’کم عمر ترین جڑواں بہنوں کا کامیاب آپریشن‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ان جڑواں بہنوں کا آپریشن گذشتہ سال دسمبر میں کیا گیا تھا

سوئٹزرلینڈ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے آٹھ دن کی جڑواں بہنوں، جن کے جسم آپس میں جڑے ہوئے تھے کو علیحدہ کرنے کا کامیاب آپریشن کیا ہے۔ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ اتنے چھوٹے بچوں کا کیا جانے والا پہلا کامیاب آپریشن ہے۔

گذشتہ دسمبر میں پیدا ہونے والی یہ جڑواں بہنیں جگر اور چھاتی سے جڑی ہوئی تھیں۔

سوئس میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر ڈاکٹروں نے ان بچیوں کی پیدائش کے چند ماہ بعد ان کا آپریشن کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم ان کی جان کو خطرہ ہونے کے پیش نظر ڈاکٹروں نے یہ آپریشن جلد از جلد کرنے کا فیصلہ کیا۔

اطلاعات کے مطابق اس آپریشن کے کامیاب ہونے کے امکانات صرف ایک فیصد تھے۔

یہ جڑواں بہنیں اپنی تیسری بہن جو ان سے الگ اور صحت مند تھی کے ساتھ برن کے انسیلسپتل ہسپتال میں پیدائش کے مقررہ وقت سے آٹھ ہفتے قبل پیدا ہوئیں۔ ان بہنوں کے نام لدیا اور مایا رکھے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آپریشن کرنے والے تمام ڈاکٹر تصویر بنوانے کے لیے نہیں آسکے کیونکہ ان میں سے بعض ان بچیوں کا جائزہ لے رہے تھے

گذشتہ سال دسمبر میں 13 ڈاکٹروں پر مشتمل ایک میڈیکل ٹیم نے پانچ گھنٹے طویل آپریشن میں مایا اور لیدیا کو الگ کیا۔ ہسپتال کا کہنا ہے کہ ’جڑواں بچیاں جگر کے ساتھ کافی حد تک جڑی ہوئی تھیں لیکن ان کے تمام ضروری اعضا تھے۔‘ ان دونوں کا وزن ملا کر 2.2 کلو گرام تھا۔ ان بچیوں میں سے ایک میں بہت زیادہ خون تھا اور بلڈ پریشر بھی بہت بلند تھا جبکہ دوسری بچی میں نہیں تھا۔

ہسپتال کے مطابق ’اس سے قبل اتنی چھوٹی عمر کے بچوں کو کبھی کامیابی سے الگ نہیں کیا گیا تھا۔‘

ہسپتال کے مطابق ’یہ بچیاں ابھی کافی چھوٹی ہیں لیکن تیزی سے صحتیاب ہو رہی ہیں۔‘

اسی بارے میں