ہمالیہ کا ایک نیا اور انوکھا جنگلی پرندہ

Image caption ہمالیہ کی جنگلی چڑیا 1949 کے بعد سے ہندوستان میں دریافت کیے جانے والے نئے پرندوں کی چوتھی قسم ہے

سائنس دانوں نے شمالی بھارت اور چین میں پرندوں کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے، جسے ہمالیائی جنگلی چڑیا کا نام دیا گیا ہے۔

پہاڑوں پر موجود جنگلوں میں کام کے دوران سائنس دانوں کو ان پرندوں کے بارے میں پتہ چلا جو پہاڑوں کی پتھریلی چوٹیوں پر رہنے والے پرندوں سے زیادہ سریلی آواز میں چہچہا رہے تھے۔

اس کے بعد انھوں نے ان پرندوں کے ظاہری اور جینیاتی فرق کے بارے میں بھی معلوم کیا اور بتایا کہ ’سادہ پشت والی جنگلی چڑیا کی بھی دو مختلف اقسام ہیں۔‘

پہاڑوں پر رہنے والی نئی قسم کا نیا نام ’الپائن کی چڑیا‘ تجویز کیا گیا ہے۔

اس تحقیق کے رہنما، پروفیسر آلسٹروم جن کا تعلق وئیڈن کی اپسلا یونیورسٹی سے ہے، بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ ’دنیا میں اب دریافت کرنے کے لیے پرندوں کی زیادہ اقسام نہیں بچی ہیں۔ ایسے میں اگر آپ کوئی نئی قسم دریافت کرتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔‘

ہمالیہ کی جنگلی چڑیا 1949 کے بعد سے ہندوستان میں دریافت کیے جانے والے نئے پرندوں کی چوتھی قسم ہے۔

جنگلوں میں پوشیدہ

ایوی آن ریسرچ نامی جنرل میں چھپنے والی اس تحقیقی رپورٹ پر پروفیسر آلسٹروم نے تحقیق کاروں کی ایک بین الاقوامی ٹیم کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔

بھارت میں پرندوں کے علم کے ماہر مرحوم ڈاکٹر سیلم علی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے چڑیا کی اس نئی دریافت کو ’زوتھیرا سلیم علی‘ کا سائنسی نام دیا گیا ہے۔

Image caption پرندوں کی ایک قسم درختوں کی قطار سے اوپر پائی گئی جن کے چہچہانے کا انداز قدرے کھردرا ور بے سرا تھا جبکہ کچھ ہی نیچے جنگلوں میں پائے جانے والی قسم کی آواز زیادہ سریلی تھی

پروفیسر آلسٹرون کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹر سیلم علی نے ہندوستان میں پائے جانے والے پرندوں پر بہت کام کیا ہے اور وہ پرندوں پر معلومات اور ان کے تحفظ کے سلسلے میں ایک بہت ہی اہم شخصیت رہے ہیں۔‘

اس نئی دریافت کا آغاز سنہ 1999 میں ہوا تھا جب ہمالیہ کے پہاڑوں پر ایک مہم کے دوران پہلی مرتبہ ان پرندوں کی آواز کو غور سے سنا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ’میں اپنے بھارتی ساتھی شاشانک دلوی کے ساتھ ارونا چل پردیش کے جنگلات میں تھا جہاں ہمیں پتہ چلا کہ سادہ پشت والی جنگلی چڑیا کی بھی دو اقسام ہیں۔ ہم نے محسوس کیا کہ اس فرق کی وجہ ان کا مختلف اونچائیوں اور مختلف مقامات پر رہنا ہے۔‘

پرندوں کی ایک قسم درختوں کی قطار سے اوپر پائی گئی جن کے چہچہانے کا انداز قدرے کھردرا ور بے سرا تھا جبکہ کچھ ہی نیچے جنگلوں میں پائے جانے والی قسم کی آواز زیادہ سریلی تھی۔

پروفیسر آلسٹن کہتے ہیں کہ ’انھوں نے ہمیں مختلف گانے سنائے۔ شروع میں ہم ان کی بناوٹ اور پروں کے فرق کو محسوس نہ کرسکے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم جنگلوں میں رہنے والی قسم کو صحیح طور سے دیکھ نہیں پائے تھے کیونکہ وہ کہیں چھپے ہوئے تھے۔‘

کئی سال کی تفصیلی تحقیق کے دوران سائنس دانوں کی ٹیم نے دنیا بھر کے 15 عجائب گھروں میں موجود ہندوستان اور چین سے تعلق رکھنے والے جنگلی پرندوں کی اقسام کا تقابلی جائزہ لیا۔

اس تحقیق میں ان کے ڈی ان اے کا تجزیہ بھی شامل تھا جس سے سائنس دانوں کے اس خیال کو تقویت ملی کہ پرندوں کی یہ دو اقسام کئی ہزار سالوں سے الگ الگ اس خطے میں پروان چڑھ رہی ہیں۔

پروفیسر آلسٹرون بیان کرتے ہیں کہ ’یہ دونوں اقسام واقعی بہت مختلف ہیں، حالانکہ دیکھنے میں دونوں تقریبا ایک جیسی ہی لگتی ہیں۔‘

’ان دونوں اقسام کے ارتقا کی تاریخ بھی کئی ہزار سالوں سے الگ ہو چکی ہے۔ ممکن ہے یہ عمل بھی اسی وقت شروع ہوگیا ہو جب انسان اور چمپینزی کے ارتقائی عمل کی کہانی ایک دوسرے سے الگ ہونا شروع ہوگئی تھی۔‘

ٹیم کا خیال ہے کہ شروع میں دونوں اقسام ایک ہی ہوں گی لیکن بعد میں پہاڑوں کی چوٹیوں اور جنگلوں میں الگ الگ سکونت اختیار کرنے کے بعد ان کے ارتقا کا عمل بھی شروع ہو گیا۔

’الپائن کی چڑیا کی ٹانگیں اور دم جنگلی چڑیا کے مقابلے میں نسبتا لمبی ہیں۔ جس کی وجہ یقیناً ان کا پہاڑی علاقوں میں رہنا ہے، کیونکہ پہاڑوں میں رہنے والے پرندوں کو جنگلوں میں رہنے والے پرندوں کے مقابلے میں زیادہ لمبی ٹانگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‘

اسی بارے میں