قدیم بابل کے لوگ جیومیٹری جانتے تھے

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ریاضی کی شاخ جیومیٹری یا علم الاشکال کا استعمال ماضی میں لگائے گئے اندازوں سے 14 سو سال پرانا ہے۔

تحقیق کے مطابق قدیم بابل کے لوگ جیومیٹری کے حساب کتاب کے ذریعے رات کے وقت مشتری سیارے کا پتہ لگاتے تھے۔

اس تازہ تحقیق سے قبل یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جیومیٹری کا استعمال 14ویں صدی میں شروع ہوا۔ یہ نئی تحقیق سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

جرمنی میں ہمبولڈ یونیورسٹی کے پروفیسر میتھیو اوسن درہاور نے لکھا ہے کہ انھیں اس بات کی توقع نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ جیومیٹری بہت بنیادی علم ہے اور اس کا استعمال سائنس کی تمام شاخوں میں ہوتا ہے۔

قدیم بابل یا کلدانی سلطنت کے لوگ موجودہ دور کے عراق اور شام کے علاقوں میں رہتے تھے۔ یہ تہذیب 18 سو قبل مسیح میں ابھری تھی۔

مٹی کی تختیوں پر قدیم رسم الخط میں لکھی گئی تحریروں سے معلوم ہوا ہے کہ یہ لوگ علمِ نجوم سے واقف تھے۔

جرمن پروفیسر کا کہنا ہے کہ انھوں نے مٹی کی مستطیل تختیوں پر کندہ کیا تھا کہ کس وقت کے ساتھ مشتری کی رفتار بدلتی رہتی ہے۔

بی بی سی کے ورلڈ سائنس پروگرام میں جرمن پروفیسر نے بتایا کہ ان لوگوں نے آسمان کے مشاہدات تحریر کیے۔ یہ مشاہدات کئی صدیوں پر محیط تھے۔

لیکن یہ تازہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ انھیں ریاضیات کا بھی علم تھا۔

اس سے قبل یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جیومیٹری کا پہلی مرتبہ استعمال قرون وسطیٰ میں اوکسفرڈ اور پیرس میں کیا گیا۔ لیکن اب معلوم ہوا کہ ساڑھے تین سو قبل مسیح بابل میں اس کا استعمال شروع ہو گیا تھا۔

جرمن پروفیسر نے 19ویں صدی میں دریافت کی گئی مٹی کی پانچ تختیوں کا تجزیہ کیا۔ یہ تختیاں برطانیہ کے عجائب گھر میں محفوظ ہیں۔

ان پر کندہ تحریروں سے علم ہوا ہے کہ اس زمانے کے باسی ایک چورس شکل کے آلے کی مدد سے حساب لگاتے تھے کہ مشتری کب نمودار ہو گا اور اس کی رفتار کیا ہوگی اور وہ کتنا سفر طے کرے گا۔

جرمن پروفیسر نے بتایا کہ اس چوکور آلے سے معلوم کیا جاتا تھا کہ وقت کے ساتھ مشتری کی رفتار کس طرح بدلتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ تحریر کسی انتہائی ذہین آدمی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس مستطیل کے ایک خط سے رفتار معلوم کی جاتی تھی اور دوسرے خط کی مناسبت سے وقت کا تعین کیا جاتا تھا۔

اسی بارے میں