پاکستان میں شدت پسندی پر مبنی مواد با آسانی دستیاب

تصویر کے کاپی رائٹ Alemarah
Image caption غیر سرکاری تنظیمیں حکومت کو ایسے لٹریچر اور ویڈیوز کی باآسانی سے دستیابی کے بارے میں خبردار کرتی رہتی ہیں

پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے لاکھوں نوجوانوں کو مائل کرنے کے لیے شدت پسندی پر مبنی مواد باآسانی دستیاب ہے۔ وجہ ہے ویب سائٹس، خصوصاً فیس بُک اور ٹوئٹر پر موجود اِس مواد کو بلاک کرنے کے لیے حُکام کی بظاہر غیر سنجیدگی۔ یہ رویہ کئی کمزور ذہن افراد کو شدت پسندی کی جانب مائل کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

نام نہاد دولتِ اسلامیہ افغانستان کی پانچ مختلف زبانوں میں ویب سائٹ ہو، یا پھر تحریکِ طالبان کے عمر میڈیا کی ویب سائٹ پاکستان میں سب آسانی سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ اِس کے علاوہ طالبان صحافیوں کو اپنے تازہ پیغامات اور حملوں کی تیاری کی ویڈیوز کے فیس بُک لنکس بھیجتے ہیں۔

نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی ویب سائٹ پر جا کر سبسکرائب کیا جائے تو روزانہ کی بنیاد پر 25 سے 30 ویڈیوز، تصاویر اور ای میلز موصول ہونے لگیں گی۔ پاکستان کی ایک بلاگر اور محقق ارم زہرہ کہتی ہیں کہ اُنہیں اپنے کام کی وجہ سے اکثر سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس پر جانا پڑتا ہے۔

اُنھوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کیا۔

’میں اپنی ای میلز چیک کر رہی تھی تو کسی نے مجھے ایک ای میل بھیجی جس میں مجھے نام سے مخاطب کیا گیا اور کہا کہ آپ بلاگر ہیں اور خاصی مشہور ہیں آپ ہمارے ایک آرٹیکل پر اپنی رائے دیں اور ہو سکے تو اُسے خود بھی شیئر کریں اور اپنے فینز کو بھی کہیں کہ وہ اِسے شیئر کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Alemarah
Image caption ان ویب سائٹس پر ویڈیو، آڈیوز اور تحریریں سبھی موجود ہیں

ارم زہرہ نے بتایا کہ اُس آرٹیکل میں بتایا گیا تھا کن کن جگہوں پر جہاد چل رہا ہے ، اور نام نہاد دولتِ اسلامیہ والے بقول اُن کے وہ مسلمانوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ جو نوجوان ہیں اور نئے لوگ ہیں وہ زیادہ سے زیادہ اُس آرٹیکل کو پڑھیں اور اُس کی تشہیر کریں تاکہ اُن کا موقف سامنے آسکے۔

ارم زہرہ کے مطابق ایسی ویب سائٹس تک رسائی پاکستان میں خاصی آسان کام ہے اور انسان کی کھوجنے اور تلاش کر نے کی نفسیات اُسے اِن ویب سائٹس کو دیکھنے پر اُکساتی ہے۔

پاکستان میں سائبر کرائمز کی روک تھام اور سائبر سکیورٹی کے لیے غیر سرکاری تنظیمیں کام کر رہی ہیں جو حکومت کو ایسے لٹریچر اور ویڈیوز کی باآسانی سے دستیابی کے بارے میں خبردار کرتی ہیں لیکن متعلقہ ادارے کی جانب سے اِنہیں بلاک نہ کیے جانے کی کیا وجہ ہے؟

عمار جعفری پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے شعبہ سائبر کرائم کے سابق سربراہ ہیں۔

اُن کا کہنا ہے ’سائبر کی دنیا میں جتنا بھی نفرت آمیز مواد ہے وہ عام دستیاب ہے، یہ کسی سرور پر موجود ہے اور کوئی اِس کی ادائیگی کر رہا ہے۔ ایک بات میں کہتا ہوں کہ یہ پاکستان میں ہوسٹڈ نہیں ہے یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، یہ پاکستان کے باہر سے چلائے جاتے ہیں اِسی لیے ہمیں بین الاقوامی اداروں سے رابطوں کی ضرورت ہے۔ اور یہ رابطے ہمیشہ یا تو اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں ہوتے یا پھر انٹرپول کی سرپرستی میں ہوتے ہیں جس کا کوئی قانونی دائرہ کار ہو۔‘

عمار جعفری نے بتایا کہ ’ہماری زندگی میں ہر جرم کے نشانات ہوتے ہیں اور ڈیجیٹل ورلڈ یا سائبر ورلڈ میں بھی ہر کام کے نشانات ہوتے ہیں۔ ہر قسم کے مواد کی کوئی ویب سائٹ ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی اُس کا یو آر ایل ہے کوئی نہ کوئی آر ایس ایس فیڈ ہوتی ہے۔ یہ چیزیں کسی نہ کسی سرور پر موجود رہتی ہیں اِس لیے صرف فورینزک ماہرین کی ضرورت ہے جو اُسے تلاش کریں اور ضروری آلات کے ذریعے اُنہیں بلاک کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption پاکستان کے مختلف شہروں کے بڑے تعلیمی اداروں کے طلبا کے نام مشتبہ شدت پسند تنظیموں سے روابط کی صورت میں سامنے آئے ہیں

پاکستان کے مختلف شہروں کے بڑے تعلیمی اداروں کے طلبا کے نام مشتبہ شدت پسند تنظیموں سے روابط کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کےوفاقی تحقیقاتی ادارے کے تحت سائبر کرائم سیل کام تو کر رہا ہے لیکن اُس کی کارروائیاں کتنی مربوط اور جامع ہیں اِس پر سوالات کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں