دو بم دھماکے اور دو دوستوں کی المناک داستان

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption ڈینز عزتماز (دائیں) اور اوزنجان آقکوش (بائیں)

یہ تصویر بچپن کے دو دوستوں کی ہے جو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں دو مختلف دھماکوں میں ہلاک ہوگئے تھے۔ اتوار کو انقرہ میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد اس تصویر کو ترکی کے غم کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اوزنجان آقکوش اتوار کو اتقرہ کے علاقے کیزیلے میں ہونے والے بم دھماکے میں 36 دیگر افراد کے ساتھ ہلاک ہوگئے تھے۔

ان کے دوست علی ڈینز عزتماز بھی دس اکتوبر کو ترک دارالحکومت میں منعقدہ امن ریلی میں سینکڑوں افراد کے ساتھ شریک تھے جب وہاں بم دھماکہ ہوا۔

اس وقت ان کے دوست اوزنجان نے سوشل میڈیا پر اپنے بچپن کے دوست کی ہلاکت کی مذمت کی تھی اور انھیں خراج عقیدت پیش کیا تھا۔

انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا: ’وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔‘

لیکن اب اوزنجان کے اپنے سوشل میڈیا کے صفحات پر دیگر افراد کے جانب سے تعزیتی پیغامات دیے جارہے ہیں۔ ان کا اپنا فیس بک کا صفحہ جہاں پہلے ان کی اپنے دوستوں کے ساتھ ہنستی مسکراتی تصاویر تھیں اب وہاں دیگر افراد کی جانب سے پیغامات شیئر کیے جا رہے ہیں۔

ایک پیغام میں کہا گیا: ’کس نے سوچا تھا کہ تمہاری قسمت میں بھی ایسا ہی ہوگا؟‘

ایک اور میں کہا گیا: ’اچھے دل والے خوبصورت لوگو الوداع۔‘

سوشل میڈیا پر صرف اوزنجان کو ہی خراج تحسین نہیں پیش کیا جارہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ James Taylor Facebook
Image caption ایک فیس بک صارف نے اپنے پیغام میں ترکی کے ساتھ عالم گیر سطح پر یکجہتی کے اظہار کا مطالبہ کیا

کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا کو مختصر وقت کے لیے بلیک آؤٹ کرنے پر بھی تنقید کی۔ دیگر افراد نے سائبرسپیس کو ہمدردانہ اپیل کے لیے استعمال کیا۔

ایک فیس بک صارف نے اپنے پیغام میں ترکی کے ساتھ عالم گیر سطح پر یکجہتی کے اظہار کا مطالبہ کیا۔

انقرہ میں ہونے والے حملے کے چند گھنٹوں کے بعد انقرہ میں رہنے میں جیمز ٹیلر نے اپنے دوستوں سے کہا کہ وہ تصور کریں کہ کیا ہوتا اگر یہ حملے وہاں ہوتے جہاں ہم رہتے ہیں۔

یہ پیغام بہت جلد وائرل ہوگیا اور 65 ہزار سے زائد صارفین نے اسے شیئر کیا۔

پیر کو جیمز ٹیلر نے فیس بک پر پوسٹ کیا کہ انھیں حمایت میں جتنے پیغامات موصول ہوئے ہیں وہ اس کے شکر گزار ہیں۔

’نفرت کرنا آسان ہے۔ نظر انداز کرنا آسان ہے۔ پیار کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟‘

اپنی حالیہ ایک پوسٹ میں انھوں نے یہ دل خراش پیغام لکھا ہے کہ ’ہم پیرس ہیں، ہم انقرہ ہیں، ہم آئیوری کوسٹ ہیں لیکن سب سے بڑھ کر ہم سب انسان ہے۔‘

اسی بارے میں