کیا دنیا سے مچھروں کا خاتمہ کر دینا چاہیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ iStock
Image caption اب تک کی معلومات کے مطابق مچھروں کی 3،500 قسمیں پائی جاتی ہیں جس میں سے بیشتر انسانی زندگی کو پریشان نہیں کرتے اور پودوں پر رہتے ہوئے پھلوں کے جوس پر ہی گزر بسر کر لیتے ہیں

مچھر دنیا کا ایک ایسا سب سے خطرناک کیڑا ہے جس سے پھیلنے والی بیماریوں سے ہر برس لاکھوں لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔

اب اس وقت اسی مچھر کی وجہ سے ہی زکا وائرس پھیلا ہوا ہے جس کی وجہ سے جنوبی امریکی ممالک میں پیدا ہونے والے ہزاروں بچے ذہنی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا اس کیڑے کو دنیا سے نیست و نابود کر دیا جانا چاہیے؟

اب تک کی معلومات کے مطابق مچھروں کی 3،500 قسمیں پائی جاتی ہیں جس میں سے بیشتر انسانی زندگی کو پریشان نہیں کرتے اور پودوں پر رہتے ہوئے پھلوں کے رس پر ہی گزر بسر کر لیتے ہیں۔

ان میں سے محض چھ فیصد مچھروں میں سے صرف مادہ مچھر ہی اپنے انڈے کی بڑھوتری کے لیے انسانی خون چوستی ہے اور ان میں بھی صرف نصف کی وجہ سے ہی انسان مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتا ہے۔

تاہم مچھر کی صرف ان 100 اقسام سے ہی پڑنے والا اثر کافی تباہ کن ہے۔

گرینچ یونیورسٹی میں نیچرل ریسورس انسٹی ٹیوٹ کے فرانسس ہاکس کا کہنا کہ ’دنیا کی نصف آبادی کو مچھروں سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے خطرہ لاحق ہے۔ ان سے انسانوں پر جو برا اثر پڑا ہے اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بعض مچھر زکا وائرس کی وباء بھی پھیلاتے ہیں جس کے متعلق پہلے یہ خیال تھا کہ اس سے صرف ہلکا بخار ہوتا ہے۔ لیکن اب تو سائنسدانوں کو اس بات کی تشویش ہے کا زکا وائرس سے تو بچوں کو مادر رحم میں ہی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے

مچھروں سے جنم لینے والے امراض جیسے ڈینگی، ملیریا اور زرد بخار سے ہر برس، بیشتر غریب ممالک میں، دس لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔

بعض مچھر زکا وائرس کی وباء بھی پھیلاتے ہیں جس کے متعلق پہلے یہ خیال تھا کہ اس سے صرف ہلکا بخار ہوتا ہے لیکن اب تو سائنسدانوں کو اس بات کی تشویش ہے کا زکا وائرس سے تو بچوں کو مادر رحم میں ہی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مچھروں سے بچنے کے لیے مچھّر دانی کے استمعال جیسے مختلف طریقے بھی سکھائے جاتے رہے تاکہ اس کے کاٹنے سے بچا جا سکے لیکن کیا یہ آسان کام ہوگا کہ بیماری پھیلانے والے ان تمام مچھروں کو نیست و نابود کر دیا جائے؟

ماہرِ حیاتیات اولیویا جیڈسن نے اس خیال کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے جہاں دس لاکھ افراد کی زندگی بچائی جا سکتی ہے وہیں مچھروں کی مختلف قسموں میں تقریباً ایک فیصد کی کمی ہوگي۔

انھوں نے اخبار نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہمیں انھیں پوری طرح سے مٹانے پر غور کرنا چاہیے۔‘

برطانیہ میں سائنسدانوں نے آکسفرڈ یونیورسٹی میں ڈینگي اور زکا وائرس پھیلانے والے ایئڈز ایجپٹی نامی مچھر کو جینیاتی طور پر تبدیل کیا ہے۔ اس تبدیلی سے نر مچھر اپنی نسلی افزائش صحیح طور پر نہیں کر پاتا اور اس کی دوسری نسل کا مچھر اگلی نسل کی پیدائش کے عمل سے پہلے مر جاتا ہے جس سے بیماریوں کا پھیلاؤ رک جاتا ہے۔

