زکا وائرس سے خطرناک اعصابی خرابی کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption زکا وائرس مخصوص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے پھیلتے ہیں

ایک تازہ تحقیق میں پہلی مرتبہ اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ زکا وائرس ایک شدید اعصابی خرابی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

اس اعصابی خرابی یا بےترتیبی کو طبی لفظیات میں ’گولین بارے سنڈروم‘ کہا جاتا ہے۔

تازہ تحقیق زکا وائرس کے سلسلے میں گذشتہ بار آنے والی وبا میں متاثرہونے والے 42 مریضوں کے خون کے نمونوں پر شامل ہے۔

طبی رسالے لینسٹ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ زکا وائرس کے انفیکشن کے چھ دنوں بعد اعصابی بےترتیبی دیکھی گئی ہے۔

سرکردہ سائنسدانوں نے اس تحقیق کو ’اہم اور قابل غور‘ بتایا ہے۔

خیال رہے کہ رواں سال فروری کے اوائل میں عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او نے زکا کو بین الاقوامی برادری کی صحت کے لیے ناگہنانی صورت حال قرار دیا ہے۔

یہ وائرس مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے اور اس کے اثرات لاطینی امریکی ممالک میں نظر آ رہے ہیں جہاں بچوں کی پیدائش میں نقص دیکھے جا رہے ہیں اور زکا وائرس کو اس کا سبب تصور کیا جا رہا ہے۔

لیکن ماہرین یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ کیا زکا وائرس دوسری قسم کے طبی حالات سے بھی منسلک ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption زکا کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس سے بچوں کی پیدائش میں نقص سامنے آ رہے ہیں

گولین بارے سنڈروم میں پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور انتہائی نازک حالات میں سانس لینے میں پریشانی ہو سکتی ہے اور ایسے میں انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اس انفیکشن میں ایسا شاذونادر ہے جس میں جسم کا مدافعاتی نظام اپنے نظام کے حاشیے پر موجود اعصاب پر حملہ آور ہو۔

سائنسدانوں نے دو سال قبل بحرالکاحل کے جزیرے فرنچ پولینیسیا میں زکا کی وبا کی زد میں آنے والے افراد کے خون کے نمونوں کی بنیاد پر تحقیق کی ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ زکا وائرس کا شکار ہونے والے ہر چار ہزار افراد میں سے ایک شخص کو گولین بارے سنڈروم ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق کے رہنما مصنف اور پیرس میں پاسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر آرناڈ فونٹا نیٹ نے کہا: ’اس کی زد میں آنے والے افراد کی حالات عام طور پر گولین بارے کے مریضوں کے مقابلے زیادہ تیزی کے ساتھ خراب ہوتی ہے۔

’لیکن ایک بار جب مریض بیماری کی انتہا کے مرحلے سے نکل آتے ہیں پھر ان میں بہتری کے امکان زیادہ ہوتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ ان 42 لوگوں میں سے کسی کی بھی بمیاری سے موت نہیں ہوئي لیکن انھیں بیماری سے باہر آنے کے بعد بھی کئی مہینوں تک چلنے میں پھرنے میں دشواری کا سامنا رہا اور سہارے سے چلنا پھرنا ہوا۔

سائنسدانوں نے ان ممالک کو اعصابی بیماری کے لیے زیادہ تیار رہنے کے لیے کہا ہے جہاں زکا کے خطرات موجود ہیں۔

اسی بارے میں