ایف بی آئی سے تنازع، زکربرگ کا ایپل سے اظہارِ ہمدردی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

سماجی روابط کے لیے دنیا کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کے چیف ایگزیکیٹو مارک زکربرگ نے کہا ہے کہ وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی سے تنازع کے تناظر میں ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کے تئیں ہمددری کے جذبات رکھتے ہیں۔

ایف بی آئی نے اپیل کو حکم دیا ہے کہ وہ سان برنارڈینو میں حملہ کرنے والے رضوان فاروق کے آئی فون کو ’ان لاک‘ کرے تاکہ اس میں موجود مواد تک رسائی مل سکے تاہم ایپل نے اس حکم کی تعمیل سے انکار کیا ہے۔

مارک زکربرگ نے پیر کو کہا کہ وہ اس بات میں یقین نہیں رکھتے کہ حکام کے پاس انکرپشن کے تحت محفوظ بنائے جانے مواد تک رسائی کا کوئی چور دروازہ ہو۔

سپین کے شہر بارسلونا میں موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران زکربرگ کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ انکرپشن توڑنے کے لیے چور دروازے بنانا، سکیورٹی بہتر بنانے کے تناظر میں موثر اقدام ہے یا یہ کوئی درست عمل ہے۔‘

’ہمیں ٹم کک اور ایپل سے ہمدردی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ جہاں ان کی کمپنی دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدام کرنے کے لیے پرعزم ہے وہیں وہ انکرپشن کی بھی حامی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فیس بک کے علاوہ ٹوئٹر اور گوگل نے بھی اس معاملے پر ایپل کی حمایت کا اعلان کیا ہے

اس سے قبل فیس بک نے جمعرات کو ایپل کی جانب سے اس عدالتی فیصلے کی مخالفت کی حمایت کی تھی جس میں ایپل کو کے لیے آیف بی آئی کی مدد کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ دسمبر میں رضوان فاروق نے کیلیفورنیا کے شہر سان برناڈینو میں اپنی بیوی تاشفین ملک کے ساتھ مل کر 14 افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد پولیس نے انھیں بھی گولی مار دی تھی۔

رضوان فاروق سے ایک آئی فون برآمد ہوا تھا اور اس فون میں موجود تحریری اور تصویری مواد تک رسائی کے معاملے پر ٹیک کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین انکرپشن کی حدود پر تنازع سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ عدالت نے ایپل کو حکم دیا تھا کہ وہ سان بارنارڈینو کے حملہ آور سید رضوان فاروق کے آئی فون میں موجود ڈیٹا تک رسائي کے لیے ایف بی آئی کی مدد کرے۔

تاہم ایپل کے چیف ایگزیکٹیو ٹم کک کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گيا تھا کہ ’امریکہ کی حکومت نے ایپل کو ایک بے مثل قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے جس سے ہمارے صارفین کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ ہم اس حکم کی مخالفت کرتے ہیں، جس کے حالیہ قانونی مقدمے کے علاوہ بھی اثرات ہیں۔‘

فیس بک کے علاوہ ٹوئٹر اور گوگل نے بھی اس معاملے پر ایپل کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں