ایبولا کے متاثرین کے لیے مستقل طبی مسائل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ میں قومی صحت کے ادارے سے وابستہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایبولا جیسے مہلک وائرس سے متاثر ہونے والے جو افراد بچ گئے ہیں ان میں دیگر مختلف طرح کے امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔

لائیبریا میں علاج کے بعد ایبولا سے بچ جانے والے جانے والے جن افراد پر چھ ماہ کے بعد تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ ایسے متاثرین کی ایک بڑي تعداد کمزوری، بھولنے کی کی بیماری اور افسردگی کے عارضے میں مبتلا ہیں۔

ایسے ہی بعض دوسرے مریضوں میں خود کشی کا رجحان یا پھر فریب نظر کے اثرات نمایاں تھے۔

مغربی افریقی ممالک میں ایبولا جیسی مہلک وبا سے تقریبا 17000 ہزار افراد بچ نکلنے میں کامیاب ہو سکے۔

ایبولا سے بچ جانے والے افراد پر اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ کہیں ایسے افراد پر دیگر اثرات تو مرتب نہیں ہورہے ہیں اور اس سے متعلق جو شواہد پیش کئے گئے ہیں وہ اس کے ابتدائی نتائج ہیں۔

ایبولا سے بچ جانے والے 82 افراد کے ابتدائی جائزے سے پتہ چلا کہ جب ان پر وائرس کا اثر بہت زیادہ تھا اس وقت بیشتر گردن توڑ بخار، فریب نظر اور کوما میں جانے سمیت جیسی اعصابی بیماریوں مبتلا تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

اور اس وائرس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے چھ ماہ بعد بھی ان میں کئی نئے دیگر دیر پا مسائل پائے گئے۔

اس میں سے تقریبا دو تہائی افراد جسمانی کمزوری میں مبتلا پائے گئے جبکہ نصف مریضوں میں دورد سر، افسردگی اور بھولنے جیسی علامات پائی گئیں۔

جس وقت جائزہ لیا گيا اس وقت دو مریض ایسے بھی پائے گئے میں جن میں خود کشی کرنے کا رجحان موجود تھا۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف نیرولوجیکل ڈزاسٹر اینڈ سٹروک سے وابستہ ڈاکٹر لوریئن بوئین نے بی بی سی کو بتایا ’یہ کافی حیرت انگیز بات تھی، یہ ان نوجوان مریضوں کی بات ہے جن میں ہم اس طرح کے مسائل کے پانے کی توقع نہیں کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’جب لوگوں میں بھولنے کا مسئلہ ہو تو پھر اس سے ان کی روز مرہ کی زندگی متاثر ہوتی ہے، ان میں بعض کو تو یہ احساس ہورہا ہے کہ وہ اپنے سکول یا اپنے کام پر دوبارہ نہیں لوٹ پائیں گے جبکہ بعض میں سونے کے مسائل پائے جاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

’ان لوگوں سے ایبولا دور نہیں گیا ہے۔‘

ایبولا کا وائرس جسم کو تقریبا ناکارہ بنا دیتا ہے اور صحت یابی کے کچھ وقت کے بعد کئي علامات چلی جاتی ہیں لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ متاثرہ شخص اس سے پوری طرح جلدی چھٹکارہ نہیں حاصل کر پاتا ہے۔

ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایسے افراد کو اہل خانہ یا برادری کے لوگ انہیں پوری طرح سے الگ تھلگ چھوڑ دیتے ہیں۔

اس سے قبل اس سے متعلق ایک ڈیٹا سے اس بات کا بھی انکشاف ہوا تھا کہ بچ جانے والے افراد سے یہ وائرس جنسی تعلقات قائم کرنے سے بھی دوسرے تک پہنچ سکتا ہے۔

لیکن ایبولا سے متاثرہ ایسے افراد جو اس سے بچ گئے ہیں ان میں سے بیشتر جنسی طور پر فعال بھی پائے گئے۔

اسی بارے میں