ایمیزون میں ابلتے پانی کا دریا

ایمیزون میں واقع دریائے شانے تمپشکا کے متعلق بڑی کہانیاں مشہور ہیں۔ پیرو کے ایک سائنسدان نے بھی اپنے دادا سے اس کے متعلق سنا اور فیصلہ کیا کہ وہ دنیا کے اس منفرد دریا کے متعلق معلوم کر کے رہے گا کہ اس کا پانی کیوں ابلتا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ SOFIA RUZO
Image caption وہاں رہنے والے قبائلی اس دریا کو مقدس گردانتے ہیں

شانے تمپشکا کا مطلب ہے سورج کی گرمی سے ابلنے والا۔

یہ ایمیزون میں بہنے والا پراسرار دریا ہے جس کا ذکر دیومالائی کہانیوں میں ہے۔

سائنسدان ایندر روزو کو اس کے بارے میں اپنے دادا سے معلوم ہوا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے استوائی جنگل میں خود جا کر یہ دیکھنے کی کوشش کی کہ واقعی وہاں کوئی دریا بھی ہے یا یہ صرف پرانی ابروجنی برادری کی کہانیوں میں ہی موجود ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ وہ جگہ ہے جہاں میں دنیا کے ہر بچے کو لے کے جانا چاہتا ہوں کہ انھیں دکھاؤں کہ ہم کتنے زبردست سیارے پر رہتے ہیں۔‘

یہ ان کی کہانی ہے۔

--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

تصویر کے کاپی رائٹ SOFIA RUZO
Image caption پانی کا درجہ حرات کہیں کہیں 86 ڈگری سیلشیئس تک پہنچ جاتا ہے

لیما میں جب میں ایک چھوٹا لڑکا تھا تو میرے داد نے مجھے پیرو میں سپین کی لڑائی کا ایک قصہ سنایا تھا۔ انکا کا بادشاہ اتاہوالپا کو پکڑ کر قتل کر دیا گیا تھا۔ پزارو اور ان کے فاتح ساتھی امیر ہو چکے تھے اور ان کی شان و شوکت کے قصے سپین تک پہنچ چکے تھے۔ جس کی وجہ ہسپانوی لوگ سونے کی تلاش میں یہاں کا رخ کر رہے تھے۔ وہ شہروں میں جاتے اور انکا لوگوں سے پوچھتے ’سونا کہاں ہے؟‘

’اور انکا انھیں غصے میں کہتے ’ایمیزون جاؤ۔‘

سونے کی تلاش میں ہسپانوی جنگل کی طرف نکل گئے، لیکن ان میں سے کچھ جو واپس لوٹے انھوں نے طاقتور عاملوں، زہریلے تیروں سے لیس جنگجوؤں، آدم خور اژدہوں اور ابلتے ہوئے دریا کا بتایا۔

یہ سب کچھ بچپن کی ایک یاد بن گیا۔ سال گزرتے گئے۔ میں امریکہ میں ٹیکسس کی سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے دوران پیرو میں زمین کے اندر سے حاصل ہونے والی ممکنہ توانائی کے متعلق تحقیق کر رہا تھا کہ مجھے وہ دریا کا قصہ پھر یاد آ گیا اور میں نے سوچنا شروع کر دیا کہ کیا واقعی ایسا دریا موجود ہے؟

میں نے یونیورسٹیوں میں اپنے رفقاء، حکومتی اراکین، تیل اور گیس نکالنے والی کمپنیوں سبھی سے اس کے متعلق پوچھا لیکن سب کا جواب نفی میں تھا۔ اور یہ سمجھ بھی آتا ہے۔

ابلتے ہوئے دریا دنیا میں پائے جاتے ہیں لیکن وہ اکثر آتش فشاں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس طرح کی زمین کے اندر کی حرات کے مظہر کے لیے آپ کو بہت زیادہ گرمی کا ذریعہ چاہیے اور ایمیزون میں آتش فشاں نہیں ہیں۔

