سرطان کے علاج میں ایک نئی پیش رفت

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption محققین کا خیال ہے کہ ان کی دریافت سرطان کے نئے علاج کے لیے کی جانے والی تحقیق میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ انھوں نے ایک ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کے تحت جسم کے اپنے دفاعی نظام کو سرطان کے خلیے ختم کرنے کے لیے ’مائل‘ کیا جا سکتا ہے۔

جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق محققین نے سرطان کی رسولی میں کچھ ایسے ’کمزور مقامات‘ ڈھونڈ نکالنے کا طریقہ دریافت کر لیا ہے جنھیں انسان کا مدافعتی نظام نشانہ بنا کر مرض کو بڑھنے سے رو کتا ہے۔

لیکن یہ طریقۂ علاج بہت مہنگا ہے، جس میں ہر مریض کے لیے مختلف ویکسین تیار کرنا ہو گی۔ اس تحقیق کا تجربہ ابھی تک انسانوں پر نہیں کیا گیا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ طریقہ قابل فہم تو ہے لیکن اس پر عمل کرتے وقت کئی پیچیدگیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

محققین کا خیال ہے کہ ان کی دریافت سرطان کے نئے علاج کے لیے کی جانے والی تحقیق میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور انھیں امید ہے کہ وہ دو برسوں کے اندر اس کا تجربہ مریضوں پر شروع کر دیں گے۔

کئی سائنس دان اس سے قبل بھی انسان کے مدافعتی نظام کے ذریعے سرطان کی رسولیوں کو ختم کرنے کی کوشش کر چکے ہیں لیکن اب تک سرطان کی ویکسین تیار کرنے کی کوشش ناکام ثابت ہوتی رہی ہے۔

اس ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ سائنس دان جسم کے دفاعی نظام کو ایک غلط ہدف کے پیچھے لگانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ سرطان کی رسولی کے خلیے یکساں نہیں ہوتے اور رسولی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ خلیوں کا بےہنگم مجموعہ ہوتی ہیں، اور رسولی کے مختلف حصوں کے خلیے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

خوش آئند دریافت

سرطانی خلیے میں پیدا ہونے والی جینیاتی تبدیلیاں ایک تنے کی مانند ہوتی ہیں جو نیچے سے ایک جیسی ہوتی ہیں لیکن اوپر شاخ در شاخ پھیلتی چلی جاتی ہیں۔

اس تحقیق کے ذریعے ان خلیوں میں پیدا ہونے والی ان بنیادی جینیاتی تبدیلیوں کی ’جڑ‘ دریافت کرنے کا طریقہ تلاش کیا گیا ہے جن کے تحت خلیوں کے اینٹی جینز (antigens) میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے۔ اینٹی جینز وہ پروٹینز ہیں جو سرطان کے خلیوں کے باہر چپکی ہوئی ہوتی ہیں۔

یو سی ایل کینسر انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر چارلس سوانٹون کہتے ہیں کہ ’یہ بہت خوش آئند بات ہے کیونکہ اب ہم سرطان کے ہر خلیے میں موجود اینٹی جینز کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور یہی اینٹی جین وہ کمزور مقام یا ’دکھتی رگ‘ ہیں جسے شناخت کر کے پیچیدہ ترین سرطانوں کا علاج بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔‘

آغاز

انسٹیٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کے ڈاکٹرمارکوگرلنگر کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے جس سے ہمیں اس بات کا ادراک ہوا ہے کہ سرطان کے خلیوں کی مختلف نوعیت ہی وہ مسئلہ ہے جوسرطان کو پھلینے میں مدد دیتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’سرطانی خلیوں کی جینیاتی تبدیلیوں کی جڑ کو نشانہ بنانے کا طریقہ علاج قابل فہم ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے۔ اور ابھی میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اس پر عمل کرنا بھی اتنا ہی آسان ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

اہم پیش رفت

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ڈاکٹر سٹیون سیمیونیڈس کا کہنا ہے کہ ’ہر مریض کے لیے الگ ویکسین تیار کرنا فی الحال قابل عمل نظر نہیں آتا خاص طور پر اس وقت جب مریض کو فوری علاج کی ضروت ہو۔‘

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس تحقیق نے یہ اہم انکشاف ضرور کر دیا ہے کہ مدافعتی نظام کو متحرک رکھنے کے لیے دی جانے موجودہ دوائیں کیوں ہر مریض پر ایک طرح اثرنہیں کرتیں۔

’اس تحقیق پر مزید کئی سال کام کیا جائے گا جس میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کون سے مریض اس علاج سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں اور کون سے نہیں، اور ناکامی کی وجوہات کو جانتے ہوئے ہم زیادہ موثر طریقہ علاج دریافت کر سکیں گے۔‘

اسی بارے میں