دماغ اور ہوائی اڈوں میں اتنا کچھ مشترک کیوں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس تحقیق سے نئے علاج دریافت کرسکیں گے جس سے نوجوان افراد میں نفسیاتی امراض کی شروعات میں ہی اِس کے خطرہ کو کو کم کیا جاسکے گا

مجھے معلوم ہے کہ دماغ بہت خوبصورت ہے لیکن ہرکوئی اِس بارے میں اِس طرح سے نہیں سوچےگا۔

لیکن جب آپ ذرا گہرائی میں جھانکیں کہ کس طرح سے دماغ کے خلیے آپس میں رابطے کے لیے پیچیدہ انداز میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں، تو یہ مجھے بہت خوبصورت لگتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیمبرج میں دماغی امراض کے شعبے کے سربراہ ایڈ بلمور کا کہنا ہے کہ ’میری تحقیق میں ہم اکثر دماغ کا معائنہ کرتے ہیں یہ جاننے کے لیے کہ کس طرح سے دماغ کے مختلف حصّے آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘

مثال کے طور پر درجنوں اعصابی ریشوں کا خاکہ تیار کرنا، جو کہ دماغ میں معلومات فراہم کر رہا ہے۔ ہم مضبوط رابطوں یا زیادہ رابطوں کے ساتھ نیٹ ورک کی گرہ کو ڈھونڈ سکتے ہیں اور دماغ کے اندر پائے جانے والے اہم ’مراکز‘ کو تلاش کرسکتے ہیں۔

آپ ایک عالمی فضائی کمپنی سے اِس کا موازنہ کرسکتے ہیں۔ چند ہوائی اڈوں میں دیگر ہوائی اڈوں کی نسبت زیادہ پروازیں اور براعظموں کے درمیان سفر کرنے والی طویل فاصلے کی پروازیں آتی جاتی ہیں۔

یہ فضائی کمپنی کے نیٹ ورک کے مرکز ہیں اور اِس سے لگتا ہے کہ دماغی نیٹ ورک فضائی کمپنیوں کے نیٹ ورک سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے۔

گذشتہ دس سالوں کے درمیان دماغ کے نیٹ ورک اور مراکز کے حوالے سے ہمارے فہم میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

لوگوں نے شاید جینوم کے بارے میں سنا ہو۔ یہ کسی کے بھی ڈی این اے کی مکمل جنیاتی ترتیب ہوتی ہے۔ اب ہم کسی خواہش کو قابو میں کرنے کے لیے کنیکٹوم کے بارے میں بھی بات کرسکتے ہیں، جس میں شاید ہم انسان اور دیگر جانوروں کے دماغ کے مکمل نیٹ ورک کا خاکہ بنانے کے قابل ہوجائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library
Image caption کنیکٹوم میں شاید ہم انسان اور دیگر جانوروں کے دماغ کے مکمل نیٹ ورک کا خاکہ بنانے کے قابل ہوجائیں

یہ ایک خیال ہے، جس کو ایک دہائی قبل احمقانہ سمجھا جاتا تھا۔ اب یہ کافی دلچسپ ہے کہ یہ اچانک سے ایسا نظر آئے جس میں جامعیت کے ساتھ کنیکٹوم کا خاکہ تیار کیا جانا ممکن ہے۔ جیسے کہ ہم جینوم کا خاکہ تیار کر چکے ہیں۔

صحت مند انسان کے دماغی نیٹ ورک کا خاکہ بنانے کی قابلیت میں ہمارا سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ اِس کے باعث ہم اِس قابل ہوجائیں گے کہ نفسیاتی امراض کا شکار افراد میں دماغی نیٹ ورک کس طرح سے کام انجام دیتا ہے، اِس کو جان سکیں۔

تقریباً 30 سال قبل میں ڈاکٹر بنا تھا تو اُس وقت بھی اِس حوالے سے بحث جاری تھی کہ شیزوفرینیا اور دیگر شدید دماغی بیماریاں دماغ کی خرابی کی وجہ سے ہوتی ہیں یا دماغ کے بجائے ذہن سے پیدا ہوتی ہیں۔

اب ہمارے پاس ثبوت ہیں کہ شیزوفرینیا دماغی خرابی ہے۔

گذشتہ پانچ سالوں میں ہم نے یہ سمجھنا شروع کردیا ہے کہ دماغی نیٹ ورک کے سے کیا مراد ہے۔ تو اب ہم یہ جانتے ہیں کہ شیزوفرینیا کے مرض میں مبتلا لوگوں کے دماغی نیٹ ورک مراکز سے کم جڑے ہوتے ہیں۔

اگر عالمی فضائی کمپنی کے نیٹ ورک کی مشابہت کی دوبارہ بات کی جائے تو شیزوفرینیا کا شکار دماغ میں ہیتھرو اور جے ایف کینیڈی نہیں ہوگا۔ اِس میں بہت ساری پروازیں تو ہوں گی لیکن یہ بڑے مرکزی ہوائی اڈے کے بجائے بہت سارے چھوٹے ہوائی اڈوں سے ہوتی ہوئی آئیں گی۔

اِس میں نیا کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ ہمیں یہ سمجھ آنا شروع ہوگیا ہے کہ ترقی کے سلسلوں کے حوالے سے دماغی نیٹ ورک کس طرح کام کرتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوانی کی عمر میں جس میں دماغی خرابیوں کے زیادہ خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

Image caption گذشتہ چند سالوں کے دوران پہلی بار ہم اِس قابل ہوئے ہیں کہ اُن نطفوں کی نشاندہی کرپائیں، جس لوگوں میں شیزوفرینیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

ہم اِس حوالے سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں کہ صحت مند نوجوان افراد میں کم عمری کے دور میں کس طرح سے مرکزی نیٹ ورک عمل پذیر ہوتے ہیں۔

ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ نیٹ ورک کی تصاویر جو کہ ہم دماغ کی تصویر کشی سے نکال رہے ہیں۔ اُن کو شیزوفرینیا کی جینیات جو کہ ہم سیکھ رہے ہیں سے کس طرح سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔

گذشتہ چند سالوں کے دوران پہلی بار ہم اِس قابل ہوئے ہیں کہ اُن نطفوں کی نشاندہی کر پائیں، جس سے لوگوں میں شیزوفرینیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

تو اگر ہم اُن دو (جینوم اور کنیکٹوم) چیزوں کو قریب لے آئیں تو ہم واضح طور پر یہ سمجھنے کے قابل ہوجائیں گے کہ جنیاتی طریقہ کار کیا ہے اور اِس میں دماغی نیٹ ورک کے بننے کا عمل رُک جاتا ہے یا کسی حد تک مختلف راہ پر آجاتا ہے، جس سے شیزوفرینیا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اگر ہم یہ کر سکے تو ہم نئے علاج دریافت کرسکیں گے جو کہ بہت زیادہ موثر ہوں گے اور اِس سے نوجوان افراد میں نفسیاتی امراض کی شروعات میں ہی اِس کے خطرات کو کم کیا جاسکے گا، جس سے کے بعد میں شیزوفرینیا پیدا ہوسکتا ہے۔

اِس تحقیق کا اہم مقصد اگلے دس سالوں کے دوران، کنیکٹوم کے حوالے سے اِن معلومات کو دماغی بیماری کا شکار افراد کے علاج کے بہتر طریقوں میں تبدیل کرنا ہے۔

اِس کے بعد ہم یہ کہہ سکیں گے کہ دماغ کا نیٹ ورک صرف خوبصورت ہی نہیں بلکہ طبی طور پر فائدہ مند بھی ہے۔

اسی بارے میں