ایک دن خاندان کے ساتھ ڈنر کرتے ہوئے میری آنٹی نے مجھے بتایا ’لیکن آندرے میں خود وہاں ہو کر آئی ہوں۔ میں نے اس دریا میں پیراکی کی ہے۔‘ اپنے سائنسی شکوک و شبہات کے باوجود میں کچھ عرصے کے بعد اپنی آنٹی کے ساتھ جنگل میں موجود تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ DEVLIN GANDY
Image caption ہم نے دریا کے ساتھ کئی جگہوں پر درجہ حرارت معلوم کیا۔ یہ سب سے مشکل کاموں میں سے ایک تھا: آندرے

اور اس کے بعد میں نے اسے محسوس کیا۔ ایک ہلکی آواز جو بلند ہوتی چلی گئی جیسے جیسے ہم اس کے نزدیک پہنچے۔ یہ سمندر کی لہروں کی طرح تھا جو مسلسل ٹکرا رہی ہیں۔ اور اس کے بعد میں نے اسے دیکھا۔ درختوں کے درمیان سے دھواں اور بخارات اڑ رہے تھے۔

میں نے فوراً اپنا تھرمامیٹر نکالا، وہاں دریا کے اندر اوسط درجہ حرارت 86 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ یہ ابلنے کے لیے درکار 100 ڈگری تو نہیں تھا لیکن اس کے کافی نزدیک۔ گرم دریا تیزی سے بہہ رہا تھا۔

میں دریا کے بہاؤ کی مختلف سمت میں چلتا گیا اور جان کہ حیران رہ گیا کہ پانی اوپر سے ٹھنڈا آتا تھا۔ یہ یاقوما کا علاقہ ہے جسے پانیوں کی ماں کہا جاتا ہے اور جو اس سانپ کی روح ہے جو گرم اور ٹھنڈا پانی دیتی ہے۔

عاملوں کی دعائیں

اگلے صبح میں اٹھا اور میں نے چائے طلب کی۔ میرے ہاتھ میں ایک مگ اور ٹی بیگ تھما کر دریا کی طرف اشارہ کیا گیا۔ پانی صاف تھا اور اس کا ذائقہ بھی اچھا تھا جو کہ جیو تھرمل نظام میں ایک عجیب سی بات لگتی ہے۔

مقامی لوگوں کو اس کا ہمیشہ سے علم تھا۔ یہ ان کی روزمرہ زندگی کا ایک حصہ تھا۔ وہ اس کا پانی پیتے تھے۔ وہ اس کے بخارات لیتے تھے۔ وہ اس سے کھانا پکاتے بلکہ دوائیاں بھی بناتے تھے۔

میں ایک شامان عامل سے ملا، اور وہ دریا اور جنگل کا ہی ایک حصہ لگتے تھے۔ انھوں نے میرے ارادوں کے بارے میں پیچھا اور مجھے تحمل سے سنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SOFIA RUZO
Image caption تھرما میٹر سے پتہ چلتا تھا کہ پانی کتنا زیادہ گرم ہے

اور اس کے بعد میری سانس میں سانس اس وقت آئی جب انھوں نے مجھے دریا کی تحقیق سے متعلق دعائیں دیں۔

لیکن ان کی ایک شرط تھی اور وہ یہ کہ میں دنیا میں کہیں بھی ہوں تو پانی کے نمونوں کے لیبارٹری میں تجزیے کے بعد اسے زمین پر پھینک دوں تاکہ پانی اپنا واپسی کا راستہ ڈھونڈ لے۔

سنہ 2011 میں اپنے پہلے دورے کے بعد میں ہر سال وہاں جاتا ہوں۔ فیلڈ ورک کا مزہ بھی آتا ہے، تھکا بھی دیتا ہے اور کبھی کبھار تو بہت خطرناک بھی ہو جاتا ہے۔

