برطانوی طالبات میں’شوگر ڈیڈی‘ایپ مقبول

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سیکنگ ارینجمنٹ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد امیر مردوں کا نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ملاپ ہے

’شوگر ڈیڈی‘ نامی مشہور ڈیٹنگ ایپلی کیشن کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی تقریباً ڈھائی لاکھ طالبات اس کی صارفین ہیں۔

ایپلی کیشن بنانے والی کمپنی ’سیکنگ ارینجمنٹ‘ کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ ایک سال کے دوران اپیلی کیشن استعمال کرنے والی نوجوان خواتین میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ اعداد و شمار ایپلی کیشن کے استعمال میں ہونے والے ای میل ایڈریسز کی بنیاد پر جمع کیے گئے ہیں، لہٰذا کچھ لوگوں کے ایک سے زائد اکاؤنٹس بھی ہو سکتے ہیں، جبکہ طالب علم کی اصطلاح سے مراد پارٹ ٹائم ملازمت کرنے والے اور ٹرینیز بھی شامل ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے صارفین ’متحرک‘ صارف ہیں اور ڈیٹ پر جاتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق گذشتہ ماہ جاری کیے گئے سرکاری اعداد و شمار سے ڈیٹنگ ایپلی کیشنز سے منسلک جرائم میں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں کی بھی ایک بڑی وجہ ہیں۔

گذشتہ سال ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ ہر پانچویں طالب علم نے سیکس انڈسٹری میں شمولیت اختیار کرنے کے بارے میں بھی سوچا تھا۔

20 میں سے ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ وہ گلیمر ماڈلنگ، ویب کیم ماڈلنگ، سٹرپنگ یا جسم فروشی کرنا چاہیں گی۔

سیکنگ ارینجمنٹ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد امیر مردوں کا نوجوان لڑکیوں کے ساتھ ملاپ ہے۔

اس کا دعویٰ ہے کہ سب سے زیادہ صارفین یونیورسٹی آف پورٹسمتھ اور یونیورسٹی آف کینٹ سے ہیں۔

اپیلی کیشن بنانے والوں کا کہنا ہے ان کے خیال میں یونیورسٹی کے بھاری اخراجات اور برطانیہ میں رہائش کے خرچ کی وجہ سے پڑھائی کے دوران طالب علموں کو پیسے کمانے کے نئے طریقوں کی جانب راغب کر رہے ہیں۔

نومبر میں بی بی سی نیوز بیٹ کے پورٹسمتھ سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ کلوور پٹیلا سے بات کی جو یہ ویب سائٹ استعمال کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’کچھ خاص معیار ہیں جو آپ کو حاصل کرنے ہوتے ہیں۔‘

’وہ زندگی میں مادی طور پر کسی ایسے مقام پر ہوتے ہیں جہاں وہ ہونا چاہتے ہیں اور وہ صرف تفریح چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram
Image caption 20 سالہ کلوور پٹیلا ڈیٹنگ ایپلی کیشز استعمال کرتی ہیں

جب سیکس کا موضوع آیا تو انھوں نے بتایا کہ لوگ شوگر ڈیڈی ڈیٹنگ کے دوران بہت کھل کر بات کرتے ہیں۔

’عام طور پر وہ صاف صاف کہہ دیتے ہیں۔ اگر انھیں یہ چاہیے تو انھیں یہی چاہیے۔ لیکن اگر یہ میں نہ چاہوں، تو پھر میں ایسا نہیں کروں گی۔

’لیکن اگر وہ بہت پرکشش ہیں یا جو کچھ بھی اور آپ اس کا برا نہیں مناتے، تو پھر کیوں نہیں۔‘

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جسم فروشی جیسا ہی ہے۔ تاہم کلوور پٹیلا اس کا خیال ہے کہ ایسا سمجھنا یہ ناانصافی ہے۔

’کچھ کا خیال ہے کہ یہ جسم فروشی ہے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ آپ کو ایسا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو آپ نہیں کرنا چاہتے۔‘

اسی بارے میں