سازشوں کو بےنقاب ہونے میں کتنا وقت درکار، فارمولا تیار

تصویر کے کاپی رائٹ Nasa
Image caption انسان کو چاند پر بھیجنے کے ناسا کے پروگرام میں چار لاکھ سے زیادہ اہلکار شامل تھے۔ اتنی بڑی تعداد کے ہوتے ہوئے یہ سازش 3.7 سالوں میں بے نقاب ہو چکی ہوتی

برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڈیوڈ گرائمز کا کہنا ہے کہ سازش کو چھپائے رکھنا بہت مشکل ہے اور کبھی نا کبھی سازش کرنے والے اس کو عیاں کردیتے ہیں۔

ڈاکٹر گرائمز نے ریاضی کا فارمولا تیار کیا ہے اس کو چار سازشی تھیوریز پر لاگو کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ سازش عیاں ہونے میں تین اہم عوامل ہیں۔ ایک اس سازش میں کتنے افراد شامل تھے، دوسرا سازش کو کتنا وقت گزر گیا ہے اور تیسرا سازش کی ناکامی کے امکانات کیا ہیں۔

انہوں نے اس فارمولے کو چار مشہور سازشی تھیوری پر لاگو کیا۔ ایک ہے کہ چاند پر جانا جھوٹ ہے، موسمی تبدیلی ایک دھوکہ ہے، اوٹزم ویکسین کی وجہ سے ہوتا ہے اور ادویات بنانے والی کمپنیاں سرطان کے علاج کو چھپا رہی ہیں۔

ڈاکٹر گرائمز کا کہنا ہے کہ ان چاروں سازشی تھیوریز میں اگر سچائی ہوتی تو اب تک ان کی حقیقت عیاں ہو چکی ہوتی۔

ان کا کہنا ہے کہ چاند پر جانے کی حقیقت .7 سالوں میں سامنے آ جاتی، موسمی تبدیلی 3.7 سے 26.8 سالوں میں، اوٹزم 3.2 سے 34.8 سالوں میں اور کینسر 3.2 سالوں میں عیاں ہو جاتی۔

ان کا کہنا ہے کہ انسان کو چاند پر بھیجنے کے ناسا کے پروگرام میں چار لاکھ سے زیادہ اہلکار شامل تھے۔ اتنی بڑی تعداد کے ہوتے ہوئے یہ سازش 3.7 سالوں میں بے نقاب ہو چکی ہوتی۔

ڈاکٹر گرائمز کے فارمولے کے تحت چاند کا سفر ڈھونگ تھا تو اس کو 50 سال ہو چکے ہیں اور فارپولے کے تحت اس سازش میں زیادہ سے زیادہ 251 افراد شامل ہو سکتے ہیں۔

اس لیے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ چاند کا سفر حقیقت ہے سازش نہیں۔