’زِکا وائرس کے خلاف برازیلی عوام کو متحرک ہونا ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ PR
Image caption برازیلی صدر دلما روسف کے مطابق وائرس پھیلانے والے مچھروں کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے

برازیل کی صدر دلما روسف نے عوام سے کہا ہے کہ وہ ملک میں زِکا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے سلسلے میں حکومت کا ساتھ دیں۔

صدر روسف کی جانب سے یہ اپیل عالمی ادارۂ صحت کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ اسوائرس سے لاحق خطرات اب ہنگامی صورتحال کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ یہ وائرس پھیلانے والے مچھروں کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم وفاقی سطح پر فوج اور اپنے تمام حکام کو متحرک کر رہے ہیں اور یہ یہی ریاستی اور میونسپلٹی کی سطح پر کیا جائے گا۔ مچھر نہ تو اس ملک سے طاقتور ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں جو ان کے خطرے سے آگاہ ہے۔‘

برازیلی صدر نے اپنے وزیرِ صحت کی جانب سے گذشتہ ہفتے دیے گئے اس بیان کو بھی مسترد کر دیا کہ برازیل زکا وائرس کے خلاف لڑائی ہار رہا ہے۔

ادھر زِکا وائرس کی ویکسین پر کام کرنے والے سائنسدانوں نے بھی کہا ہے کہ یہ ویکسین ماضی کے اندازوں کے برعکس ایک برس کے اندر اندر تیار کی جا سکتی ہے۔

ویکسین کی تیاری پر کام کرنے والی ایک کمپنی انوویو فارماسیوٹیکل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ویکسین کا تجربہ چھوٹے جانوروں پر کیا جا رہا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ انسانوں پر اس ویکسین کے تجربے کا عمل رواں برس کی آخری ششماہی میں شروع کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برازیل اس وقت خطے میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے

برازیل میں وکلا، حقوقِ انسانی کے کارکنوں اور سائنسدانوں نے زِکا وائرس سے متاثرہ خواتین کو اسقاطِ حمل کی اجازت دلوانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

بی بی سی کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ برازیلی سپریم کورٹ میں آنے والے دو ماہ کے دوران یہ درخواست جمع کروائی جائے گی جس میں کہا جائے گا کہ ’زکا وائرس پھیلنے کی ذمہ دار برازیلی حکومت ہے جس نے یہ بیماری پھیلانے والے مخصوص مچھروں کے خاتمے کے لیے اقدامات نہیں کیے۔‘

درخواست میں کہا جائے گا کہ برازیلی خواتین کو ’ناقص پالیسیوں کے نتائج بھگتنے کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔‘

سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والا گروپ وہی ہے جس نے سنہ 2012 میں پیدا ہونے والے بچے میں دماغی بیماری انینسیفیلے کے خطرے کی صورت میں بھی اسقاط کی اجازت حاصل کی تھی۔

خیال رہے کہ برازیل میں اسقاطِ حمل غیرقانونی عمل ہے تاہم طبی پیچیدگیوں یا جنسی زیادتی کا شکار خواتین کو اس کی اجازت ہے۔

مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والا زکا وائرس لاطینی امریکہ کے 20 ممالک میں اب تک پھیل چکا ہے تاہم برازیل اس وقت خطے میں اس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس وائرس کا تعلق برازیل میں مائکرو سفیلے نامی بیماری سے متاثرہ بچوں کی پیدائش میں اضافے سے بھی جوڑا جا رہا ہے

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ براعظم جنوبی امریکہ میں زکا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 30 سے 40 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔

برازیل نے زکا وائرس کا پہلا کیس جنوبی امریکہ میں مئی 2015 میں رپورٹ کیا تھا اور ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ برازیل میں ایک اندازے کے مطابق پانچ سے 15 لاکھ افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔

اس وائرس کا تعلق برازیل میں مائکرو سفیلے نامی بیماری سے متاثرہ بچوں کی پیدائش میں اضافے سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

برازیلی وزارتِ صحت نے اس بیماری کی وجہ سے غیر معمولی طور پر چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش کے 270 واقعات کی تصدیق کی ہے جبکہ ایسے 3448 واقعات کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

اسی بارے میں