بچوں میں سکون آور ادویات کے استعمال پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بچوں میں ڈپریشن دور کرنے والی دواؤں کے روز افزوں استعمال پر عالمی ادارۂ صحت کو تشویش

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق بچوں میں اینٹی ڈپریسنٹ ادویات کا بڑھتا ہوا استعمال باعث تشویش ہے۔

سنہ 2004 کے اس انتباہ کے بعد کہ ادویات کا استعمال خودکش رویے کا باعث بن سکتاہے ان ادویات کے استمعال میں کمی آئی تھی۔

تاہم ایک نئی تحقیق کے مطابق سنہ 2005 سے سنہ 2012 کے دوران برطانیہ میں نوجوانوں کے لیے اینٹی ڈپریشن ادویات کےنسخے تجویز کرنے میں 54 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق اسی مدت کے دوران ڈنمارک میں 60 فیصد، جرمنی میں 49 فیصد، امریکہ میں 26 فیصد، اور ہالینڈ میں 17 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او میں دماغی صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیکھر سکسینہ کا کہنا ہے کہ سائنسی جریدے یوروپین جرنل آف نیوروسائیکوفارماکولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق سے کئی سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’دو وجوہات کی بنا پر نوجوانوں میں اینٹی ڈپریشن ادویات کا استعمال باعث تشویش ہے۔‘

’پہلی وجہ، کیا زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بغیر کسی جامع وجہ کے اینٹی ڈپریشن ادویات تجویز کی جارہی ہیں؟ اور دوسری وجہ، کیا اینٹی ڈپریشن ادویات کسی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption جن ادویات کو 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے لائسنس حاصل نہیں ہے ان کے آف لیبل نسخے پر بھی ادارے کو تشویش ہے

ڈبلیو ایچ او کو درپیش ایک اور اہم پریشانی اُن ادویات کی ترویج ہے جوکہ 18 سال سے کم عمر بچوں میں استعمال کے لیے لائسنس یافتہ نہیں ہیں اور اس کے باوجود تجویز کی جارہی ہیں۔

ڈاکٹر سکسینہ کہتے ہیں ’یہ وہ دوائیں ہیں جن کے تجربات کم عمر افراد پر نہیں کیے گئے ہیں اور نوجوانوں میں ان کے وسیع پیمانے پراستمعال کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘

جن ادویات کو 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے لائسنس حاصل نہیں ہے ان کے آف لیبل نسخے پر بھی ادارے کو تشویش ہے۔

بچوں میں ڈپریشن کے روک تھام اورعلاج کے لیے اینٹی ڈپریشن دواؤں کا استعمال مروجہ طریقہ ہے۔ تاہم برطانیہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلینس (این آئی سی ای) کے ضوابط کے مطابق ان ادویات کو ڈپریشن کی ابتدائی علامت میں تجویز نہیں کیا جانا چاہیے۔

ڈپریشن کے زیادہ سنگین مرحلے میں بھی اینٹی ڈپریشن ادویات صرف نفسیاتی طریقہ علاج (سائیکو تھیراپی) کے ساتھ ہی تجویز کی جاسکتی ہیں۔

20 سالہ جارج واٹکنس کو 15 سال کی عمر میں ایٹی ڈپریشن ادویات تجویز کی گئی تھیں جو اب تک جاری ہیں جبکہ ان دواؤں کے ساتھ کوئی دوسرا طریقہ علاج انھیں تجویز نہیں کیا گیا تھا۔

جارج واٹکنس کہتے ہیں ’میرے ڈاکٹر نے محض پانچ منٹ کی گفتگو کے بات مجھے اینٹی ڈپریشن لکھ کر دے دی تھی۔ مجھے مشاورتی علاج ( کاؤنسلنگ) یا اس قسم کا کوئی دوسرا علاج نہیں تجویز کیا گیا تھا بلکہ براہ راست دوائیں دی گئی تھیں۔‘

Image caption ڈپریشن کے زیادہ سنگین مرحلے میں بھی اینٹی ڈپریشن ادویات صرف نفسیاتی طریقہ علاج (سائیکو تھیراپی) کے ساتھ ہی تجویز کی جاسکتی ہیں

انگلینڈ کی حکومت کی دماغی صحت کی ماہر نتاشا ڈیوون کہتی ہیں کہ کم عمر افراد کے لیے ’مشاورتی علاج (ٹاکنگ تھیراپی)‘ تک رسائی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔

وہ بتاتی ہیں ’یقیناً یہ ایک مسئلہ ہے کہ اس طریقہ علاج کے لیے انتظار کی فہرست طویل ہے۔ اگر آپ خوش قسمت ہیں تو آٹھ ہفتے لگیں گے جبکہ عموماً یہ انتظار کئی مہینوں لمبا ہوتا ہے، اور اس دوران آپ کا تمام تر انحصار اینٹی ڈپریشن ادویات پر ہی ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اپنے پیشے کی غرض سے سکولوں کے دورے کے دوران انھیں معلوم ہوا کہ بچوں میں اینٹی ڈپریشن ادویات کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے جو باعث تشویش ہے۔ وہ کہتی ہیں’یہ صرف علامات کا علاج تو کرسکتی ہیں لیکن مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچ سکتیں۔‘

این آئی سی ای کے کلینیکل پریکٹس کے شعبے کے ڈائریکٹر پروفیسر مارک بیکر کہتے ہیں بچوں اور نوعمرجوانوں کی دماغی صحت پر کام کرنے والے اداروں تک رسائی ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے۔

برطانیہ کے رائل کالج آف جنرل پریکٹشنرز کی ڈاکٹر ربیکاپین کے مطابق ڈاکٹرز (جنرل فزیشنز) این آئی سی ای کے اصول و ضوابط کے پابند ہیں اور اینٹی ڈپریشن ادویات اب صرف اس مرض کے ماہرین کی سطح پر مریضوں کو تجویز کی جاسکتی ہیں۔

تاہم وہ تسلیم کرتی ہیں کہ یہ نظام ان بچوں کے لیے علاج مہیا کرنے میں دباؤ کا شکار ہے جن میں مرض کی علامت ایک حد تک پائی جاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’ابتدائی علامات کی نشاندہی اور علاج سکولوں میں موجود کاؤنسلرز کرسکتے ہیں جبکہ وہ افراد جن کا مرض اگلے مراحل میں داخل ہوچکاہے نفسیاتی ماہرین اور دماغی امراض کے ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ UCL
Image caption کاؤنسیلنگ کے ذریعے بہت حد تک بچوں کے ڈپریشن میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے لیکن اس کی کمی بھی ایک مسئلہ ہے

ڈاکٹر کرسچین بکمین کی سربراہی میں عالمی ادارہ صحت کے تحت کی جانے والی تحقیق کو مختلف ممالک کے لیے انتباہ کے طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ بچوں میں ڈپریشن کے مرض سے نمٹنے کے طریقہ کار پر نظرثانی کریں۔

ڈاکٹر سکسینہ کہتے ہیں بچوں میں کب، کیسے، اور کتنے عرصے تک اینٹی ڈپریشن ادویات کا استعمال کیا جارہاہے پر مزید تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں ’کئی سال تک مسلسل یہ نسخے تجویز کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

’نو عمر بچے اور نوجوان، عمر کے ان حصوں میں ہیں جہاں وقت کے ساتھ ان کی نمو ہوتی ہے اور وہ آگے بڑھتے جاتے ہیں اور اپنےڈپریشن کو بھی پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔‘

اسی بارے میں