جنسی عمل سے زکا وائرس کی منتقلی ’زیادہ عام‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برازیل میں زکا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ زکا وائرس کی جنسی عمل کے ذریعے منتقلی اس سے کہیں زیادہ عام ہے جس کا اس سے قبل اندازہ لگایا گیا تھا۔

زکا وائرس کیسے پھیلا؟

منگل کو ڈبلیو ایچ او کی کمیٹی کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ زکا وائرس اور پیدائشی نقائص کے درمیان تعلق کےشواہد میں اضافہ ہوا ہے۔

عام طور پر زکا مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے مگر بہت سے ممالک میں یہ وائرس جنسی تعلقات کے ذریعے پھیلا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی ڈائریکٹر ڈاکٹر مارگریٹ چان نے کہا ہے کہ رپورٹس اور تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ بہت سے ممالک میں اس وائرس کا جنسی عمل کے ذریعے پھیلاؤ اس سے قبل لگائے گئے اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔

انھوں نے اس پیش رفت کو ’خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ برازیل میں پیدا ہونے والے بچوں میں پیدائشی نقص کا زکا وائرس سے گہرا تعلق ہے اور یہ ان بہت سی علامات میں سے ایک ہے جنہیں ڈبلیو ایچ او نے اس وائرس سے جوڑا ہے۔

دوسری جانب نو ممالک میں گولین برے سینڈروم (جی بی ایس) کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس غیر معمولی صورتحال میں موت واقع ہو جاتی ہے یا عارضی طور پر جسم مفلوج ہوجاتا ہے۔

ڈاکٹر چن کا کہنا ہے کہ وائرس کی علامات نہ صرف اب حاملہ خواتین میں دکھائی دے رہی ہیں بلکہ یہ بچوں، نوجوانوں اور ادھیڑ عمر افراد میں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے حاملہ خواتین سے کہا ہے کہ وہ زکا وائرس کے شکار علاقوں میں سفر کرنے سے گریز کریں اور جنسی تعلقات قائم کرتے ہوئے احتیاط برتیں یا اس سے گریز کریں۔

ادھر امریکہ میں ایسے دس کیسز کی جانچ کی جا رہی ہیں جن میں متاثرین میں جنسی عمل کے ذریعے یہ وائرس منتقل ہوا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں زکا وائرس پر تحقیق کرنے والے پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر اینتھونی فوسی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس سال کے آخر میں اس وائرس سے بچاؤ کی ویکسین تیار کر لی جائے گی جس کا انسانوں پر تجربہ کیا جائے گا۔

تاحال امریکہ میں مچھروں کے ذریعے زکا وائرس کے منتقل ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک برازیل میں اس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے سر والے بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

اسی بارے میں