انٹارکٹیکا میں شہابِ ثاقب کے ٹکڑے پوشیدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Antarctic Search for Meteorites ProgramKatherin
Image caption شہاب ثاقب کے ماہرین کی نظر میں انٹارکٹیکا ان چٹانوں کی تلاش کے لیے بہترین جگہ ہے

ایک نئی تحقیق کے مطابق براعظم انٹارکٹیکا میں برف کی تہوں کے نیچے لوہے کی خصوصیات والے شہاب ثاقب کے ٹکڑے پوشیدہ ہیں۔

انٹارکٹیکا میں گلیشیئرز کے اپنی جگہ بدلنے سے خلائی چٹانوں کے ٹکڑے برف کی اوپری سطح پر آجاتے ہیں تاہم دنیا بھر میں ملنے والے شہاب ثاقب کے ٹکڑوں کے مقابلے میں یہاں سے ملنے والے بہت کم شہابیوں میں لوہے کے ٹکڑے شامل ہوتے ہیں۔

تجربہ گاہ میں کیے جانے والے تجربوں کی روشنی میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گمشدہ دھاتی چٹانی ٹکڑے ممکنہ طور پر سورج کی روشنی سے برف پگھلنے کے باعث خود کو برف میں مزید اندر کی طرف دھنسا رہے ہیں۔

اپنے اس خیال کی تصدیق کے لیے سائنسدانوں کی ٹیم اب خود ان دھاتی چٹانوں کی تلاش شروع کرنا چاہتی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر کمیونی کیشن میں شائع ہونے والی تحقیق کی شریک مصنف یونی ورسٹی آف مانچسٹر کی ڈاکٹر کیتھرین جوائے کہتی ہیں ’ اس تحقیق کے ذریعے سامنے آنے والے منطقی نظریے کے مطابق مذکورہ دھاتی نمونے وہاں موجود ہونے چاہییں۔ ہمیں محض انھیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔‘

برفانی بہاؤ کے باعث شہابی پتھر ایک محدود علاقےمیں جمع ہوجاتے ہیں اور اس ہی وجہ سے شہاب ثاقب کے ماہرین کی نظر میں انٹارکٹیکا ان چٹانوں کی تلاش کے لیے بہترین جگہ ہے۔

سائنسدانوں نے محسوس کیا ہے کہ دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں انٹارکٹیکا کے ان علاقوں سے دریافت ہونے والی شہابی پتھروں میں لوہے کی خصوصیات والی چٹانوں کی تعداد حیرت انگیز طور پر کم ہے۔

ڈاکٹر جوائے اور ان کے ساتھی سائنسدانوں کے خیال میں وہ اس کی وجہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

انھوں نے تقریباً ایک ہی جسامت کے شہاب ثاقب کے دو چھوٹے ٹکڑے برف کی ایک سِل میں جما دیے جن میں سے ایک لوہے کی خصوصیت کا حامل تھا جبکہ دوسرا ایک چٹانی ٹکڑا تھا۔ اور پھر انھوں نے مصنوعی طور پر سورج کی روشنی کی خصوصیات کے لیے ان پتھروں کو لیمپ کی روشنی سے گرم کیا۔

یہ تجربہ بار بار دہرانے سے برف کی سِل کی سطح پگھلنے لگی اور دونوں شہابی پتھر اندر کی طرف دھنس گئے تھے۔ دھاتی پتھر ہونے اور گرمی کی شدت سے زیادہ گرم ہونے کے باعث چٹانی پتھر کے مقابلے میں لوہے کی خصوصیت والا پتھر زیادہ گہرائی میں اور زیادہ تیز رفتار سے دھنسا تھا۔

ڈاکٹر جوائے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے خیال میں یہ پتھر بالائی سطح پر آتے ہی نہیں ہیں۔ یہ (دھاتی) پتھر ہمیشہ کے لیے 50 سے 100 سینٹی میٹر تک برف کے اندر دھنسے ہوتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Mark NottinghamEarth and Solar System
Image caption دھاتی چٹانی ٹکڑے ممکنہ طور پر سورج کی روشنی سے برف پگھلنے کے باعث خود کو برف میں مزید اندر کی طرف دھنسا رہے ہیں

ڈاکٹر جوائے بتاتی ہیں کہ عملی وجوہات کی وجہ سے انٹارکٹیکا سے اب تک جتنے بھی شہاب ثاقب جمع کیے گئے ہیں ان میں بہت ہی قلیل تعداد ان پتھروں کی ہے جو برف کے نیچے سے نکالے گئے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’جب سردی کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے تو برف کی بالائی سطح سے ہی مربوط طریقے سے ان نمونوں کو جمع کرنا ایک دشوار عمل ہوتا ہے۔ زیِربرف دبے نمونوں تک رسائی کے لیے لوگ زیادہ جدوجہد نہیں کرتے۔‘

یہ کام اتنا سہل نہیں ہوگا تاہم سائنسدانوں کی ٹیم پُرامید ہے کہ ریڈار اور میٹل ڈیٹکٹر کی مدد سے وہ اپنی تلاش میں کامیاب رہیں گے جبکہ کامیابی کی صورت میں اس کے ممکنہ طور پر بہت مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

ڈاکٹر جوائے کہتی ہیں ’ہمیں ملنے والا ہر شہاب ثاقب ہمارے نظام شمسی کے بارے میں کوئی نئی بات بتاتا ہے۔

’لوہے کی خصوصیات والے شہاب ثاقب اس بات کی ترجمانی کرتے ہیں کہ وہ کبھی کسی سیارے کے مرکزی اجرام کا حصہ تھے اور مختلف فضائے بسیط کے دقیق زرات میں شامل تھے۔

’ہمارے خیال میں نظام شمسی میں سینکڑوں ایسے سیارے تھے جو ابتدائی مراحل میں باہمی ٹکڑاؤ کے عمل کے باعث ٹوٹ گئے اور کبھی اپنی ارتقائی منازل طے نہیں کرپائے اور بڑے نہیں ہوسکے۔‘

اسی بارے میں