گھوڑے انسانی جذبات میں تمیز کر سکتے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Franz Lagos
Image caption گھوڑوں میں ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھنے کی ایک فطری صلاحیت ہوتی ہے

ایک تحقیق کے مطابق گھوڑوں میں صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ انسان کے خوشی اور غم کے تاثرات کے درمیان امتیاز کرسکیں۔

برطانیہ کی سسیکس یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی جانب سے ایک تجربہ کیا گیا جس میں انسانی چہروں کی تصاویر کا استعمال کیا گیا اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ پالتوگھوڑوں نے غصے والے تاثرات کو دیکھ کر ’ناراضگی کا اظہار کیا۔‘

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان گھوڑوں کو پالنے کی وجہ سے شاید اُن کا انسانی رویوں کو اپنانے اور سمجھنے کا عمل فعال ہو سکتا ہے۔

یہ تحقیق ایک سائنسی جرنل بائیولوجی لیٹرز میں شایع ہوئی ہے۔

تحقیقی ٹیم اپنے ٹیسٹ کے نمونے اصطبل میں لے کر گئی اور کُل 28 گھوڑوں کو یہ بڑی تصاویر دکھائیں۔

ایک تحقیق کار ایمی سمتھ نے بتایا کہ ’ایک شخص نے گھوڑوں کو تصاویر دکھائیں جبکہ دیگر نے گھوڑوں کو تھاما۔‘

اُن کے مطابق ’اس کا اہم نتیجہ یہ نکلا کہ انھوں نے اُن تصاویر کو اپنی بائیں آنکھ (غصے والے تاثرات) سے دیکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NPL

ممالیہ (دودھ پلانے والے جانور) کے دماغ کے تار یہ معلومات ذخیرہ کرتے ہیں۔ دماغ کی دائیں جانب سے یہ معلومات لے کر بائیں آنکھ اُس پر عمل کرتی ہے۔

سمتھ نے بتایا کہ ’دماغ کی دائیں جانب کا نصف حصہ منفی محرکات پیدا کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ یہ صرف توانائی کی تقسیم کے متعلق ہے اس میں پورا دماغ استعمال نہیں ہوتا ہے۔‘

محققین نے گھوڑوں کو دل کی شرح ناپنے والے مانیٹرز سے بھی منسلک کیا۔ جس سے اس بات کا انکشاف ہوا کہ غصے والے چہروں کی وجہ سے گھوڑوں کے دل کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

پالتو کتوں پر کی گئی تحقیق کے بھی ایسے ہی نتائج دیکھنے میں آئے۔ جس سے یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ انسانوں کے ساتھ زندگی گزارنا جانوروں کی صلاحیتوں پر کس قدر اثر انداز ہوتا ہے۔

تاہم گھوڑوں میں ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھنے کی ایک فطری صلاحیت ہوتی ہے۔

انسانوں کی جانب سے اُن کی دیکھ بھال کی وجہ سے شاید اُن میں انسانی صلاحیتیں اپنانے کی صلاحیت پیدا ہوسکتی ہے۔

سمتھ کہتی ہیں ’اس عمل سے گھوڑوں کی اس اضافی صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے۔ (اس سے ظاہر ہوتا ہے) اُن کے اردگرد ہمارے رویے اُن پر اثر ڈالتے ہیں۔‘

اسی بارے میں