’سائنسدان شہاب ثاقب گرنے سے ہلاکت کی تصدیق کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ india tamil nada mateorite
Image caption ویلور میں شہاب ثاقب گرنے سے زمین پر گڑھا پڑ گیا ہے

بھارتی سائنس دانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بھارت کے جنوبی شہر ویلور میں شہاب ثاقب گرنے سے ایک شخص کی ہلاکت کے دعوے کی تصدیق کریں۔

اتوار کو تامل ناڈو کی وزیر اعلیٰ جیہ للیتا جیہ رام نے نے کہا تھا کہ بس ڈرائیور کمراج کی موت کالج کیمپس میں شہاب ثاقب گرنے سے ہوئی تھی۔

تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق کے لیے مزید ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا گہرے رنگ کا پتھر شہاب ثاقب ہی ہے۔

اگر اس امر کی تصدیق ہو گئی تو ماہرین کے مطابق یہ دو سو سالوں میں شہاب ثاقب گرنے سے یہ پہلی موت ہوگی۔

دمدار ستاروں سے متعلق سائنسی جریدے انٹرنیشنل کامٹ کوارٹرلی کی تیار کردہ فہرست کے مطابق سنہ 1825 میں بھارت ہی میں ایک شخص ’شہاب ثاقب گرنے‘ سے ہلاک ہوا تھا۔

ویلور پولیس کی چیف پی کے سنتھل کماری نے بھارتی روزنامے ’دی ہندو‘ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی دسن انجینیئرنگ کالج میں ’جائے وقوعہ سے تقریباً دس گرام وزنی ایک چھوٹا پتھر برآمد ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Tamil Nadu Police
Image caption انجینیئرنگ کالج میں ’جائے وقوعہ سے تقریباً دس گرام وزنی ایک چھوٹا پتھر برآمد ہوا ہے

’ہم نے سائنس دانوں سے درخواست کی ہے کہ وہ آ کر اس کا معائنہ کریں۔‘

کمراج اُس وقت کالج کیمپس میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے جب کسی چیز کے گرنے کی زوردار آواز سنائی دی تھی۔ اس کے گرنے سے زمین میں ایک بڑا گڑھا پڑگیا اور قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

جیہ رام کے مطابق متاثرہ شخص ’شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔‘

حکومت کی جانب سے کمراج کے اہل خانہ کے لیے ایک لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ اکثر شہاب ثاقب دراصل بہت باریک ذرات پر مشتمل ہوتے ہیں جو زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہوئے ہوا سے رگڑ کھا کر حرارت کی شدت سے جلنے لگتے ہیں۔

اس کے مقابلے پر بڑے شہابِ ثاقب زمین کی فضا میں داخل ہونے سے لے کر گرنے تک شدید حرارت کے باوجود اپنی ہیئت برقرار رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں