آئن سٹائن نے ٹھیک کہا تھا

Image caption کشش ثقل کی لہروں کی دریافت کو 21ویں صدی کی سب سے بڑی سائنسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے

آج سے ایک ارب سال پہلے زمین سے سوا ارب نوری سال کی دوری پر دو بلیک ہول (مُردار ستاروں) آپس میں ضم ہو گئے۔

آخر اس واقعے میں ایسی کون سی خاص بات ہے جس پر آج کل دنیا بھر میں خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں؟

اصل میں ہوا یوں کہ ہمارے سورج سے لاکھوں گنا بھاری ان بلیک ہولز کے آپس میں شدید ٹکراؤ کے نتیجے میں کائنات کی زمان و مکان کی چادر (سپیس ٹائم فیبرک) میں لہریں پیدا ہو گئیں، جو ایک ارب نوری سال کا فاصلہ طے کر کے روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہوئی گذشتہ سال ستمبر میں امریکہ میں واقع ایک خصوصی لیبارٹری میں پہنچیں، جسے خاص طور پر ان کی شناخت کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ زمان و مکان کی چادر کیا چیز ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کششِ ثقل کی لہروں کی موجودگی آئن سٹائن کے نظریے کی واحد پیشن گوئی تھی جو اب تک ثابت نہیں ہو سکی تھی

آئن سٹائن نے آج سے کوئی سو سال قبل عمومی اضافیت کا نظریہ پیش کیا تھا جس کے تحت خلا ایک چادر کی مانند ہے۔ جب کوئی بھاری جسم، مثلاً بلیک ہول، اس میں سے تیزی سے حرکت کرے تو اس چادر میں لہریں پیدا ہو جاتی ہیں۔ بالکل ایسے ہی جسے ربڑ کی لچکیلی چادر پر لوہے کا بھاری گولہ پھینک دیں تو وہ اس چادر کو نیچے دھنسا کر اس میں لہریں پیدا کر دیتا ہے۔

آئن سٹائن کے مطابق یہی لہریں کششِ ثقل پیدا کرتی ہیں۔ نظریۂ اضافیت کے مطابق زمین سورج کے گرد اس لیے گھوم رہی ہے کہ سورج نے زمان و مکان کی چادر میں ایک گڑھا پیدا کر رکھا ہے اور زمین اور نظامِ شمسی کے دوسرے سیاروں سمیت اس گڑھے کے جھکاؤ میں لڑھکتی چلی جا رہی ہے۔

یہ تو نظریہ ہو گیا۔ لیکن عملی طور پر یہ لہریں اس قدر خفیف ہوتی ہیں کہ انھیں دریافت کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ خود آئن سٹائن نے دعویٰ کیا تھا کہ کششِ ثقل کی لہروں کو کبھی بھی دریافت نہیں کیا جا سکے گا۔

امریکی سائنس دان جوزف ویبر نے آج سے نصف صدی قبل دو سلاخیں لٹکا کر ان لہروں کا مشاہدہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے نہ صرف دعویٰ کیا بلکہ مرتے دم تک اس بات پر قائم رہے کہ انھوں نے یہ لہریں دریافت کر لی ہیں۔ یہ الگ بات کہ دوسرے سائنس دانوں نے ان سے اتفاق نہیں کیا۔

حتیٰ کہ امریکی خلائی ادارے ناسا نے 1972 میں چاند پر ان لہروں کو کھوجنے والا آلہ بھیجا تھا، مگر وہ بھی ناکام رہا۔

1992 میں امریکی سائنس دانوں نے ایک منصوبے کا آغاز کیا جس کا مقصد ان لہروں کو دریافت کرنا تھا۔ اس منصوبے کو لیزر انٹرفیرومیٹر گریویٹیشنل ویو آبزرویٹری یعنی لیگو (LIGO) کا نام دیا گیا۔ کروڑوں ڈالر کی لاگت اور عشروں کی محنت کے بعد بالآخر اس انتہائی حساس تجربہ گاہ نے ستمبر 2015 میں کششِ ثقل کی لہریں دریافت کر ڈالیں۔ تاہم سائنس دانوں کو اس کی تصدیق کرنے میں چار مہینے لگ گئے جس کا اعلان انھوں نے گذشتہ روز ایک بڑی تقریب کے دوران کیا۔

Image caption انٹرفیرومیٹر سے لیزر کی ایک شعاع خارج کی جاتی ہے جسے ایک آلہ دو حصوں میں کاٹ کر دو مختلف سمتوں میں بھیج دیتا ہے۔ یہ شعاعیں دو آئینوں سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں۔ اگر اس دوران کششِ ثقل کی لہریں اس جگہ سے گزریں تو خلا کے سکڑنے اور پھیلنے کی وجہ سے یہ جانچ کے آلے سے مختلف اوقات میں ٹکرائیں گی

معروف سائنس دان ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جیسے دوربین کی ایجاد نے ہمارے سامنے کائنات کا ایک بالکل مختلف نظریہ پیش کیا اور اس سے ہم کائنات کی وسعتوں تک پہنچ سکے، تو اب ہمارے پاس یہ دوسری طرح کی دوربین ہے جس سے ہم (کائنات کے بارے میں) مختلف قسم کی معلومات حاصل کر سکیں گے۔‘

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ آخر عام آدمی کو اس کا کیا فائدہ ہو گا؟ بی بی سی نے جب یہ سوال معروف سائنس دان ڈاکٹر ہودبھائی کے سامنے رکھا تو انھوں نے کہا کہ ’آخر یہ کوئی دکان داری تو نہیں ہے کہ جس میں نفع و نقصان کا حساب کتاب رکھا جائے۔ انسان جیسے جیسے کائنات کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرتا جاتا ہے، ویسے ویسے وہ قدرت کو مسخر کرنے میں زیادہ کامیاب ہوتا ہے۔‘

Image caption لیگو اور اس جیسے آلات کی مدد سے کائنات کے اولین لمحات کا پتہ چلایا جا سکے گا جو روایتی آلات کی مدد سے ممکن نہیں ہے

انھوں نے کہا کہ مستقبل میں اس کا فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن نہ بھی ہو تو کوئی بات نہیں۔ ہم نے ایک نئی چیز تو دریافت کر لی ہے۔‘

اس کے علاوہ اس دریافت کے اور بھی ’فوائد‘ ہیں۔ کائنات میں دور دراز کے اجسام کے بارے میں معلومات حاصل کا اب تک واحد ذریعہ روشنی تھی، جسے ہم دوربینوں کی مدد سے دیکھتے ہیں۔ لیکن روشنی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ غیر شفاف اشیا کے پار نہیں جا سکتی۔ اس لیے اگر راستے میں رکاوٹ ہو تو ہم اس کے دوسری طرف نہیں دیکھ سکتے۔ مثلاً اگر روشنی کے راستے میں کوئی کہکشاں موجود ہو تو دوربین کی مدد سے اس کے پار نہیں دیکھا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بلیک ہول کو عام دوربین کی مدد سے نہیں دیکھا جا سکتا لیکن لیگو لیبارٹری کی مدد سے بلیک ہولز کا براہِ راست مشاہدہ کیا جا سکتا ہے

اب یہی دیکھیے کہ بلیک ہول کو بلیک ہول کہا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اس کی کششِ ثقل اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اس میں سے کوئی چیز، حتیٰ کہ روشنی تک نہیں نکل سکتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بلیک ہول کا مشاہدہ کرنے کے لیے دوربینیں قطعاً بےکار ہیں۔ لیکن لیگو کی مدد سے سائنس دانوں نے سوا ارب دور بلیک ہولز کا مشاہدہ کر لیا۔

اس کے علاوہ جب کائنات وجود میں آئی تو لاکھوں برس تک اتنی روشن تھی کہ ایک حد سے پار نہیں دیکھا جا سکتا۔ لیکن کششِ ثقل کی لہروں کی مدد سے ہمیں ان رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے تخلیق کے اولین لمحات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں