بھکشوؤں میں موٹاپے کا ’ٹائم بم‘

Image caption موٹاپے کی بڑی وجہ وہ میٹھے مشروبات اور چربی والے کھانے ہیں جو عام لوگوں بھکشوؤں کو دیتے ہیں

تھائی لینڈ میں اس تحقیق کے بعد کہ نصف سے زیادہ بھکشو موٹاپے کا شکار ہیں، ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد بدھ مت کے کٹر پیروکاروں میں موٹاپا کم کرنے کے لیے انھیں صحت مند خوراک کی جانب راغب کیا جا رہا ہے۔

بنکاک کی مرکزی یونیورسٹی سے منسلک صحت اور خوراک کی ماہر جونگجیت آنگاتوانچ کا کہنا ہے کہ بنکاک کے 48 فیصد بھکشو موٹاپے کا شکار ہیں۔

ڈاکٹر جونگجیت آنگاتوانچ کی جانب سے اس انتباہ کہ ’بھکشوؤں میں موٹاپا کسی ٹائم بم سے کم نہیں‘ کے بعد ملک کے مذہبی رہنما پریشان ہو گئے ہیں۔

صحت اور خوراک کی ماہر کے مطابق ان کی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ 42 فیصد بھکشو ایسے ہیں جن میں کولیسٹرول کی سطح معمول سے بہت زیادہ ہے، 23 فیصد انتشار خون کے مریض ہیں اور دس فیصد سے زیادہ کو ذیابیطس ہو چکی ہے۔

اگرچہ ڈاکٹر جونگجیت نے یہ نہیں بتایا کی انھوں نے کتنے بھکشوؤں پر تحقیق کی، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ قومی سطح پر ایک منصوبہ شروع کر رہی ہیں جس کا مقصد تھائی لینڈ کے مذہبی لوگوں کو موٹاپے سے نجات دلانا اور انھیں چاک و چوبند بنانا ہے۔

چونکہ تھائی لینڈ کی معاشرتی اور مذہبی زندگی میں بھکشو اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے حکومت ہمیشہ بھکشوؤں کو صحت کی مفت سہولتیں فراہم کرتی رہی ہے۔ اس شعبے میں حکومت کے اخراجات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ 2012 میں بھکشوؤں میں دیرینہ موٹاپے کا مقابلہ کرنے کے لیے 85 لاکھ امریکی ڈالر صرف کیے گئے۔

ڈاکٹر جونگجیت کا کہنا تھا کہ بھکشوؤں میں موٹاپے کی سب سے بڑی وجہ وہ میٹھے مشروبات اور چربی والے کھانے ہیں جو بھکشوؤں کو عام لوگوں کی جانب سے خیرات کیے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر جونگجیت اور ان کی ٹیم ملک میں ایک مہم شروع کر رہی ہے جس میں مذہبی لوگوں میں چاک و چوبند زندگی کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی۔

اس مہم کے تحت ملک میں بدھ مت کے ایک مدرسے اور چار مندروں کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں ایسے کھانے متعارف کرائے جا رہے ہیں جن میں چربی کی بجائے فائبر، پروٹین (لحمیات) اور کیلشیم کی مقدارزیادہ رکھی جا رہی ہے اور بھکشوؤں کو جسمانی ورزش کی جانب بھی راغب کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر جونگجیت نے بتایا کہ ان مندروں اور مدرسے میں صحت مند خوراک اور طرز زندگی کی مہم شروع کیے ہوئے اگرچہ تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے، تاہم اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اور آٹھ ہفتوں کے اندر اندر بھکشوؤں کے وزن میں اوسطاً ایک کلوگرام سے زیادہ کی کمی ہو چکی ہے اور ان کے پیٹ آدھا انچ کم ہو چکے ہیں۔

کچھ بھکشوؤں نے شکایت کی ہے کہ انھیں معلوم نہیں کہ ان کے وزن میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس شکایت کو دور کرنے کے لیے بنکاک کے ایک ہسپتال نے کمر کے گرد باندھنے والی ایسی خصوصیاں پیٹیاں بھی متعارف کرائی ہیں جن کے استعمال سے بھکشووں کویاد دہانی ہوتی رہے گی کہ انھیں اپنے پیٹ کو قابو میں رکھنا ہے۔

اسی بارے میں