چابی کی بجائے ایپ سے گاڑی چلانے کا تجربہ

تصویر کے کاپی رائٹ volvo
Image caption اگر وولوو کا یہ تجربہ کامیاب ہو گیا ہے تو یہ ایپ اگلے سال تک لانچ ہو سکتی ہے

گاڑیاں بنانے والی کمپنی وولوو سویڈن میں ایک نئی ایپ کا تجربہ کرنے جا رہی ہے جو کمپنی کے مطابق گاڑیوں میں چابیوں کی جگہ استعمال ہو سکے گی۔

بلو ٹوتھ کے ذریعے استعمال ہونے والی یہ ایپ گاڑی کے دروازوں کے لاک کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ انجن بھی سٹارٹ یا بند کر سکے گی۔

لیکن کمپنی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گاڑیوں کے اندر مزید سکیورٹی اقدادمات بھی رکھے جائیں گے۔

یہ ایپ گاڑی کے مالکان کو دیگر لوگوں کے ساتھ بھی ’ڈیجیٹل چابیوں‘ کے اشتراک کرنے کی اجازت دے گی۔ اس کے علاوہ کرائے پر گاڑیاں لینے والے لوگ اپنی گاڑیوں کی چابیاں ڈاؤن لوڈ بھی کر سکیں گے۔

اگر یہ تجربہ کامیاب ہوگیا ہے تو یہ ایپ اگلے سال تک لانچ ہو سکتی ہے۔

وولوو کا کہنا ہے کہ گاڑی میں لگنے والی چابیوں کو ترجیح دینے والے صارفین کو اپنی پسندیدہ چابیاں فراہم کی جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ volvo
Image caption سائیبر سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بلو ٹوتھ میں خامیاں ہیں

یہ تجربہ کرائے پر لی گئیں کچھ گاڑیوں کے ساتھ سویڈن کے گوتھن برگ ہوائی اڈے پر کیا جائے گا۔

وولوو کے نئے ٹیک اور خدمات کے ڈائریکٹر مارٹن روزنکوسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ آج کل کے دور میں فون کی بیٹری اور ان کا کھو جانا اس منصوبے کے لیے ممکنہ مسائل کھڑے کر سکتا ہے۔

انھوں نے کہا: ’اگر آپ کی گاڑی کی چابی گم ہو جائے تو آپ کو وولوو کے ڈیلر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اگر آپ کا فون کھو جائے تو آپ کو ایک نیا فون لینا پڑے گا۔ پھر آپ اپنے نئے فون پر یہ ایپ دوبارہ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔‘

مارٹن روزنکوسٹ کا کہنا ہے کہ سفر کرتے وقت جہاز پر موبائل فون پر زیادہ بیٹری ہونا ضروری ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا: ’ہماری ایپ سے فون کی بیٹری پر زیادہ فرق نہیں پڑتا۔‘

مارٹن نے کہا کہ یہ ایپ گاڑی میں نصب بلو ٹوتھ کے ذریعے چلتی ہے لیکن انھوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس کی وجہ سے گاڑی میں مزید حفاظتی اقدامات بھی رکھنا پڑیں گے۔

انھوں نے کہا: ’یہ ایک ڈیجیٹل چابی تو ہے لیکن اس کے ساتھ ایک ڈیجیٹل لاک بھی لگانا پڑے گا۔ صرف فون اٹھانا ہی کافی نہیں ہوگا۔‘

اسی بارے میں