دریا کیوں ابل رہا ہے؟

جس طرح ہماری رگوں اور شریانوں میں گرم خون دوڑتا ہے اسی طرح زمین کی درزوں اور فالٹس میں سے گرم پانی دوڑتا ہے۔

جب یہ شریانیں سطح پر آتی ہیں جو ہم جیو تھرمل مظاہرے دیکھتے ہیں: گرم پانی کے چشمے اور ابلتا ہوا دریا۔

تصویر کے کاپی رائٹ DEVLIN GANDY
Image caption پانی اتنا گرم تھا کہ سطح کے نیچے بلبلے بن جاتے تھے

جو سب سے زیادہ ناقابلِ یقین ہے وہ اس جگہ کا سکیل ہے۔ اگلی مرتبہ جب بھی سڑک پار کریں تو اس دریا کے متعلق بھی سوچیں۔

یہ دریا دو رویہ سڑک سے بھی وسیع ہے اور یہ 6.24 کلو میٹر تک گرم پانی بہاتی ہے۔ واقعی حیران کن بات ہے۔

بالکل زیادہ گرم کافی کی طرح

ہم نے دریا کے ساتھ درجہ حرارت کا معائنہ کیا۔ روز مرہ کی زبان میں اسے اس طرح سمجھایا جا سکتا ہے۔ کافی کا کپ اوسطاً 54 ڈگری سیلسیئس گرم ہوتا ہے۔ اگر اضافی گرم ہو تو شاید 60 ہو جائے۔

دریا کے کچھ حصے ہیں جو کہ اضافی گرم کافی سے بھی زیادہ گرم ہیں۔

میں نے کئی قسم کے جانوروں کو اس میں گرتے ہوئے دیکھا ہے۔ سب سے پہلے ان کی آنکھیں جاتی ہیں۔ بظاہر آنکھیں جلدی پک جاتی ہیں۔ ان کا دودھیا سفید رنگ ہو جاتا ہے۔ بہاؤ انھیں بہا رہا ہے۔ وہ تیر کر باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہڈیوں پر سے ان کا گوشت پک رہا ہے کیونکہ پانی میں بہت گرمی ہے۔ ان میں طاقت ختم ہو رہی ہے، حتیٰ کہ وہ وقت آ جاتا ہے جب گرم پانی ان کے منہ میں داخل ہو جاتا ہے اور وہ اندر سے بھی پک جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ DEVLIN GANDY
Image caption ’بہت کچھ دریافت کرنا ابھی باقی ہے۔ ہم زبردست دنیا میں رہ رہے ہیں‘

درجہ حرارت اسی طرح ہے جس طرح میں نے دنیا بھر میں آتش فشاؤں پر دیکھا ہے بلکہ ییلو سٹون جیسے سپر آتش فشاؤں پر بھی۔

لیکن ایک عجیب بات ہے۔ ڈیٹا ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ابلتا ہوا دریا کسی بھی آتش فشاں کے بغیر بہہ رہا ہے۔ اس کا نقطۂ آغاز نہ تو مقناطیسی اور نہ ہی آتش فشانی ہے کیونکہ قریبی آتش فشاں اس سے 700 کلو میٹر دور ہے۔

ابلتا ہوا دریا کس طرح وجدو میں آیا۔ اس طر ابھی مزید تحقیق باقی ہے لیکن ڈیٹا ہمیں بتاتا ہے کہ یہ ایک بڑے گرم پانی کے نظام کا نتیجہ ہے۔

میں نے اس کے علاوہ اتنے بڑے پیمانے پر غیر آتش فشانی جیو تھرمل نظام نہیں دیکھا ہے۔ یہ منفرد ہے۔

آندرے روزو ’دی باؤلنگ رور: ایڈوینچر اینڈ ڈسکوری ان دی ایمیزون‘ کے مصنف ہیں۔

اسی بارے میں