گرم مشروبات میں چینی کی انتہائی مقدار

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption فلاحی تنظیم کا کہنا ہے کہ 98فیصد مشروبات پر سرخ تنبیہی لیبل ہونا چاہیے کہ اس میں چینی کی انتہائی مقدار موجود ہے

برطانیہ میں چینی کے استمعال پر مہم چلانے والے ایک گروہ نے نے خبردار کیا ہے کہ کافی کی دکانوں پر فروخت کیے جانے والے مختلف مشروبات میں چینی کی حیران کن حد تک زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔

’ایکشن آن شوگر‘ نامی تنظیم نے 131 مشروبات کا جائزہ لیا اور پایا کہ ان میں سے ایک تہائی مشروبات میں اتنی ہی چینی ہوتی ہے جتنی ایک پیپسی یا کوکاکولا کے کین میں ہوتی ہے۔ ان میں اندازا 9 چائے کے چمچ کے برابر چینی ہوتی ہے۔

’کافی سے جسمانی نظامِ اوقات تقریباً 40 منٹ سست ہو جاتا ہے‘ چینی کے استعمال میں 50 فیصد کمی کریں: عالمی ادارۂ صحت

تنظیم کے مطابق بعض بدترین کیسز میں تو ایک مشروب میں 20 سے زائد چمچ چینی بھی پائی گئی ہے۔

برطانیہ میں مقبول کافی کی دکانوں سٹاربکس، کوسٹا، اور کیفے نیرو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مشروبات میں چینی کی مقدار کو کم کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔

جن مشروبات کا جائزہ لیا گیاتھا ان میں کافی شاپس اور فاسٹ فوڈز پر ملنے والی فلیورڈ کافیز موکاز اور لاتیز، گرم مشروبات اور ہاٹ چاکلیٹ شامل ہیں۔

اس فلاحی تنظیم کا کہنا ہے کہ 98 فیصد مشروبات پر سرخ تنبیہی لیبل ہونا چاہیے کہ اس میں چینی کی انتہائی مقدار موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بعض بدترین کیسز میں تو ایک مشروب میں 20 سے زائد چمچ چینی بھی پائی گئی ہے

برطانیہ کے طبی ادارے این ایچ ایس کے مطابق 11 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے لیے چینی کی یومیہ خوراک 30 گرام یا سات چائے کے چمچ ہے۔

سٹار بکس کی ونٹی گریپ وِد چائے ، اورنج اینڈ سینیمن ہاٹ ملڈ فروٹ ایسے مشروبات ہیں جن میں سب سے زیادہ 25 چمچ چینی پائی گئی۔

کوسٹا کے چائے لاتے میں 20 چائے کے چمچ چینی پائی گئی۔ سٹار بکس کے وائٹ چاکلیٹ موکا وِد وپڈ کریم میں 18 چمچ چینی پائی گئی۔

کے ایف سی کے موکا اور سٹار بکس کے ہاٹ چاکلیٹ میں 15 چائے کے چمچ چینی پائی گئی جبکہ کیفے نیرو کے کیریملیٹ میں 13 چائے کے چمچ چینی تھی۔

تنظیم کے محققین نے کافی شاپس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے مشروبات میں چینی کی مقدار کم کریں اور نہ صرف ان پر لگے لیبل کو بہتر کریں بلکہ ایکسٹرا لارج سرونگ بھی ختم کر دیں۔

ان کے مطابق ایسے گرم مشروبات محض تقریبات میں استعمال کیے جانے چاہیے نہ کہ روز مرہ کے موقعوں پر۔

اسی بارے میں