تھری ڈی پرنٹڈ اعضا کی تیاری میں اہم پیش رفت

تصویر کے کاپی رائٹ Wake Forest

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے انسانی اعضا کی تیاری جدید طب کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

نیچر بایو ٹیکنالوجی نامی جنرل میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق اس نئی پیش رفت سے کسی حادثے یا بیماری کی وجہ سے انسانی جسم میں پیدا ہونے والی خرابی کو زندہ ریشوں کے استعمال سے درست کیا جا سکے گا۔

تحقیق کے مطابق جب تھری ڈی ٹیکنالوجی سے تیار کردہ ہڈیاں اور پٹھے جانوروں میں نصب کیے گئے تو انھوں نارمل طریقے سے کام کرنا شروع کر دیا۔

امریکہ میں پروان چڑھنے والی اس ٹیکنالوجی کو ماہرین نے سونے کے انڈے دینے والی مرغی سے مشابہ قرار دیا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے متاثرہ انسان کے اپنے ہی خلیوں کو ایک خاص ترکیب سے گزارنے کے بعد ان کے ٹوٹے ہوئے جبڑے اور کان کو دوبارہ بنایا جا سکتا ہے یا پھر کسی کے دل میں سوراخ تک کو بھی بند کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ان اعضا کی تیاری میں ایک بڑا مسئلہ انسانی خلیوں کو زندہ رکھنا ہے کیونکہ دو ملی میٹر سے زیادہ موٹے ریشوں میں ان کے خلیوں تک آکسیجن اور دیگر غذائی اجزا نہیں پہنچ پاتے۔

اس کے لیے امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے ویک فوریسٹ بیپٹسٹ میڈیکل سینٹر کی ایک ٹیم نے یہ نئی تکنیک نکالی ہے کہ تھری ڈی پرنٹر کے ذریعے تیار کیے جانے والے ریشوں میں سپنج کی طرح چھوٹے چھوٹے سوراخ رکھے جائیں تاکہ آکسیجن اور غذائی اجزا ان تک پہنچتے رہیں۔

پرنٹنگ نظام کے ذریعے ریشے اور اعضا تیار کرنے کے اس عمل میں، جسے آئی ٹوپ بھی کہا جاتا ہے، قدرتی طور پر تحلیل ہو جانے والے پلاسٹک سے تیار کی جانے والی شکل کو خلیوں سے بھرپور پانی پر مشتمل ایک مادے کے ساتھ ملایا جاتا ہے جس سے تیار کیے جانے والے اعضا کو پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔

جب یہ اعضا جانوروں میں لگائے گئے تو ان کا پلاسٹک خود بہ خود الگ ہو گیا اور اس کی جگہ اس کے اندر پروان چڑھنے والے خلیوں سے بنے اعضا نے لے لی۔

کچھ ہی عرصے بعد زندگی سے بھر پور ان خلیوں میں خون کی شریانیں اور رگیں بھی پیدا ہو گئیں۔

تحقیق کے رہنما پروفیسر اینتھنی اٹالا نے کہا ہے کہ تھری ڈی پرنٹر سے تیار کردہ ان ریشوں کو انسانی اعضا کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تھری ڈی پرنٹر سے تیار کردہ ان ریشوں میں انسانی ریشوں جتنی طاقت موجود ہے لیکن تحقیق کار یہ دیکھ رہے ہیں کہ یہ ریشے کتنے دن تک زندہ رہتے ہیں۔؟

پروفیسر اٹالا کا کہنا ہے کہ تھری ڈی پرنٹنگ نے طب کی دنیا میں نئے دروازے کھول دیے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’مثال کے طور پر ہمارے پاس ایک مریض آتا ہے جس کے جبڑے کا ایک حصہ کسی حادثے کی وجہ سے متاثر ہو گیا ہے۔ ہم اس مریض کو داخل کر لیں گے اور اس کے جبڑے کی تصاویر لیں گے اور پھر ہم ان تصاویر کو اپنے سافٹ ویئر میں منتقل کر دیں گے جہاں پرنٹر متاثرہ یا غائب ہونے والے حصے کو نئے سرے سے تخلیق کرے گا جو مریض کو با آسانی لگایا جا سکتا ہے۔‘

اسی تکنیک کے ذریعے قدرتی طور پر تحلیل ہوجانے والی جھلی سے اعضا کی شکل تیار کرنے کے بعد اس کو خلیوں کے مرکب میں ڈبو دیا جاتا ہے اور جسے مریضوں پر کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

دو سال قبل ویک فوریسٹ سینٹر میں خواتین میں لیبارٹری میں تیارکردہ رحم لگائے گئے تھے لیکن اس علاج میں سب سے مشکل مرحلہ ان اعضا کے خلیات کو لمبے عرصے تک زندہ رکھنا تھا۔

پروفسر اٹالا کہتے ہیں ’اس تحقیق میں ہم نے مضبوط خلیے پرنٹ کرنے کی کوشش کی ہے جس میں پٹھوں کے نرم ریشوں سے لے کر کان کی نرم ہڈی اور سخت ہڈیوں جیسے شامل ہیں۔

’ہمیں امید ہے کہ اس ٹیکنالوجی پر کام جاری رکھتے ہوئے ہم دیگر انسانی ریشے بھی تیار کر لیں گے۔‘

ایک وقت ایسا آئے گا جب انسانی اعضا کولیبارٹری میں اگانے کے بجائے ان کے جسم پر ہی پرنٹ کیا جائے گا۔

یونیورسٹی کالج لندن کے سرجن پروفیس مارٹن برچال کہتے ہیں کہ یہ نتائج واقعی حیران کن ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’انسانی ریشوں اور اعضا کو پرنٹنگ کے ذریعے بنانے پر کافی عرصے سے کام جاری تھا لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ یہ تکنیک اتنی جلدی ترقی کرجائے گی۔ انھوں نے وہ مرغی ایجاد کر لی ہےجو واقعی سونےکے انڈے دیتی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اس ٹیکنالوجی کو انسانوں پر استعمال کرنے سے قبل اس پر مزید تحقیق کرنی ہوگی۔

لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا ’اس میدان میں ایسی پیش رفت اور ویک فوریسٹ میں تحقیق کاروں کے پاس وسائل کو دیکھتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ ایک دہائی سے کم عرصے ہی میں میری طرح کے سرجن بھی اپنے مریضوں پر پرنٹنگ کے ذریعے تیار کیے گئے اعضا اور ریشوں کا استعمال کر سکیں گے۔ مجھے اس وقت کا شدت سے انتظار ہے۔‘

اسی بارے میں