حجاب والی باربی گڑیا ’حجاربی‘

تصویر کے کاپی رائٹ hijarbie
Image caption 24 سالہ حنیفہ آدم کہتی ہیں کہ ’میں نے اس سے پہلے کبھی حجاب پہنے ہوئی گڑیا نہیں دیکھی‘
حجاب والی ایک گڑیا حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ستارے کی مانند ابھر کر سامنے آئی ہے۔ ہم نے اس خاتون سے بات کی جنھوں نے یہ اکاؤنٹ بنایا اور ان سے پوچھا کہ وہ مسلمان لڑکیوں کو ’حجاربی‘ سے کیوں متاثر کرنا چاہتی ہیں؟

حجاب والی باربی گڑیا کا خیال حنیفہ آدم کا ہے جو فارماکولوجی میں ماسٹرز کر رہی ہیں۔

اگر باربی حجاب پہنے تو کیا ہوگا؟

24 سالہ حنیفہ آدم کہتی ہیں کہ ’میں نے اس سے پہلے کبھی حجاب پہنے ہوئی گڑیا نہیں دیکھی۔‘

’ابتدائی طور پر میں اس کے ساتھ کچھ کرنا نہیں چاہتی تھی۔ میں صرف انسٹاگرام پر پوسٹ کر رہی تھی اور میں نے نہیں سوچا تھا کہ لوگ یہ چاہیں گے۔‘

حنیفہ آدم نے پلاسٹک کی گڑیا کی تصاویر ’حجاربی‘ کے نام سے پوسٹ کرنا شروع کیں اور اکاؤنٹ پسند کیا جانے لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hijarbie
Image caption حنیفہ آدم امید ظاہر کرتی ہیں کہ حجاربی حجاب پہننے والی خواتین کے بارے میں غلط فہمیوں کو چیلنج کر سکتی ہے

دسمبر میں اپنی پہلی تصویر کے بعد ہفتوں کے اندر اندر ہی حنیفہ آدم کو سوشل میڈیا پر دیگر حجاب والی خواتین کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی جنھیں عموما ’حجابی‘ کہا جاتا ہے۔

اس اکاؤنٹ کو فالو کرنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے نتیجے میں اب ان کے اکاؤنٹ کے 31 ہزار سے زائد فالوورز ہیں۔

حنیفہ آدم جن کا تعلق نائیجیریا کے شہر الورین سے ہے اس ردعمل پر حیران ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’بہت سے افراد نے اس قسم کی چیز پہلے نہیں دیکھی اور انھیں یہ خیال بہت پسند آیا ہے۔‘

’بہت سارے والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کے پاس ایسی گڑیا ہو۔‘

ان کے اکاؤنٹ کے مشہور ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اب حنیفہ آدم کپڑے سینے اور تصاویر پوسٹ کرنے میں زیادہ وقت صرف کرتی ہیں۔

وہ تسلیم کرتی ہیں کہ ’میں لباس خود تیار کرتی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Hijarbie
Image caption حنیفہ آدم کا تعلق نائجیریا کے شہر الورین سے ہے

لیکن انتہائی چھوٹے کپڑے سینا بھی ایک مسئلہ ہے۔

’اتنے چھوٹے لباس تیار کرنے میں دو گھنٹے تک وقت لگ سکتا ہے، آپ کو ان کی تیاری میں انتہائی محتاط رہنا پڑتا ہے۔‘

تاہم اس انداز کو ہر کسی نے پسند نہیں کیا۔

وہ کہتی ہیں: ’جب میں نے شروع کیا تو بہت سارے افراد یہ گڑیاں خریدنا چاہتے تھے، لیکن اس کی وجہ سے اسلاموفوبیا بھی سامنے آیا ہے۔‘

’لوگ گڑیا کی تضحیک اڑا رہے تھے اور شہ دے رہے تھے کہ اس نے بم اٹھایا ہوا ہے۔‘

حنیفہ آدم امید ظاہر کرتی ہیں کہ حجاربی حجاب پہننے والی خواتین کے بارے میں غلط فہمیوں کو چیلنج کر سکتی ہے۔

’کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حجاب پہننے والی لڑکی مظلوم ہے اور یہ کہ یہ ایسا کام نہیں ہے جو بہت ساری لڑکیاں کرنا چاہتی ہیں۔

’لیکن حجاب مظلومیت کو ظاہر نہیں کرتا۔ یہ آزادی اور اپنے آپ کو ڈھانپے سے متعلق ہے۔‘

گذشتہ سال ملبوسات کی کمپنی ایچ اینڈ ایم نے ایک اشتہاری مہم کا آغاز کیا تھا جس میں ایک مسلمان خاتون کو حجاب پہنے دکھایا گیا تھا۔ جبکہ جنوری میں اطالوی فیشن ڈیزائنر ڈولچی اینڈ گبانا نے لگژری حجاب متعارف کروائے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hijarbie
Image caption اس اکاؤنٹ کے اب 31 ہزار سے زائد فالوورز ہیں

حجاربی کا مستقبل کیا ہے؟

حنیفہ آدم کہتی ہیں: ’میں نے اکاؤنٹ مسلمان لڑکیوں کو متاثر کرنے کے لیے کھولا تھا، تاکہ ان کے پاس ایک متبادل گڑیا ہو جو ان جیسی ہو جس سے وہ کھیل سکیں۔‘

وہ گڑیوں اور بڑوں کے لیے مودب ملبوسات تیار کرنا چاہتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ فیشن کے بارے میں بلاگ لکھنا جاری رکھنا چاہتی ہیں۔

’میں انسٹاگرام کو جاری رکھنا چاہتی ہوں۔ لیکن میں نہیں جانتی کے یہ پانچ سال بعد کہاں ہوگا۔ جو چیزیں میں پوسٹ کرتی ہوں مجھے ان کے بارے میں خیال رکھنے کی ضرورت ہے، مجھے کوشش کرنا ہے اور اثر انگیز ہونا ہے۔‘

اسی بارے میں