کیا آپ کا سمارٹ فون آپ کو سن رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کیا آپ نے کبھی سوچا کے آپ کا فون آپ کی باتیں کسی دوسرے کو بتا رہا ہے؟

اِس سب کا آغاز ایک گاڑی کے حادثے کے ساتھ ہوا۔ میں کچھ استری کر رہا تھا، جب میری والدہ اندر آئیں اور اُنھوں نے مجھے بتایا کہ ہمارے خاندانی دوست تھائی لینڈ میں ایک سڑک حادثے کے دوران ہلاک ہوگئے ہیں۔

میرا فون کمرے میں ایک میز پر رکھا ہوا تھا۔

ایپل اور اینڈروئڈ ایپس صارفین کی جاسوسی کرتی ہیں

لیکن جب اگلی بار میں نے اِس پر سرچ انجن استعمال کیا تو اُس پر میرے رشتہ دار کا نام اور الفاظ ’تھائی لینڈ، موٹربائیک کا حادثہ‘ سامنے نظر آ رہے تھے اور تلاش کے خانے میں ایک سال تک یہ متن تجویز کے طور پر دکھائی دیتا رہا۔

میں چونک گیا تھا، کیونکہ اُس وقت میں اپنی والدہ سے بات کر رہا تھا اور میرے ہاتھ خالی نہیں تھے۔

کیا بعد میں، میں نے اُس کی تفصیلات دیکھیں اور بھول گیا؟ یا میرا فون سب سُن رہا تھا؟

میں جب بھی لوگوں کو یہ واقعہ سنایا تو اُن کے پاس اِس سے ملتی جُلتی کہانی ہوتی تھی، زیادہ تر اشتہارات کے حوالے سے تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Suzhou Lanyuan VC
Image caption کئی افراد کا کہنا ہے کہ وہ کسی مخصوص شے یا چھٹیاں منانے کے لیے مقامات پر گفتگو کررہے تھے اور اُس کے فوری بعد ہی اُنھیں اُس چیز کے متعلق اشتہارات دکھائی دینے لگے

میری ایک دوست کو جب آدھے سر کے درد کی تکلیف ہوئی تو اُس نے یہ بات اپنے بوائے فرینڈ کو بتائی اور اگلے ہی روز میگرین سپورٹ گروپ نے ٹوئٹر پر اُس کو فالو کرنا شروع کردیا۔

ایک اور دوست اپنی بہن سے ٹیکس کے مسئلے پر گفتگو کررہی تھی اور اگلے ہی دن فیس بک پر اُنھیں ٹیکس کے اُسی مسئلے پر اشتہار نظر آگیا۔

کئی افراد کا کہنا ہے کہ وہ کسی مخصوص شے یا چھٹیاں منانے کے لیے مقامات پر گفتگو کر رہے تھے اور اُس کے فوری بعد ہی اُنھیں اُس چیز کے متعلق اشتہارات دکھائی دینے لگے۔

سماجی ویب سائٹ ریڈ اِٹ اِن کہانیوں سے بھری ہوئی ہے۔

ایک رپورٹر کا کہنا ہے کہ اُن کے ایک مرد ساتھی کو گاڑی میں اپنی اہلیہ سے ماہواری کے حوالے سے گفتگو کے بعد آن لائن سینیٹری پیڈ کے اشتہارات دکھائی دینے لگے۔

لیکن اگر مائیکرو فون متحرک ہوتا اور ہینڈ سیٹ مواد بھیج رہا ہوتا تو بیٹری جیسے کہ ابھی ہے اُس سے زیادہ بہت زیادہ بری حالت میں ہوتی۔

ٹیکنالوجی کا چیلنج

میں نے سائبر سکیورٹی کے ماہر کین منرو اور اُن کے ساتھی ڈیوڈ لوج ’پین ٹیسٹ پارٹنر‘ کے ذریعے سے چیلنج دیا کہ وہ دیکھیں کہ ایک ایپلیکیشن کا اس طرح سے تاک جھانک کرنا ممکن تھا۔

اور واضح ہوئے بغیر کوئی چیز ’سنی‘ جاسکتی ہے؟

منرو کا کہنا تھا کہ ’میں نے پہلے اِس بات کا یقین نہیں کیا تھا۔ یہ تھوڑا افسانوی لگ رہا تھا۔‘

تاہم ہم سب کے لیے حیرت کی بات یہ تھی کہ جواب بھرپور ہاں میں تھا۔

اُنھوں نے ایک پروٹوٹائپ ایپ تیار کی اور ہم فون کے قریب ہی گفتگو کرنے لگے اور دیکھنے لگے کہ ہمارے الفاظ قریب رکھے ہوئے لیپ ٹاپ کی سکرین پر جگمگا رہے تھے۔

منرو کا کہنا ہے کہ ’ہم نے جو کچھ کیا وہ اینڈرائیڈ گوگل کا استعمال تھا۔ ہم نے اِس کا انتخاب کیا، کیونکہ ایپ تیار کرنے کے لیے یہ کافی آسان تھا۔‘

’ہم نے اپنے آپ کو فون کے مائیکروفون کے استعمال کی اجازت دی اور اِس کو انٹرنیٹ کے سماعت والے سرور سے منسلک کردیا اور ہر وہ چیز جو مائیکرو فون کے ذریعے سے فون پر سنی گئی۔ چاہے وہ دنیا میں ہو اور ہمارے پاس ہو تو ہم اُس کو حسب ضرورت اشتہارات بھیجے۔‘

اِس سب کو تیار کرنے میں چند دن لگ گئے۔

یہ مکمل طور پر دُرست نہیں تھا لیکن یہ کچھ وقت میں یقینی طور پر زیادہ سے زیادہ اہم الفاظ کو شناخت کرنے کے قابل تھا۔

ہمارے تجربے کے دوران بیٹری کم سے کم استعمال ہوئی اور اِس میں موبائل انٹرنیٹ کے بجائے وائی فائی کا استعمال کیا گیا۔

کین منرو کا کہنا ہے:’ہم نے یہ ثابت کردیا کہ یہ ہوسکتا ہے، یہ کام کرتا ہے اور ہم نے یہ کر دکھایا ہے۔ کیا یہ ہوگیا؟ شاید‘

گوگل کا ردعمل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گوگل کا موقف ہے کہ ایپ تیار کرنے والوں کے لیے اُن کی پالیسی ہے کہ ایپ صارف کے علم میں لائے بغیر معلومات اکھٹا نہیں کرسکتی

اہم ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اِس خیال کو مسترد کردیا ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کسی بھی شخص کی آواز ’قطعی طور سے‘ اشتہارات یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کی جاسکتی ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اِس طرح سے حاصل کی گئی آواز تیسرے فریق کو مہیا نہیں کرتے ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے اپنی سننے کی صلاحیت کو آواز کی سروس کو آن یا فعال کرنے کے لیے بڑھایا گیا ہے۔

اُن کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایپ تیار کرنے والوں کے لیے اُن کی پالیسی ہے کہ ایپ صارف کے علم میں لائے بغیر معلومات اکھٹا نہیں کرسکتی۔

اگر کسی ایپ کو اِس میں ملوث پایا گیا تو اُن کو گوگل کے پلے سٹور سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

فیس بک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ کمپنیوں کو مائیکروفون کی بنیاد پر حاصل ہونے والے مواد کے مطابق اشتہارات کے لیے ہدف بنانے کی اجازت نہیں دیتے ہیں اور مرضی کے بغیر تیسرے فریق کو مواد مہیا نہیں کرتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ فیس بک کے اشتہارات صارف کی جانب سے شائع کی جانے والی معلومات اور اُن کے انٹرنیٹ کے استعمال پر مبنی ہوتے ہیں۔

دیگر بڑی کمپنیوں نے بھی اِس تکنیک کے استعمال کی تردید کی ہے۔

یہاں اِس بارے میں مزید ریاضیاتی وضاحتیں ہیں، اور ممکن ہے کہ جو ہم نے کہا اور جو دیکھا اُن سب کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہو۔

لندن امپیریئل کالج میں ریاضی کے پروفیسر ڈیوڈ ہینڈ نے ’دا امپروبیبیلٹی پرنسپل‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، جس میں اُنھوں نے دلیل دی ہے کہ بظاہر غیر معمولی واقعات ہر وقت ہوتے رہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فیس بک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ کمپنیوں کو مائیکروفون کی بنیاد پر حاصل ہونے والے مواد کے مطابق اشتہارات کے لیے ہدف بنانے کی اجازت نہیں دیتے ہیں

اُنھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں وضاحتیں ڈھونڈنے کی تربیت دی جاتی ہے۔‘

اگر آپ کوئی نشانی دیکھتے ہیں جوکسی شکاری سے وابستہ ہے تو آپ بھاگ جاتے ہیں اور محفوظ رہتے ہیں۔

’یہاں بھی یہ صوتحال ہے۔ یہ بظاہر اتفاق ہوتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اِس کی وضاحت بھی ہونی چاہیے تو یہ اتفاق نہیں ہوسکتا۔ لیکن یہاں بہت سارے مواقع ہیں جن کے لیے یہ اتفاق ہوتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ عام طور پر عوام اُن چیزوں کے بارے میں زیادہ ہوشیار رہتے ہیں جو اُن پر اثرات مرتب کررہی ہوں۔ جیسے کہ حالیہ گفتگو اور گاڑی خریدنے یا چھٹیاں منانے کے لیے مقام کے انتخاب جیسے بڑے فیصلے ہیں۔

پروفیسر ہینڈ بھی خود کو اتفاق سے محفوظ نہیں رکھ سکے۔

جب اُن کی کتاب شائع ہوئی تو ایک دوسرے پبلشر نے اُسی دوران اِسی عنوان سے ایک دوسری کتاب شائع کردی۔ ’دا کواِنسیڈنس اتھارٹی‘ کے مصنف جان آئرن مونگر کی تاریخ پیدائش اور پروفیسر ہینڈ کی تاریخ پیدائش ایک ہی ہے اور اُن کا تعلق اُسی یونیورسٹی سے ہے، جس سے اُن کی اہلیہ کا ہے۔

اُن کا کہنا ہے ’اِس طرح کی چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔‘

’صرف اِس وجہ سے کہ میں سمجھ گیا کہ یہ کیوں ہوتا ہے، یہ کسی کو کم خوبصورت نہیں بناتا ہے۔‘

اسی بارے میں