زکا وائرس کی ’جنسی‘ منتقلی کے واقعات میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تاحال امریکہ میں مچھروں کے ذریعے زکا وائرس کے منتقل ہونے کے شواہد نہیں ملے

امریکہ میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ وہ زکا وائرس کے ایسے 14 معاملات کی تحقیقات کر رہے ہیں جن میں وائرس ممکنہ طور پر جنسی عمل کے نتیجے میں منتقل ہوا۔

حکام کے مطابق ایسے تمام معاملات میں مریض یا تو وائرس سے متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے والے مرد ہیں یا پھر ان کا تعلق ایسے مردوں سے رہا ہے جو متاثرہ علاقوں میں گئے تھے۔

امریکہ میں زکا وائرس کے متاثرین میں پہلی بار حاملہ خواتین بھی سامنے آئی ہیں۔

طبی حکام کے مطابق ان معاملات کے سامنے آنے سے ثابت ہوا ہے کہ جنسی طور پر زکا وائرس کی منتقلی اس وائرس کے پھیلاؤ میں اندازے سے کہیں زیادہ کردار ادا کر رہی ہے۔

امریکہ میں زکا وائرس کے جنسی طور پر منتقل ہونے کا پہلا معاملہ رواں ماہ کے آغاز میں ریاست ٹیکسس میں منظر عام پر آیا تھا۔

بظاہر اس مریض نے بھی وائرس سے متاثرہ ملک سے واپس آنے والے کسی فرد کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے تھے جس سے وائرس اس میں منتقل ہوگیا۔

تاحال امریکہ میں مچھروں کے ذریعے زکا وائرس کے منتقل ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے زکا وائرس کو عالمی سطح پر خطرہ قرار دیا جاچکا ہے اور اس حوالے سے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک برازیل میں اس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ مچھروں کی وجہ سے پھیلنے والا یہ وائرس جنوبی امریکی خطے کے 20 ممالک میں اب تک پھیل چکا ہے تاہم برازیل اس وقت خطے میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔

برازیل نے زکا وائرس کا پہلا کیس جنوبی امریکہ میں مئی 2015 میں رپورٹ کیا تھا۔

اس وائرس سے متاثرہ بہت سے افراد میں کوئی علامات نہیں دیکھی گئیں اسی لیے اس کا ٹیسٹ کرنا مشکل ہے۔ تاہم ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ برازیل میں ایک اندازے کے مطابق پانچ سے 15 لاکھ افراد متاثر ہیں۔

اسی بارے میں