قدیم ڈی این اے سے ارمادیلو کے آباؤاجداد کی نشاندہی

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption گلپٹوڈونٹس نامی وہ دیوقامت جانور کروڑوں سال قبل جنوبی امریکہ میں پائے جاتے تھے

12 ہزار برس قدیم ڈی این اے پر تحقیق کے نتائج سے یہ پتہ چلا ہے کہ آج کے دور کے ارمادیلو کا شجرہ برف کے آخری دور تک جنوبی امریکہ میں پائے جانے والے سخت استخوانی پشت اور نوکیلی دموں والے دیوقامت جانور سے ملتا ہے۔

ارمادیلو وسطی اور جنوبی امریکہ میں پایا جانے والا ایک ممالیہ جانور ہے جو کیڑے مکوڑے کھاتا ہے اور اس کی کھال سخت اور ہڈیوں کے خول سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گلپٹوڈونٹس نامی وہ دیوقامت جانور کروڑوں سال قبل جنوبی امریکہ میں پائے جاتے تھے اور ان میں سے کچھ تو ایک گاڑی جتنے بڑے ہوتے تھے۔

ان کی وضع قطع سے تو پہلے ہی ان تعلق ارمادیلو سے جوڑا جاتا رہا ہے تاہم اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک رشتہ دار گروپ نہیں بلکہ اسی خاندان کا حصہ تھے۔

فرانس کی ماؤنٹ پلیئر یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر فریڈرک دلسچ کا کہنا ہے کہ گلپٹوڈونٹس کو بہت بڑے جثے والے ارمادیلو کی ’سب فیملی‘ سمجھا جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ارمادیلو وسطی اور جنوبی امریکہ میں پایا جانے والا ایک ممالیہ جانور ہے جو کیڑے مکوڑے کھاتا ہے اور اس کی کھال سخت اور ہڈیوں کے خول سے ڈھکی ہوئی ہوتی ہے

ڈاکٹر دلسچ اور ان کے ساتھیوں نے ارمادیلو کے آباؤ اجداد کے ڈی این اے سیکوئنس کی مکمل تشکیلِ نو کے لیے کمپیوٹر پروگرام کی مدد لی۔

اس سے پتہ چلا کہ نہ نمونہ کسی عام گلپٹوڈونٹ کا نہیں تھا بلکہ یہ ڈی این اے ڈیوڈیکورس کا تھا جو اس خاندان کا سب سے قوی الجثہ جانور ہوا کرتا تھا۔ اس کی لمبائی چار میٹر اور وزن ڈیڑھ ٹن کے لگ بھگ ہوتا تھا۔

یہ سبزی خور دیوقامت جانور وقت کے ساتھ ساتھ حجم میں بڑے ہوتے رہے یہاں تک کہ دس ہزار سال قبل برف کے آخری دور کے خاتمے سے قبل ناپید ہوگئے۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کے شریک مصنف اور کینیڈا کی میکماسٹر یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے محقق ہینڈرک پوئینار نے کہا ہے کہ گلپٹوڈونٹس ارمادیلو کے ساڑھے تین کروڑ برس پہلے تک جانے والے شجرے کی ایک گمشدہ کڑی تھے جو اب دریافت ہوئی ہے۔

اسی بارے میں