڈیویسن کا کہنا ہے کہ خواتین اور مرد دنوں میں اے ایف کی جانچ جتنی ہونی چاہیے نہیں ہوپاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں مزید مطالعوں کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں