جعلی پروفائلز بنانے والوں پر قانونی گرفت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دھوکے بازوں نے اپنے سابقہ پارٹنرز کے جعلی اکاؤنٹ بنائے تاکہ نئے لوگوں کو راغب کیا جاسکے اس عمل کو ’کیٹ فیشنگ‘ کہا جاتا ہے

انگلینڈ اور ویلز میں وکلا کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ جعلی آن لائن پروفائل کے ذریعے دوسروں کو خوف و ہراس کا شکار کرنے والے افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں۔

کراؤن پراسیکیوشن سروس کا کہنا ہے کہ ایسے بالغ افراد پر مقدمہ چلے گا جو کسی شخص کا جعلی اکاؤنٹ بنا کر غلط معلومات فراہم کر کے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں ملوث پائے گئے۔

قانونی کارروائی سے متعلق رہنما اصولوں میں کئی نئے جرائم بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں سے ایک بدلے کے لیے کی گئی پورنوگرافی بھی ہے۔

سی پی ایس کے رہنما اصولوں میں بتایا گیا ہے کہ ان جرائم کے لیے کس طرح موجودہ قوانین کو استعمال کیا جائے۔

نئی مجوزہ تبدیلیوں کے لیے چھ ہفتوں پر مشتمل مشاورت کا آغاز ہو گیا ہے۔

پبلک پراسیکیوشنز کے ڈائریکٹرز ایلیسن سانڈرز کا کہنا تھا کہ ’یہ ضروری ہے کہ اس معاملے کو بڑے تناظر میں دیکھا جائے جب شواہد اور مشتبہ شخص کے آن لائن اور آف لائن رویے کا جائزہ لیا جائے۔ ‘

’آن لائن استحصال انتہائی بزدلانہ اقدام ہوتا ہے اور یہ متاثرہ انسان کے لیے بہت پریشان کن ہوتا ہے۔‘

جعلی اکاؤنٹ اور ویب سائٹس کو لوگوں کی جعلی پروفائلز بنا کر ان کی جانب سے باعثِ شرمندگی پیغامات اور تصاویر پوسٹ کرنے لیے استعمال کا جا سکتا ہے۔

سی پی ایس کا کہنا ہے کہ یہ ایک حملے کے مترادف ہے جیسے کہ ہتک آمیز گفتگو اور ہراس۔‘

ایسے دھوکے بازوں نے اپنے سابقہ پارٹنرز کے جعلی اکاؤنٹ بنائے تاکہ نئے لوگوں کو راغب کیا جا سکے اس عمل کو ’کیٹ فیشنگ‘ کہا جاتا ہے۔

یہ دھوکے باز ’لِنکڈ اِن‘ پر بھی لوگوں کے جعلی پروفائلز بناتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آن لائن کی جانی والی حرکتیں کئی قوانین کے تحت گرفت میں آسکتی ہیں جن میں کرمنل جسٹس اینڈ کورٹس ایکٹ 2015 شامل ہے جس میں ایک نیا جرم ’ریوینج پورونوگرافی ‘شامل کیا گیا ہے

فیس بک نے بتایا تھا کہ اس پر لاکھوں جعلی پروفائلز ہیں۔

سی پی ایس نے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اگر اس کے خلاف مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک جرم بھی سامنے آئے:

  1. جب اس کی آئن لائن حرکت سے کسی فرد کو قابلِ ذکر خطرہ لاحق ہو
  2. جب کسی کو بطورِ خاص ہراس، جھنجھلاہٹ، اور بدلے کے لیے پورن کا نشانہ بنایا جائے یا سابق پارٹنر اور اس کے گھر والوں کے خلاف دھونس و زبردستی کا برتاؤ رکھا جائے
  3. ایسے معاملات جو عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوں

سی پی ایس کے مطابق بچوں کے خلاف کم ہی مقدمات قائم ہوں گے کیونکہ ان میں بالغوں جیسی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی۔

آن لائن کی جانی والی حرکتیں کئی قوانین کے تحت گرفت میں آسکتی ہیں جن میں کرمنل جسٹس اینڈ کورٹس ایکٹ 2015 شامل ہے جس میں ایک نیا جرم ’ریوینج پورونوگرافی ‘شامل کیا گیا ہے جس میں لوگ دوسروں کی فحش تصاویر ان کی اجازت کے بغیر پوسٹ کرتے ہیں۔

اسی بارے میں