بھارت: قومی پرندے مور کو نقصان دہ قرار دینے کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ Sergii Kumer Alamy
Image caption کچھ کسانوں نے کہا ہے کہ مور پہاڑی علاقوں میں موجود کھیتوں میں کھڑی فصلیں بھی خراب کر رہے ہیں

بھارت کی مغربی ریاست گووا نے ملک کے قومی پرندوں مور کو نقصان دہ مخلوق کے زمرے میں رکھنے کی تجویز دی ہے۔

مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق گووا کے وزیر زراعت رمیش تواڈكر نے کہا ہے کہ مور فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور انہیں کم کیا جانا چاہیے۔

اس منصوبے کے تحت بندر، جنگلی سور اور گووا کے ریاستی جانور جنگلی بائسن بھی کم کیے جائیں گے۔

گووا میں جنگلوں میں کمی کے باعث جنگلی جانوروں کے ٹھکانوں میں کمی آئی ہے جس کے بعد وہ آبادیوں میں آ رہے ہیں۔

تواڈكر نے کہا کہ موروں اور دوسرے جانوروں کی وجہ سے ہونے والے نقصان کا اندازہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی۔

تواڈكر نے بھارتی خبر رساں ایجنسی اے پی پی کو بتایا، ’کچھ کسانوں نے کہا ہے کہ مور پہاڑی علاقوں میں موجود کھیتوں میں کھڑی فصلیں بھی خراب کر رہے ہیں۔‘

مور فی الحال بھارت کے جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون 1972 کے تحت محفوظ پرندوں میں شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مور فی الحال بھارت کے جنگلی حیات کے تحفظ کے قانون 1972 کے تحت محفوظ پرندوں میں شامل ہے

وزیر کے مطابق انہیں موروں کے محفوظ ہونے کا پتہ ہے لیکن انھوں نے زور دیا کہ حکومت اس کے لیے ایک طریقۂ کار اختیار کرے گی کہ اسے نقصاندہ مخلوق کے زمرے میں بھی رکھا جا سکے۔

اس سرکاری منصوبہ بندی کا جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم مخالفت کر رہے ہیپیٹا انڈیا کی پوروا جوشيپرا نے کہا، ’اگر گووا سیاحوں کا پسندیدہ مقام رہنا چاہتا ہے تو لوگوں کی اس سے امید ہے کہ وہ جانوروں کے لیے بھی جنت بنا رہے۔‘

گذشتہ ماہ گووا کی حکومت نے ناریل کو درختوں کے زمرے سے ہٹا کر تنازع کھڑا کر دیا تھا، جسے پہلے محفوظ درخت کا درجہ حاصل تھا۔

ایسا اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ ناریل کے درخت کی شاخیں نہیں ہوتیں۔

اسی بارے میں