’زیکا وائرس کے پیشِ نظر مانع حمل کے طریقے جائز ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عیسائیوں میں رومن کیتھولک فرقے میں مانع حمل کا استعمال ممنوع ہے

رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے اشارہ کیا ہے کہ جن خواتین کے زیکا وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہو ان کے لیے مذہب طریقہ مانع حمل پر عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسقاط حمل تو جرم ہے لیکن حمل سے پرہیز کرنا ’گناہ مطلق نہیں‘ ہے۔

انھوں نے یہ بات زیکا وائرس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہی جس میں ان سے پوچھا گيا تھا کہ لاطینی امریکہ میں اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کا بہترین طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔

بعض خاص مچھروں سے پھیلنے والا زیکا وائرس حاملہ خواتین کے لیے خظرناک ثابت ہو سکتا ہے جس سے بچوں کی افزائش کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اس سے بچے مائیکروسیفلی نامی بیماری سے متاثر ہو تے ہیں جس سے ان کی جسمانی نشو و نما رک جاتی ہے۔

عیسائیوں میں رومن کیتھولک فرقے میں مانع حمل چیزوں کا استعمال ممنوع ہے، لیکن پوپ فرانسس نے میکسیکو سے واپس آتے وقت صحافیوں سے بات چیت میں کہا: ’ہمیں اسقاط حمل جیسی برائی اور حمل سے بچنے میں تذبذب کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اسقاط حمل مذہبی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک انسانی اور طبّی مسئلہ ہے۔ ایک انسان کوبچانے دوسرے کو مار دیا جاتا ہے۔ یہ بذات خود ایک برائی ہے، ایک کوئی مذہبی گناہ نہیں ہے، یہ انسانی برائی ہے۔‘

Image caption مچھروں سے پھیلنے والا زیکا وائرس حاملہ خواتین کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے جس سے بچوں کی افزائش کا عمل متاثر ہوتا ہے

اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی تنظیموں نے کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ وائرس سے متاثرہ ممالک میں اس سے بچنے کے لیے خواتین کو مانع حمل کے ذرائع تک رسائي حاصل ہونی چاہیے اور اگر کوئي خاتون اسقاط حمل کرانا چاہتی ہو تو اسے بھی وہ حق ملنا چاہیے۔

لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک میں اسقاط حمل غیر قانونی عمل ہے یا صرف اسی صورت میں اس کی اجازت ہے جب ماں کی زندگی خطرے میں ہو۔

اسی بارے میں