لیبارٹری میں تیار شدہ نطفوں سے بچوں کی پیدائش

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption ماہرین کا خیال ہے کہ یہ انسانی علاج معالجے کی جانب ایک قدم ہے

سائنسدانوں نے لیبارٹری میں نُطفہ (سپرم) بنایا اور ایک صحت مند نر چوہے پر استعمال کیا ہے۔ یہ بانجھ پن کے علاج کا ایک نیا طریقہ ثابت ہوسکتا ہے۔

چینی تحقیق کاروں نے ایک سٹیم سیل لیا اس کو ابتدائی سپرم میں تبدیل کیا اور اس میں ایک بیضہ (انڈا) فرٹیلائز کیا تاکہ ایک صحت مند بچہ پیدا کیا جاسکے۔

سیل سٹیم سیل نامی تحقیقاتی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تمام صحت مند تھے اور انھوں نے خود اپنی نسل کو پروان چڑھایا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ انسانی علاج کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

آخرکار یہ اُن لڑکوں، جن کی تولیدی صلاحیت کو کینسر کے علاج کی وجہ سے نقصان پہنچا ہو یا کسی قسم کے وبائی مرض کی وجہ سے مثال کے طور پر غدود یا ایسے نقائص جن سے اُن کے سپرم بنانے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہو اُن کی مدد کرسکتا ہے۔

سپرم کی فیکٹری

ٹیسٹوں میں سپرم بنانا جسم کے سب سے طویل اور پیچیدہ کاموں میں سے ایک ہے۔ جو بہت سے ممالیا جانوروں میں آغاز سے اختتام تک ایک ماہ سے زائد عرصہ لیتا ہے۔

اب سائنسدان اس قابل ہوچکے ہیں کہ وہ لیبارٹری میں تولیدی عمل کا یہ مشکل اور دقت طلب کام کرسکیں۔

ایک خام سٹیم سیل جو کسی دوسری قسم کی بافت (ٹشو) کے ساتھ تبدیل ہوسکتا ہے جسے سپرم کی شکل میں لانے کے لیے کیمیکلز کے ایک آمیزے، ہارمونز (ایسے مرکبات جو جسم کے کچھ اعضا ( غدودوں) سے نکل کرخون کے بہاؤ میں شامل ہو جاتے اور مختلف تبدیلیاں اور اثرات پیدا کرتے ہیں مثلاً (تھائی راکسین ، انسولین وغیرہ) اور ٹیسٹی کیولر بافتے کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔

اس کو بالکل ٹھیک انداز میں تیار کرنے کے لیے خلیے کو اپنے ڈی این اے کے حتمی اور حساسں ترتیب نو (ایسا کیمیائی تعامل جس میں مالیکیول کا مالیکیولی فارمولا تو یکساں رہتا ہے لیکن اس کا ساختی فارمولا تبدیل ہوجاتا ہے کہ اس مرکب کا ایک آئسو مر وجود میں آجائے) کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے جسے ’می اوسز‘ کہا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ThinkStock
Image caption اب سائنسدان اس قابل ہوچکے ہیں کہ وہ لیبارٹری میں تولیدی عمل کا یہ مہارت کا کام کرسکیں

ایک خاتون کے بیضے کی طرح جو آدھے کروموسومز(بہت سے ڈی این اے) لازمی طور پر کم کردیتے ہیں جس کے نتیجے میں تولیدی بیضے کی ایک عام مقدار حاصل ہو پاتی ہے۔

چینی تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ لیبارٹری میں می اوسز کی تولید کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

لیکن وہ ایسے سپرم نہیں بناتے تھے جو ایک سر اور ایک دُم کے ساتھ تیر رہے ہوں اور آپ اُنھیں پہچان سکیں گے۔ وہ ابتدائی مرحلے کا ایک مقام ہے جسے سپرمیٹڈ (ایسا خلیہ جو براہِ راست کرم منی یعنی سپرم بنتا ہے) کہا جاتا ہے۔

تاہم سپرمیٹڈز میں جینیاتی حوالے سے ٹھیک مقدار تھی اور اُنھیں چوہے کے بیضے میں آئی وی ایف (یہ دستی طور پر ایک لیبارٹری کے برتن میں ایک انڈے اور نطفہ کو ملانے کے بعد بچہ دانی میں برانن کی منتقلی کی طرف فرٹلائجیشن کے عمل ہے) کے ذریعے کامیابی سے داخل کردیا گیا تھا۔

چین کی سائنس کی اکیڈمی کے پروفیسر ژیاؤ ینگ کاؤ نے بی بی سی نیوز ویب سائٹ کو بتایا کہ ’اُن سے پیدا ہونے والے تمام بچے صحت مند اور تولیدی صلاحیت رکھتے تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پُرامید ہیں کہ یہ تحقیق انسانی بافتوں کے ساتھ’بانجھ پن کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے‘ بھی ایسا ہی کام کرنے کی ’تحریک‘ پیدا کرے گی۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ ’قانونی حوالے سے خدشات‘ اور ’ممکنہ خطرات کا پہلے سے تدارک کیا جانا ضروری ہے۔‘

نانجنگ میڈیکل یونیورسٹی سے اُن کے ساتھی پروفیسر جیاہاؤ شا کے مطابق ’ہمارا خیال ہے کہ یہ تحقیق مردوں میں بانجھ پن ختم کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے۔‘

جاپان میں سپرما ٹیڈز کو صحت مند بچوں کی تخلیق کے لیے استعمال کیا جاچکا ہے۔ لیکن یہ طریقہ چند ممالک میں غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

ایک اور مسئلہ جس پر اس شعبے کو قابو پانے کی ضرورت ہے وہ اس کا شروعاتی مواد ہے۔ کسی بھی بالغ کے پاس ابتدائی سٹیم خلیات نہیں ہوتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption جاپان میں سپرما ٹیڈز کو صحت مند بچوں کی تخلیق کے لیے استعمال کیا جاچکا ہے

چینی گروپ کو یقین ہے کہ جلدی خلیوں کو سٹیم خلیات کی حالت میں تبدیل کرنا، جو کہ قابلِ اعتماد طور پر کیا جاسکتا ہے، وہ اس مسئلے کا حل ہوگا۔

دلچسپ

برطانیہ کے فرانسس کرک انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر روبن لوول بیج نے اسے سراہتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک متاثر کُن کام ہے اور اس کے شاندار نتائج بنیادی تحقیق کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوں گے۔‘

تاہم شیفلڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ایلن پیسی نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اِن حوصلہ افزا نتائج کے باوجود ہم اب بھی فوری طور پر انسان مرد بانجھ پن کو دُور کرنے کے لیے اس ٹیکنالوجی کا اطلاق کرنےسے کافی دُور ہیں۔‘

اسی بارے میں