جینیاتی طور تبدیل کیے گئے ایسے تقریباً 30 لاکھ مچھروں کو سنہ 2009 اور 2010 کے دوارن ایک علاقے میں چھوڑا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بیشتر مچھر پودوں پر پھلوں کے جوس سے زندگی گزرارتے ہیں اور زیرگي کے لیے بہت اہم ہیں۔ مچھر پرندوں اور چمگادڑوں کی اہم خوراک بھی ہیں ساتھ ہی ان کا لاوا مچھلیوں اور مینڈک کی اہم خوارک ہے۔ اس سے دوسروں کے لیے خوارک کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے

اوکزیٹک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سے علاقے میں تقریا 96 فیصد مچھر کم ہوگئے تھے۔ اسی طرح کی حال میں ایک آزمائشی مہم سے برازیل میں تقریبا 92 فیصد مچھروں میں کمی واقع ہوئی۔

تو کیا مچھروں کے خاتمے سے کوئی نقصان بھی ہے؟ فلوریڈا یونیورسٹی میں ماہر حشرات الارض فل لنبز کا کہنا ہے کہ مچھروں کا نیست و نابود ہونا ’ان چاہے سائیڈ افیکٹس سے پُر ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ بیشتر مچھر زیرگي کے لیے بہت اہم ہیں۔ مچھر پرندوں اور چمگادڑوں کی اہم خوراک بھی ہیں ساتھ ہی ان کا لاوا مچھلیوں اور مینڈک کی اہم خوارک ہے۔ اس سے دوسروں حشرات اور جانوروں کے لیے خوارک کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

لیکن بعض کا کہنا ہے کہ مچھر اس کام ضرور آتے ہیں لیکن ان کے خاتمے کے بعد دوسرے کیڑے اس کی جگہ لے سکتے ہیں۔

اولیویا جیڈسن کہتی ہیں ’ہم جب بھی کسی کیڑے سے چھٹکارا حاصل کرتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا ہے کہ وہ زمین خالی پڑی رہتی ہے۔ بلکہ دوسرے کیڑے ان کی جگہ لے لیتے ہیں۔‘

لیکن لونبز کہتے ہیں کہ دوسرے کیڑے مچھروں کی مکمل جگہ نہیں لے سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی جگہ ہوسکتا ہے کہ دوسرے کیڑے مچھروں کے برابر یا اس سے بھی خطرانک وائرس پھیلائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کچھ لوگ یہ بھی کہیں گے انسانوں کے لیے مچھروں کی پوری نسل کو ختم کرنا کہاں تک صحیح ہے جبکہ خود انسان دوسری بہت سی حیاتیات کے لیے خطرہ ہے

سائنس دان ڈیوڈ کوامین کہتے ہیں کہ انسانی زندگی پر مچھروں کی تخریب کا اثر محدود ہے۔ ’مچھر استوائی جنگلات میں ہوتے ہیں جہاں انسان تو بستا نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق خود انسان دیگر حیاتیات کے لیے خطرہ ہے اور اس کی وجہ سے بہت سی نسلیں تباہ ہوتی رہی ہیں۔

لیکن مچھروں کو تلف کرنا صرف سائنسی بحث نہیں بلکہ ایک اخلاقی بحث بھی ہے۔

کچھ لوگ یہ بھی کہیں گے انسانوں کے لیے مچھروں کی پوری نسل کو ختم کرنا کہاں تک صحیح ہے جبکہ خود انسان دوسری بہت سی حیاتیات کے لیے خطرہ ہے۔

لیکن دوسرے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ تمام مچھروں کا نہیں بلکہ ان کا ہے جو انسانی زندگی کے لیے خطرہ ہیں۔

اسی بارے میں